اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جو قلب کو گرما دے۔۔۔کلام اقبال زبور عجم سے ترجمہ

26

زبور عجم                                                                                                                            غزل                     ۱۸                                                                                                               شعر پہلے چار ZB
یک ذرهءِ دردِ دل از علمِ فَلاطون به بر عقَلِ فلک پیما تُرکانه شبیخون به شعر ۱
یک ذرهءِ ایک ذرہ دردِ دل درد دل کا  از علمِ فَلاطون به علم افلاطون سے  بہتر ہے

اس لیے  کہ علم افلاطون سے  درد دل کا ایک ذرہ بہتر ہے

بر اوپر عقَلِ فلک پیما   عقل آسمان ناپنے والی کے تُرکانه تُرکوں کی طرح کا شبیخون به شب خون مارو

  فلک پیما عقل  پر  عشق کا شب خون مارو

ترجمہ
عقل  اور علم پر عشق کی ترجیح   اس شعر کا موضوع ہے  اور پیچھے بھی ایسے شعر گذر چکے ہیں ۔ کہتے ہیں وہ عقل جو آسمانوں تک رسائی رکھتی ہے اس پر  شب خون مارو یعنی اسے عشق (دردِ دل ) کے آگےزیر کرو   ، علم افلاطون سے مراد فلسفیانہ علم ہے  تو باوجود اپنی افادیت کے عشق کے آگے اس کی کوئی حیثیت نہیں   بلکہ اس سے عشق بہتر ہے۔ مطلب
اَشکی که فُرو خُوردی از بادهٔ گُلگُون به دِی مُغبَچَّه ئی با مَن اَسرارِ مَحبت گُفت شعر۲
اَشکی که  جو چند آنسو  فُرو خُوردی تو پی جاتا ہے  از سے

  بادهٔ گُلگُون شرابِ سرخ سے   به بہتر ہے  

کہ وہ چند آنسو جو تم اندر ہی اندر پی جاتے ہو   شراب گلفام سے بہتر ہیں  

دِی کل مُغبَچَّه ئی ایک لونڈے نے با مَن مجھ سے اَسرارِ مَحبت محبت کے راز گُفت کہے

کل میخانے کے خادم لڑکے نے مجھ سے اسراِ ر محبت بیان کیے

ترجمہ
مغبچہ ، شراب خانے  کے ویٹر کو کہتے ہیں لیکن یہ کنایہ ہے شراب حقیقت پلانے والے یعنی عارف سے ، آنسو پینا ، کنایہ ہے ضبط احوال سے  ، تصوف میں اس سے  مراد ہے ہر حال میں   ثابت قدم رہنا، شراب  کہا  معرفت کی نکتہ آفرینیوں کو  ، تو  کل ایک  عارف نے مجھ سے کہا کہ    آنسو پینا  یعنی اپنے احوال کی  درستی پر کاربند رہنا  ، شراب یعنی مقالات  سے کہیں بہتر ہے(ماخوذ از چشتی) مطلب
از شَوکتِ دارا بَه از فَرِ فَریدون به آن فَقْر که بی تیغی صد کِشوَرِ دل گیرَد شعر۳
از شَوکتِ دارا دارا  کی شان و شوکت  بَه برتر ہے

از فَرِ فَریدون (شاہ )فریدون  کے کرو فر  به سے بہتر ہے

دارا کی شان و شوکت اور فریدون کے کرو فر سے بہتر ہے

آن فَقْر که وہ فقر جو کہ  بی تیغی بغیر کسی تلوار کے صد سو

 کِشوَرِ دل سلطنت دل  گیرَد لے لیتا ہے

وہ فقر کہ جو بغیر  تلوار کے دلوں کے  سینکڑوں  ملک فتح کر لیتا ہے

ترجمہ
فَقر  کا لغوی معنی احتیاج  متضاد غِنَی  ہے  ۔    علامہ کے  ہاں فقر  ایک اصطلاح ہے۔ چشتی صاحب کے بقول اس اصطلاح کا پہلا استعمال  زبور عجم ( ۱۹۲۸ ) میں ہوا پھر جاوید نامہ (۱۹۳۲ ) مثنوی مسافر (۱۹۳۴ ) بال جبریل (۱۹۳۵ ) ضرب کلیم اور  مثنوی پس چہ باید کرد  (۱۹۳۶) اور ارمغان ِ حجاز  (۱۹۳۸ )   میں   اس کی جا بہ جا تفصیل کی جاتی رہی۔  فقر سے مراد عبودیت کاملہ کے رتبے پر فائز ہو جانا ہے۔ یعنی بندہ اپنی ’’ خودی   کو  اتنا بلند  ‘‘ کر لے کہ مادی اور دنیاوی علائق سے اوپر اٹھ کر  اپنے خالق سے تعلق بنا لے ۔پھر وہ اپنے  ہر ارادہ اور قول و عمل میں اللہ کی رضا  اور پسند و ناپسند کا محتاج ہو جائےتو یہی عبدیت کاملہ اور فقر ہے۔ چشتی صاحب نے   اقبال کے اس تصور کو حدیث ((اَلْفَقْرُ فَخْرِي))  ’’فقر ہی میرا فخر ہے ‘‘  سے ماخوذقرار دے کراسے  عبودیت کے معنی میں لیا ہے۔ اگرچہ   محدثین کے  ہاں یہ روایت  غیر ثابت ہے  البتہ  عبودیت کا  باعث افتخار ہونا ، ایک حقیقت ہے۔ ابن ماجہ کی صحیح روایت میں آتا ہے( أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ) ’’ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔اس کی وضاحت میں    بعض علما نے کہا لا أفتخر بالسيادة, وإنما فخري بالعبودية ’’ مجھے سیادت پر فخر نہیں بلکہ میرا فخر تو عبودیت  پرہے‘‘   اس شعر میں فقر  کی صفت بیان کی  گئی  کہ  یہ دلوں کو فتح کر لیتا ہے اور دوسری یہ کہ  چوں کہ اس میں استغنا پایا جاتا ہے اس کے سبب یہ بادشاہوں سے زیادہ  رتبہ رکھتا ہے ۔ فقر اگر حقیقی ہو تو اس کے در پر بادشاہوں کو جھکتے بارہا دیکھا گیا لیکن حقیقی   فقرکبھی بھی  کسی حاکم کے در پر نہیں پایا گیا ۔ مطلب
در خانقَه ِصوفی افسانه و افسون به در دَیر مُغان آئی مَضمون بُلند آوَر شعر ۴
در خانقَهِ  صوفی صوفی کی خانقاہ  میں افسانه قصے کہانیاں و اور افسون سحر و جادو به بہتر ہیں

کہ صوفی کی خانقاہ میں قصے کہانیاں  اور جادو سامانیاں ہی بہتر سمجھے جاتے ہیں

در دَیر مُغان روحانیت کے عبادت خانے میں   آئی تو آتا ہے

 مَضمون بُلند آوَر تو  بلند خیالی لے کر  آ

اگر تو  عبادت خانہ روحانیت میں آیا ہے تو بلند خیالی و مقصد لے کر آنا

ترجمہ
دیر مغاں ،  ہی کو  دوسرے مصرعے میں  خانقاہ صوفی سے تعبیر کیا گیا ۔  صوفی کی خانقاہ میں  قصے کہانیوں  اور سحرو جادو اور شخصیت پرستی  ہی کو بہتر سمجھا جاتا ہے، چشتی صاحب نے لکھا کہ یہ وہ خانقاہیں  ہیں جہاں زیادہ زور ’’جلب منفعت ‘‘  پر رہتا ہے ۔   بعض علما نے ان  کو  صوفیائے رسوم قرار دیا ہے  جن کا تصوف سے تعلق ظاہری حلیے  تک ہے ۔ان حالات میں جو کوئی روحا نیت کی تعلیم چاہتا ہے تو اسے بلند خیالی اور اعلی ہمتی سے کام  لے کر  ،  صوفیائے رسوم سے بچ کر  حقیقی صوفیا  اور اصحاب ِ فقر کو تلاش کرنا ہو گا مطلب
به :براے تعدیہ ، آغاز ، ربط فعل ،  کے علاوہ، تقابل اور مزید کئی معنوں میں  آتا ہے دِی : دیروز ، گذشتہ کل کا مخفف: مُغان:اصل میں زَردتُشت مذہب کا ایک روحانی قبیلہ  جو ایک خاص  شراب بھی پیا کرتے تھے ۔ مختلف تراکیب میں یہ لفظ،  شراب خانے ، عبادت خانے، روحانیت اور زردتُشت وغیرہ کے  لیے  استعمال ہوتا ہے لغت


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481