اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پہاڑی زبان و ثقافت کا دن ہر سال 14 اپریل کو منانے کا اعلان کر دیا گیا

FB IMG 1708583524668

 

پہاڑی زبان و ثقافت کا دن ہر سال 14 اپریل کو منانے کا اعلان کر دیا گیا

رپورٹ: ڈاکٹر الیاس خالد

جموں کشمیر ٹی وی پر مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پرخواجہ کبیر احمد کی میزبانی میں نشر ہونے والے پروگرام (جس میں ریاست جموں کشمیر کے دونوں حصوں اور دنیا کے مختلف ممالک سے پہاڑی زبان بولنے اور لکھنے والے احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی) میں پہاڑی زبان کے معروف ادیب اور "جاسوس” جیسے کلاسیکی ناول کے خالق علی عدالت اور سردار آفتاب خان نے اعلان کیا کہ پہاڑی زبان و ادب کی اہم شخصیات سے مشاورت کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ برطانیہ اور یورپ سمیت وادی کشمیر، ہندوستان اور پاکستان میں ہر سال 14 اپریل کو پہاڑی زبان و ثقافت کا دن منایا جائے گا۔

علی عدالت نے کہا ۔۔۔
"14 اپریل کو پہاڑی زبان بولنے والے دنیا کے جس خطے میں بھی ہوں پہاڑی زبان کے فروغ کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام کریں۔ سیمینار، کانفرنسوں، مشاعروں اور ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کریں اور پہاڑی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے سال بھر کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ سکولوں میں پہاڑی زبان پڑھانے کا آغاز کریں۔  پورے سال کے دوران مختلف علاقوں میں ورکشاپوں کا انعقاد کریں اور مختلف برادریوں اور لہجوں کے درمیان خلیج کو ختم کریں کیونکہ پہاڑی زبان و ثقافت کو کوئی سرحد نہیں روک سکتی ۔”

پروگرام کے شرکاء نے کہا کہ عظیم ہمالیہ کی پہاڑی وادیوں کے دل سے جڑی ہوئی ایک تاریخی زبان "پہاڑی” کا جشن منانے کے لیے مادری زبانوں کے عالمی دن کے اس پر مسرت موقع پر سب اپنی ماں بولی کو عزت و تکریم اور پہچان دینے کے لیے متحد ہیں۔ یہ ہمارا ایک ایسا لسانی جوہر ہے جو برطانیہ سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی پہاڑی زبان بولنے والے بستے ہیں ان کا سرمایہ افتخار اور پہچان ہے۔

پہاڑی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ ہڑپہ تہذیب کے دوران قدیم بدھ خاندان کی زبان تھی۔ شاہ اشوک نے خود پہاڑی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ شاردا، نیلم ویلی، آزاد جموں و کشمیر میں جنوبی ایشیا کی پہلی یونیورسٹی قائم کی اور پہاڑی کو اس کی سرکاری زبان کے طور پر اپنایا گیا۔

پہاڑی زبان الفاظ سے زیادہ ہمارے مشترکہ ورثے کا روحانی اظہار ہے۔ پہاڑی زبان و ادب سیاسی حدود سے بلند ہے۔ یہ ریاست جموں و کشمیر کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی ایک بڑی آبادی کی مادری زبان ہے۔ پہاڑی زبان ان تمام قبیلوں اور قومیتوں کے انسلاک کا ذریعہ ہے جو ماں بولی کا مشترکہ رشتہ رکھتے ہیں۔

آج گلوبلائزیشن کے عہد میں سرکاری مواصلات، تعلیم اور میڈیا طاقتور زبانوں کے زیر اثر ہیں۔ لیکن مشکلات کے باوجود ہمارے ادیب، شاعر، فنکار اور پہاڑی زبان و ثقافت کے عوامی و سماجی علمبردار اپنی ماں بولی کی بقا اور ترویج کے لیے ان تھک کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں اور ان کی آواز اب مشرق وسطی، برطانیہ، یورپ اور نارتھ امریکہ تک پہنچ رہی ہے۔ اگر ہمارے سیاسی نمائندے بھی ان کوششوں میں شامل ہوتے اور سرکاری اکیڈمیاں اور ادارے قائم ہو جاتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔

پروگرام کے شرکاء نے تمام پہاڑی ماں بولی کے بیٹوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی تاکہ پہاڑی زبان، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے لیے اپنے اہل قلم کے ساتھ مل کر ایک کاروان تشکیل دیا جائے۔ ادارے قائم کیے جائیں۔ لائبریریاں اور ریسورس سینٹر قائم کیے جائیں اور تحقیقی کام کو آسان بنایا جائے تاکہ محققین پہاڑی زبان کی تاریخ، ادب کی مختلف اصناف اور سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہونے والے ادب کو تحریری صورت میں منظر عام پر لانے کے لیے عملی کام کریں۔

پہاڑی زبان اپنی ایک منفرد تاریخ رکھتی ہے۔ یہ ہمارا ایک ایسا ورثہ ہے جو ہمیں خود سے ملاتا ہے ہمیں اپنی جڑوں سے منسلک کرتا ہے۔ آئیے ہم اپنی ماں بولی کے ایک ایک لفظ کو محفوظ بنا کر اپنے آباؤ اجداد کو حقیقی خراج عقیدت پیش کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپنی زبان، ادب اور ثقافت کے ساتھ مربوط و منسلک کریں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481