اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نامور صحافی نذیر ناجی یادداشت کھو بیٹھے

7f147efb 2acb 477c 8d68 27a77644401f

یہ محض حسن اتفاق تھا یا انسانی خواہشات اور ارادوں کے کسی ماورائے عقل تصرف کا کرشمہ ۔ میرےلئے یہ فیصلہ مشکل ہے۔پچھلے کچھ روز سے نذیر ناجی کو دیکھنے انہیں ملنے ، ان سے باتیں کرنے کی خواہش دل میں سر اٹھا رہی تھی ۔۔ نذیر ناجی سے میرا تعلق ماضی میں بھی میری سرکاری ضروریات کا مرہون منت نہیں تھا۔ مشرف کے حکومت پر قبضہ کی شام کے بعد پرائم منسٹر ہاؤس میں “ہم اسیری “کے ایام اس تعلق میں ایک نئی جہت کے اضافے کا باعث ثابت ہوئے۔ ملاقات کی خواہش میں اس واقعے کی یاد تازہ کرنے کی للک بھی شامل تھی۔
جمخانہ لاہور کے کیفے نائن میں پہنچ کر نشست کی تلاش میں تھا کہ ایک نوجوان نے قریب آکر ادب سے سلام کیا اور احوال پوچھا۔ “میں سرمد ناجی ہوں ۔ آپ کے ایک پرانے دوست باہر برآمدے میں بیٹھے ہیں۔ آپ ان سےملنا چاہیں گے ”۔میں اتنے میں سرمد کو پہچان چکا تھا ۔ اس کی معیت میں باہر نکلا تو سامنے ایک کونے میں نذیر ناجی اپنی عمر کی ایک خاتون کے ساتھ بیٹھے نظر آگئے۔ میں جان گیا کہ یہ ناجی صاحب کی اہلیہ اور سرمد کی والدہ ہیں ۔ ہم پچاس برس سے زیادہ شناسائی اور تعلق کے رشتے میں بندھے دو افراد تقریباً” دس برس بعد اک دوسرے سے مل رہے تھے۔

آنے والے کی توقع بے جا نہ تھی کہُ بلانے والا اسے اٹھ کر ملے گا ، گلے لگا کر ، بھرپور معانقے کے بعد حسب روایت حال احوال دریافت کرے گا، جسمیں شاید اتنے برسوں کے دوران ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے نہ ملنے کے شکوے اور شکایتیں بھی شامل ہوں گی۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا ، ۔۔۔ میں کچھ دیر تک انکو دیکھتا رہا۔ حیرت اور استعجاب کے شدید احساس کے ساتھ ۔ نذیر ناجی نے مجھ سے ہاتھ ملایا تو میں خواہش اور کوشش کے باوجود ان کی آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے چہرے پر ایک معصوم مگر بے تعلق مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ وہی مسکراہٹ جو دو یا تین برس کے بچوں کے چہرے پہ دکھائی دیتی ہے۔

میری طرف سے خیریت طلبی کے جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا مجھ تک پوری طرح پہنچ نہ پایا ،لیکن لہجے کی اجنبیت یہ خبر دینے کے لئے کافی تھی کہ سب خیریت نہیں ہے۔ مجھے یہ لگا کہ جیسے وہ کسی اور عالم میں مجھ سے نہیں کسی اور سے مخاطب ہیں۔ تب سرمد نے یکایک سرگوشی کہ “ابو کی یادداشت باقی نہیں رہی۔ یہ کسی کو نہیں پہچانتے۔ ہمیں بھی نہیں۔ اب انہیں کچھ یاد نہیں ۔ سب کچھ بھول چکا ہے انہیں۔۔ شاید اپنا نام بھی۔ “ سرمد یہ تفصیلات نہ بھی بتاتا تو میں اسکے ابو کی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ الزائمر کے ہاتھوں اس کے ہدف پر کیا گزرتی ہے اسکی تفصیل کچھ روز پیشتر برادرم نعیم طاہر کی زبانی سن چکا تھا۔ یاسمین طاہر ان دنوں اسی کیفیت سے گزر رہی ہیں۔ (باقی پھر۔۔)

Renowned journalist Nazir Naji lost his memoryنامور صحافی نذیر ناجی یادداشت کھو بیٹھے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481