| زبور عجم غزل ۱۸ شعر آخری تین | ZB | |
| یک موج اگر خیزد آن موج ز جیحون به | در جُوی روانِ ما بی منت طوفانی | شعر ۱ |
| یک موج ایک لہر اگر اگر خیزد اٹھے آن موج وہ موج ز جَیحون به
جَیحون دریا سے بہتر ہے ایک لہر بھی اٹھے تو وہ لہر جیحون دریا سے بھی بہتر ہے |
در میں جُوی روانِ بہتی ندی ما ہماری بی منت بلا احسان طوفانی کسی طوفان کے
ہماری بہتی ندی میں بغیر کسی طوفان کا احسان اٹھائے |
ترجمہ |
| بہتی ندی سے داخلی تحریک مراد ہے جب کہ طوفان سے خارجی تحریک ، تو مراد یہ ہے کہ اپنی باطنی تحریک یا اپنی روایت کی بنیاد پر پیدا ہونے والی تھوڑی بہت لہر یعنی تھوڑی حرکت باہر کی تحریک کے زیر اثر اٹھائے گئے دریا سے بھی بہتر ہے ۔ | مطلب | |
| این خانه بر اندازی در خلوت هامون به
|
سیلی که تو آوُردی در شهر نمی گنجد
|
شعر۲ |
| این یہ خانه بر اندازی خانہ بربادی کرنے والا در خلوت هامون به صحرا کی تنہائی کے لیے بہتر ہے
اس گھر برباد کرنے والے عشق سے صحرا کی تنہائی بہتر ہے |
سیلی که وہ سیلاب جو کہ تو آوُردی تو نے لایا ہے در شهر شہر میں نمی گنجد نہیں سماتا
وہ سیلاب جو تو نے لایا ہے، شہر اس کی وسعت نہیں رکھتا |
ترجمہ |
| سیل سے مراد عشق ہے اور شہر سے مراد ، عام دنیا دار لوگ ہیں تو مطلب یہ کہ جو طوفان تم نے برپا کر دیا شہری لوگ اس کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ہاں اس کے لیے صحراؤں کی وسعت رکھنے والے دلوں کی ضرورت ہے | مطلب | |
| سودا بدماغش زد از مدرسه بیرون به
|
اقبال غزل خوان را کافر نتوان گفتن
|
شعر۳ |
| سودا جنون بدماغش زد اس کے دماغ میں ہے از مدرسه بیرون به مدرسے سے باہر رکھا جائے
البتہ اس کے دماغ میں وہ جنون ہے کہ بہتر ہے اسے مدرسے سے باہر ہی رکھا جاے
|
اقبالِ اقبال غزل خوان را غزل گو کوکافر کافر نتوان گفتن کہا نہیں جا سکتا
اقبال غزل گو کو کافر تو کہا نہیں جا سکتا
|
ترجمہ |
| اقبال کے فکر و کلا م میں اگرچہ کفر تو نہیں پایا جاتا کہ اسے کافر قرار دیا جائے البتہ اس کے سر میں عشق کا سودا سمایا ہے۔اس لیے اسے مدرسے سے باہر ہی رکھنا بہتر ہے کہ کہیں اس کا سودا اور جنون دوسروں خصوصاً اہل مدرسہ کو متاثر نہ کرے | مطلب | |
| شعر ۴ | ||
| ترجمہ | ||
| مطلب | ||
| لغت | ||
