اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہارنے والے امیدواروں کی خدمت میں چند معروضات

FaceApp 1707328750973 1

چلیے خدا خدا کر کے ٹھنڈا ٹھار الیکشن تمام ہوا۔ کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ عوام کو ان کی اوقات میں سیاست دانوں کو ان کی حد میں یا پنجرے میں رکھا جاتا ہے۔ عوام کیوں کہ بلڈی سویلین ہیں اس لیے ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں اور سیاست دان چوں کہ قابل خرید جنس (کموڈیٹی) ہیں اس لیے ان کی خرید و فروخت اور ٹشو پیپر کی طرح استعمال کے بعد بے توقیری پون صدی سے جاری ہے۔

جو امیدوار الیکشن جیت گئے ہیں ان کی آزمائش کے دن شروع ہونے لگے ہیں۔ خلائی مخلوق انتخابات کے نتائج کی انجینئرنگ میں مصروف ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی مرضی کا ورکنگ فارمولا تیار کر لیتے ہیں۔ حافظ دواخانہ کی معجون مشکل کو ویسے بھی وطن عزیز کی ہر بیماری کی دوا کے طور پر پون صدی سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔

جن امیدواروں کو عوام کی پذیرائی نہیں مل سکی ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ انھوں نے اپنے مفادات کے لیے سیاست کرنی ہے یا عوام اور علاقے کی خدمت کے لیے۔ اگر انھیں اپنے مفادات عزیز ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حافظ دواخانہ رجسٹرڈ کے ممبر بن جائیں۔ ان کو سیاسی فلم میں کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی کردار دے دیا جائے گا۔ رہ گیا ضمیر تو اسے بوٹوں کے نیچے کچل کر مار دیا جائے گا، آپ کو اس کی فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

ہاں اگر آپ ضمیر کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، عوام اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست کو خدمت اور عبادت سمجھ کر اختیار کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو کر اپنے ساتھ عہد کریں ۔۔۔۔

میں اپنی سابقہ کوتاہیوں پر سخت نادم ہوں۔ میں آج سے سیاست دان کے بجائے لیڈر بن کر اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کروں گا۔ میری ترجیح آئندہ انتخابات نہیں، آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہو گا۔

آپ اپنے علاقے کے مسائل کی فہرست تیار کریں۔ ان کو ترجیحات کے لحاظ سے ترتیب میں لائیں۔ اور ان کے حل کے لیے اپنا منشور مرتب کریں۔

خدا کا نام لے کر پہلے چار مسائل پر کام شروع کر دیں۔ چاروں شعبوں کی الگ الگ ٹیمیں تشکیل دیں۔ ٹائم فریم کے مطابق سب کو ٹارگٹ دیں۔ یقین جانیے چار سال میں یہ مسائل مکمل حل نہ بھی ہوئے تو اسی فی صد تک یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگلے الیکشن میں جاتے ہوئے آپ اس قابل ہوں گے کہ صرف عوام کو مطلع کر دیں کہ آپ کو فلاں نشان ملا ہے۔ کسی جلسے، کسی تقریر اور کسی ریلی کی ضرورت درپیش نہیں آئے گی۔

 

راشد عباسی 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481