اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سپریم کورٹ کے 6 فروری کے فیصلے پرمنفی پراپیگنڈے کا انکشاف

سپریم کورٹ،توہین قرآن اور قادیانیت کی ترویج کی دفعات حذف کرنے کا حکم

 

سپریم کورٹ کے 6 فروری کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس میں عدالت نے محض 2019 کے ایک مقدمے میں 2021 کے قانون کی دفعات لگانے کو غلط قرار دیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ زیر سماعت معاملے میں 2021 کا قانون ایک ایسی کتاب پر لاگو کیا جا رہا تھا جو 2019 میں شائع ہوئی تھی۔سپریم کورٹ نے پابندی کی شکار کسی کتاب کی اشاعت اور تقسیم کی اجازت نہیں دی، سپریم کورٹ نے یہ ہدایت اور تجویز بھی دی تھی کہ ایسے حساس معاملات پر بہت احتیاط کے ساتھ، قانون اور اسلام کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے۔

قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کو کسی ایسے جرم پر سزا دی جائے جس کا جب ارتکاب کیا گیا تب وہ جرم نہیں تھا۔ اگر پابندی کی شکار کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر یہ قانون لگایا بھی جائے تو اس جرم کی سزا 6 ماہ بنتی تھی جبکہ جس شخص پر یہ قانون لگایا جا رہا تھا وہ پہلے ہی 13 ماہ سے جیل میں ہے۔

 

سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں سیکشن 298 سی اور 295 بی لاگو نہیں کی جا سکتیں کیونکہ ابتدائی چالان میں ان شقوں کا ذکر بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں ایسی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو ان قوانین کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منفی اور ہیجان انگیز خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

Disclosure of negative propaganda on Supreme Court’s February 6 decision


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481