اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

’’عشق اُڈاری ۔۔۔پُھل پھلواری ‘‘

"Ashk Udari. Phul Phalwari"

  ’’عشق اُڈاری ۔۔۔پُھل پھلواری ‘‘

بلند، برف پوش، سربفلک پہاڑوں کے وسنیکوں کا اپنا ایک مزاج اور انداز ہوتا ہے۔ یہی مزاج، انداز غالباً کہیں ہسٹری کہلاتا ہے اور کہیں کیمسٹری۔ پہاڑی طرز زیست میں جہاں چڑھائیوں، کھائیوں کو پھلانگنا ٹاپنا پڑتا ہے وہیں یخ برفیلی ہواؤں اور لہو جما دینے والی سردی سے بچنے کے لیے آگ سے ربط ضبط بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ آگ پہاڑی زندگی میں کہیں ’’الاؤ‘‘ ہوتا ہے تو کہیں ’’مچ ‘‘ اور کہیں کہیں ’’لواخ‘‘۔ جی ہاں وہی لواخ جسے بنیاد بنا کر اختر رضا سلیمی نے خوبصورت کہانی تخلیق کی ہے۔جلتی بلتی آگ۔۔۔۔  جی ہاں یہی جلتی بلتی آگ جب انسانی وجود کے اندر بھانبڑ اٹھاتی ہے تو اس کا آؤٹ پٹ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کہیں یہ بغاوت، کہیں خود سری، کہیں جذبہ، کہیں کچھ، کہیں کوئی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس تپش کا ایک ’’مترنم‘‘ روپ عشق بھی ہے۔ پہاڑوں اور پہاڑی لوگوں کی طرح ان کا عشق بھی وکھرا ہوتا ہے۔ سر بلند، اکھڑ اور کھورا کھردرا سا۔ لیکن اس کے باوجود یہ پہاڑی فضاؤں کی طرح پوتر بھی ہوتا ہے اور دیسی شہد ایسا خالص او شیریں بھی۔مختلف جذبوں کی تفہیم و تعبیر ادب کا بنیادی فریضہ ہے۔ عشق ایسے اتھرے جذبے کو ایک شاعر ہی درست انداز میں بھانپ پہچان سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر متانت اور سنجیدگی کے باوجود قدرت نے راشد عباسی کو یہ ’’چج‘‘ عطا کیا اور ’’جاچ‘‘ دی ہے کہ وہ "عشق الاؤ” اور "بھانبڑ” کو سمجھے، کہے۔ اسی ہنر کا اعلی تخلیقی اظہار ’’عشق اڈاری‘‘ ہے۔

یوں تو راشد عباسی ایک مرتب مگر مرکب آدمی ہے۔ اُس نے اقبال سے یوسف حسن تک کا فکری مگر نظری سفر پوری سنجیدگی سے یوں طے کیا ہے کہ اس کے اندر پہاڑ کا وقار، بہتے جھرنے کا ترنم، صاف ہوا کا لوچ، قدرتی کھلے کھڑے پھولوں کی مہک، آبشاروں کی روانی، اور بن جنگل ایسی گمبھیرتا در آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس نے اپنی ماں بولی پہاڑی میں ’’ رنتن ‘‘ دکھائی تو اس کا ہنر واضح ہوا۔ پھر وہ ’’سولی ٹنگی لو‘‘ کی صورت میں پہاڑی غزلیں سامنے لایا تو اس کے وجود میں پنہاں پہاڑ اور پہاڑی تہذیب سے متعلق بے شمار صفات نے ’’چہاتی‘‘ مارنی شروع کر دی۔ ایک قدم آگے بڑھ کر جب وہ ’’عشق اُڈاری‘‘ کہنے سنانے پر آیا تو تب وہ اپنے جذبے و فن میں صیقل ہو چکا تھا، اس لیے ’’عشق اُڈاری‘‘ ایک مثال بن گیا۔

’’عشق اُڈاری‘‘ دراصل پہاڑی تہذیب، رہتل اور زبان سے ایک بھرپور عشق کا اظہار و ابلاغ ہے۔ جس کے دوران فنی اور شعری محاسن کو پوری طور پر سجوڑ پنے سے برتا گیا ہے۔ عشق اڈاری کا انتساب منشی نبی کے نام ہے جو ملکوٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے علمی کردار ہیں۔ راشد عباسی ملکوٹ کے محسن کے لیے لکھتا ہے کہ:

علم پچھان نیں رستے دسے
علم دلاں ناں نور
علم نہ ویہہ تے بندہ انہھاں
کول وی جسرے دور
علم نے اگ وی سڑی تے مکناں
دلاں نے وچا کھوٹ
منشی نبی اور اساں نیں محسن
انھاں نے اس قرضوئی
انھاں شعور نے بتی بالی
لشکناں اج ملکوٹ

اب حمد ہے:

لکھ شکر آ مالک دنیاں وچ
بخشیش کسے نی نئیں کھادی
ہک تساں نے منگتے چنگے آں

راشد عباسی کی نعت کا انداز یوں ہے:

کرنے آں فریاد نبی جی
ہوئی گے آں برباد نبی جی
تسبی دانہ دانہ ہوئی گئی
پیئی گا اِسرے باد نبی جی
بے جرمے اے سولی اُپر
چور اے سارے شعد نبی جی

اقبال سے راشد کا فکری تعلق بہت گہرا ہے :

اُس سبق پڑھایا عشق ناں
اُس دسی فقر نی راہ
اوہ جانو رمز تے راز ناں آ
او مرد ِحق آگاہ

پاکسان کے متعلق ایک نظم کے بعد ’’سردار باز خان تے مجاہدین آزادی‘‘ کی باری ہے ۔ یہ وہی سردار باز خان ہیں جو اختر رضا سلیمی کے مشہور ناول ’’لواخ‘‘کا بھی ایک بنیادی کردار ہیں :۔

اُنھاں حریت نی رہ پغڑی
سوچ اسمانے نے او تارے
انہیارے وچ نور مینارے

اب ’’خاکی تے ہشناکی ‘‘ ہے :

مٹی ناں آ کچا ٹہارا
کہڑا تے چھونی
ٹاس وی مٹی
مٹی ناں تو باوا بندیا
عام وی مٹی، خاص وی مٹی
فیر کہہ ناز تہ کہہ ہشناکی

’’رب جی کرو قبول دعائیں ‘‘اور ’’احسن تقویم ‘‘ جیسی خوبصورت نظموں کے بعد ’’کشمیر ‘‘نظم کا موضوع ہوا ہے :۔

کد تک پیراں نیں وِچ رہسی
دُکھاں نی زنجیر
کد تک پہناں نے سر ننگے
رت برتّے ویر
کد تک سفنے ٹوٹے ٹوٹے
جثہ لیر ولیر
ہائے مہڑیا کشمیر

راشد عباسی ’’حرفاں نی لو‘‘ اور ’’ماں بولی تائیں ہک تہیاڑا‘‘ ڈھونڈتا ’’مٹی نے باوے ‘‘ بنانے چلا جاتا ہے ۔

مٹی نے اس باوے سارے کیہہ کرنی مغروری
جیناں وی مجبوری بندیا، مرناں وی مجبوری

راشد عباسی کی نظمیں ’’ڈاہڈے دُکھڑے مائے” ، "رنگ پرنگا تہاگا” ، "ساہڑے اندر مچیا مچ ‘‘ہوں یا ’’بول فقیرا بول ‘‘ ، ’’اُچے بول نہ بولو‘‘ یا پھر ’’بندیو اپنی میں کی مارو ‘‘ ہر ایک تخلیق اپنے اندر معنوی و صوری خوبی اور واضح پیغام رکھتی ہے۔ اسی طرح ’’عرضی ،اِملا ،خاب عذاب ‘‘سے ہوتا ہوا قاری ’’عشق تک آتا ہے تو اسے سوادلی لے میں خوبصورت مضمون پڑھنے کو ملتا ہے:۔

عشق نیاں یاں بکھریاں باتاں
عشق نہ پچھے نسلاں ذاتاں
کہڑیاں وچ صدیاں نیں پینڈے
عشق نیں وچ کیہ دن کیہ راتاں
عشق نیں اپنے ہور چہواء اے
عشق نے وچ پہریا وہاء خالی

یوں تو ’’سدھراں ،اڈیک ،ادھ وچکار ،حیاتی تے جنجال، کھٹی، مِنت، بوٹے، چکھ اور خاب بپاری‘‘ راشد کی تمام نظمیں بے حد خوبصورت اور معنی آفرین ہیں لیکن میرے خیال میں راشد کی مختصر نظمیں زیادہ بلیغ اور پرتاثیر ہیں۔ مثلاً راشد کی مختصر نظم ’’تہوخا ‘‘ دیکھ لیں :۔

بکسا کھولیا یاداں والا
لِختے وِچا دکھ
لوڑناں اسیاں سکھ

اسی طرح "وصال” بھی ہے :۔

ٓاساں جے آں ناں مسئلہ جینا
مرنے سی کہہ ڈرنا
موتو سی تے ڈرے اوہ مورکھ
جس موتو نال مرنا

راشد عباسی ’’سانحہ‘‘یوں لکھتا ہے :۔

چار چفیرے گھپ انہیارا
سُتے ہوئے سے لوک
کسرے دساں کسرے اجڑی
اساں نی بسنی ٹہوک

’’عشق اڈاری ‘‘کی ساری نظمیں موضوعاتی اور اسلوبیاتی لحاظ سے یقینا بے مثال ہیں۔ اسی لیے اختر رضا سلیمی ان کی نظموں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:۔

’’راشد عباسی نے نظم کہتے ہوئے نظم کی تمام مروج ہئیتیں برتی ہیں۔ سو اس مجموعے میں آپ کو پابند نظمیں بھی ملیں گی، معریٰ بھی اور آزاد بھی۔ مجھے سب سے زیادہ لطف آزاد نظموں نے دیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ میں نے ہندکو ،پہاڑی ، پوٹھوہاری میں بہت کم آزاد نظمیں دیکھی ہیں ۔ یہ نظمیں ہمیں پہاڑی تہذیب و ثقافت کی ایسی جھلکیاں دکھاتی ہیں جو اردو میں ممکن نہیں تھیں‘‘۔

’’عشق اُڈاری ‘‘ پہاڑی ڈھلوان پر بنی اُگی وہ پھلواری ہے جسے بہت سلیقے سے سنوارا نکھارا گیا ہے۔ اس ’’پھلواری‘‘ میں نوع بہ نوع کے وہ ست رنگے پھول ہیں جو پہاڑوں کا حسن اور وچار لیے پڑھنے والوں کے لیے آسودگی اور بالیدگی کا سامان کرتے ہیں ۔ راشد عباسی نے ’’چن، ماہیے، بولی اور گیت ‘‘ بھی کہے ہیں۔ یوں یہ پھلواری ہمہ رنگ اور صفت ہا صفت پھولوں کی کیاری بن گئی ہے۔ جس کی ہر تخلیق پھول نما ہے اور ہر پھول دیدہ زیب ہے۔

راشد عباسی نے جہاں خالص اور ٹھیٹھ پہاڑی الفاظ کے معنی بھی ساتھ دیے ہیں وہاں نظم کی مختلف ہئیتوں میں کامیاب پہاڑی تخلیق کے جوہر دکھا کر اپنی ماں بولی کے گوہر کو مزید آبدار کر دکھایا ہے، جو واقعی قابل ستائش عمل ہے ۔

 

ڈاکٹر محمد صغیر خان


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481