اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قصہ "بھائی” کے دور کا

14

ام عزوہ

بھئی کل جانا ہے نا ووٹ دینے؟؟ارے خود ہی جانا ہے ویسے تو????۔

ہمارا علاقہ بھائی لوگوں کا ہے۔۔ تو جب بھائی لوگوں کا عروج تھا تو مفت میں گاڑی فراہم کر دی جاتی تھی۔گھر گھر سے زبردستی وہ باجی خالہ آئیں چلیں کا شور کرتے اور مفت میں ہمیں پہنچاتے بھی اور گھر بھی واپس چھوڑتے۔اللہ بخشے ہم انہی کی سواری میں بیٹھ کر آرام سے اپنا مرضی کا ووٹ دیتے آئے ہیں۔جب ہم زندگی میں پہلی بار ووٹ دینے کے اہل قرار پائے توعین اسی دور میں بھائی لوگوں نے نظریں ٹیڑھی۔۔۔میرا مطلب ہے گہری کر لی تھیں????۔۔ہمارے علاقے میں دھمکی نما درخواستیں تھیں کہ بس ووٹ دینا ہے تو انہی کو۔۔۔ہم اپنی بہن کے ساتھ پہلی پہلی بار جب

ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے تو دھاندلی کے وہ مظاہر دیکھے کہ بس۔۔۔حالات کی سنگینی کا احساس کیے بنا ہم پر ایمانداری کا بھوت سوار رہا۔۔۔ایک خاتون نے ہمیں بچہ سمجھتے ہوئے پرچی اور اسٹامپ دے کر بچوں کی طرح پچکار کر کہا بس ادھر ٹھپہ لگانا ہے اور یوں کر کے باکس میں ڈال دینا ہے۔۔ہم اکھڑ گئے۔۔۔کہا آنٹی جی آپ ہٹیں اور ہمیں اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ کرنے دیں۔۔ وہاں کھڑے ٹولے کی آنکھوں میں غضب دیکھتے ہوئے بھی ہم نے اپنا ووٹ اپنی مرضی سے کاسٹ کیا اور بڑے کوئی بہادر بنتے گھر پہنچے۔۔ہم تو گھر آگئے ابو جی تک دھی رانی کی خبر پہنچ گئی۔۔ جب بات محلے میں پھیلی کہ فلاں کی فیملی نے نہ صرف بھائی کو ووٹ نہیں دیا بلکہ سنا کر بھی گئی ہیں۔۔۔اس وقت ان کی ایک دہشت ہوتی تھی۔۔۔اور ہم بھلے ان کی دہشت سے نا ڈرتے ہوں ابو جی کی جو گھر میں قیادت اور دہشت کا عالم تھا۔۔۔اس سے ہماری حالت کا نا پوچھیں????????۔۔۔ ابو جی سے کیسی درگت بنی۔۔۔وہ الگ کہانی ہے ۔۔خیر یہ ہمارا پہلا تجربہ ووٹنگ کا کچھ یوں رہا تھا۔۔

ایک شروع کا دور تھا جب لوگ بھائی کے دیوانے تھے۔۔۔ایک تحریک تھی ایک ان کی آواز تھی کہ ہم مہاجروں کو حقوق دیں گے۔۔نوجوان ان کی لہو گرماتی تقریر پر فدا تھے۔۔سنا ہے لڑکیاں ان کے جھنڈے کے رنگوں کی چوڑیاں اور دوپٹے پہن کر جلسوں میں آتی تھیں۔۔۔کچی آبادی کا وہ بھائی ان کے دلوں میں دھڑکنے لگا تھا جس نے سب سے زیادہ ووٹ بھی ادھر سے ہی لیا اور اپنے ہی لوگوں کا سب سے زیادہ حق غصب کیا۔۔۔لوگ خالی ہاتھ رہ گئے۔۔۔اب دیکھتی ہوں۔۔ ایک بار پھر ایک نئی گونجتی ہوئی آواز ہے۔۔جو انہی کچی ابادی کے نوجوانوں کے دلوں میں دھڑک رہی ہے۔۔۔حافظ نعیم الرحمن کی۔۔جب بنو قابل کا پروگرام اس آبادی میں منعقد کیا گیا تو ساڑھے تین ہزار کرسیاں بھر گئیں اور دریوں پر بھی بچوں کو بٹھا کر ان سے ٹیسٹ لیے گئے۔۔۔۔گیس کا مسئلہ ہو، بجلی کا مسئلہ ہو ۔۔۔ٹیکس پر آواز اٹھانے والے۔۔۔۔۔غض یہ کہ تمام آوازیں انہی کی ہیں۔فرق یہ ہے کہ کام کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔۔۔یوں کراچی کی آواز بن کر ابھر رہے ہیں حافظ صاحب۔۔لوگوں کو یہ یاد نہیں ہے کہ حافظ صاحب کس جماعت کے ہیں ۔۔اس جماعت کی خوبیاں خامیاں کیا ہیں۔۔ لوگ حافظ صاحب کی اپنے لیے آواز اٹھاتی فکر، کراچی کے حق میں بولتی زبان کو دیکھتے ہوئے حافظ صاحب کے دیوانے ہیں۔ وہ اپنے کراچی کو سنوارنے کے لیے،اپنے مظلوم شہر کی دادرسی کے لیے اگر کسی شخص کو اس کا اہل سمجھتے ہیں تو وہ صرف حافظ نعیم الرحمن ہیں۔جوان جذبوں کے ساتھ جوانوں کے دلوں کی دھڑکن رب انہیں عزت دے۔۔رب انہیں سرخرو کرے۔۔۔ہمیں اپنے اس مظلوم شہر سے عشق ہے جس کے درد کا درماں کوئی نہیں۔۔تو کراچی کی محبت میں کل کا دن ہولی ڈے کے طور پر منانے کے بجائے میرے شہر کے پیارو!! ضرور نکلیے گا اور ووٹ کاسٹ کیجئے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481