مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف کراچی میں جے یو ائی سمیت مختلف جماعتوں کی جانب سےشارع فیصل اور نیشنل ہائی وے سمیت کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا جس سے شہر میں کئی گھنٹے تک بدترین ٹریفک جام رہا، مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے ساتھ پولیس کی شیلنگ، دن بھر انکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔
شارع فیصل پر نرسری کے مقام پر احتجاج کے باعث نرسری سے ایف ٹی سی تک ٹریفک کی روانی شدیدمتاثر ہوئی ۔5 ہزاروں شہری گاڑیوں میں پھنسے رہے اور پیدل چلنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا رہا۔
ہفتے کے روز کراچی کی مختلف شاہراہوں پر مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا جارہاہے۔
کراچی میں شارع فیصل کارساز پر بھی جے یو آئی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کا احتجاج جاری رہا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر شیلنگ کی جس دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر مظاہرین نے ٹول پلازہ پر بھی احتجاج کیا جس سے کراچی حیدرآباد موٹر وے پر ٹریفک معطل ہوگئی۔
پروازوں کا شیڈول بھی متاثر
شارع فیصل پر احتجاج کی وجہ سے مسافروں کو کراچی ائیرپورٹ پہنچنے میں دشواری کا سامناہے جس وجہ سے فلائٹ شیڈول بری طرح متاثر ہواہے۔
فلائٹ شیڈول متاثر ہونے سے کراچی سے دبئی، کراچی سے مسقط، کراچی سے لاہور اور کراچی سے اسلام آبادکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔
سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنیوالے متعدد مظاہرین گرفتار
کراچی پولیس نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے قومی عوامی تحریک کے کارکنان کو حراست میں لے لیا، درجنوں کی تعداد میں قومی عوامی تحریک نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔
انتظامیہ نے سندھ اسمبلی میں نو منتخب ارکان کی تقریب حلف برداری کے باعث سکیورٹی انتظامات سخت کر رکھے تھے اور علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی اس کا اعلان رات گئے کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے احتجاج کرنے والے کارکنان منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج بھی کیا اور قومی عوامی تحریک کے 10 کارکنان کو حراست میں لے لیا جن میں خواتین کارکنان بھی شامل ہیں۔
Protest against rigging in Karachi. Worst traffic jam. many arrested including womenکراچی میں دھاندلی کے خلاف احتجاج۔بدترین ٹریفک جام۔خواتین سمیت متعدد گرفتار
