اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

برف باری ، کوہسار اور اہل کوہسار

FB IMG 1706953407816 1

برف باری اور کوہسار

Snowfall

کچھ برس پیشتر تک مری اور گلیات صرف موسم گرما کے چند مہینوں کے سیاحتی مقامات سمجھے جاتے تھے۔۔ لیکن پھر برف باری کو دیکھنے اور اس سے محظوظ ہونے کے لیے بھی سیاحوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی۔ حکومت کے لیے سیاحت کمائی کا ذریعہ ہے اس لیے مین سڑکوں کو کھلا رکھنے کے لیے مری اور ہزارہ کی انتظامیہ کافی بندوبست کرتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔

 

حکومت جس علاقے کے وسائل سے جتنی دولت کماتی ہے اصولا اسے اسی علاقے کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ اور بالفرض اگر اس پر سمجھوتہ لازمی ہو تو کم سے کم پچاس فی صد تو مقامی علاقوں کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ مقامی آبادی انتظامیہ کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے بھی کم اہمیت کی حامل ہے۔

شاہد خاقان عباسی اور سردار مہتاب جیسے لوگوں نے بڑے بڑے عہدوں کا لطف اٹھایا لیکن کوہسار کے حقوق اور ترقی کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ مقامی آبادیاں آج بھی پتھر کے دور میں جی رہی ہیں۔ عام آدمی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اور نعرے لگانے والے ان کی سیاست اور لیڈر شپ کے گن گاتے ہوئے اپنے ضمیروں کو کسی آہنی صندوق میں بند کر دیتے ہیں۔

موسم گرما میں سیاحت کی وجہ سے مقامی آبادی کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ ٹریفک جام ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ لیکن کسی لیڈر نے کبھی اس کے حل کے لیے کوئی حل پیش نہیں کیا۔ نہ پارکنگ کے انتظامات ہوئے اور نہ بائی پاس بنائے گئے۔

سیاحت سے شہری علاقہ (مری سٹی، ایوبیہ، نتھیا گلی) پر جب دباؤ بڑھا تو تعمیرات کے حوالے سے سارے قوانین کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ یوں جنگلات کی تباہی کی راہ ہموار ہوئی اور خصوصا ملکہ کوہسار مری کنکریٹ کے خطرناک پہاڑوں کا شہر بن گئی۔

سیاحت کے نام پر پورے ملک سے بدقماش اور عیاش لوگ موسم گرما میں ان قدرتی حسن سے مالا مال جنت نظیر علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور یہ جنت نظیر وادیاں گناہ اور بداعمالیوں کی آماج گاہ بن جاتی ہیں۔  پی سی بھوربن سے شراب کی سپلائی عام ہوتی ہے لیکن حرام ہے جو کسی سیاسی لیڈر کے کان پر کبھی بھی جوں تک رینگی ہو۔ ظلم اور گناہ کے کاموں پر خاموشی بھی معاونت کے زمرے میں آتی ہے۔ 

برف باری کوہسار کی مقامی آبادی کے لیے مختلف النوع عذاب ساتھ لے کر آتی ہے۔ یہاں کے سیاسی لیڈر چونکہ خود الیکشن جیت کر اسلام آباد ، ایبٹ آباد اور دیگر بڑے شہروں میں اپنے محلات کو پیارے ہو جاتے ہیں اس لیے مقامی آبادی کے مسائل کا حل تو دور کی بات ہے اس حوالے سے انھیں زبانیں کھولنے کی بھی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

رابطہ سڑکیں: اول تو رابطہ سڑکوں کی تعمیر پر ہی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ علاقے ترقی کر سکیں۔ دوسرا جہاں اپنی مدد آپ کے تحت یا کچھ سرکاری فنڈ سے سڑکیں تعمیر ہوئی ہیں ان کی دیکھ بھال سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ کے لیے کیا مشکل ہے کہ جہاں وہ مین سڑکوں کی دیکھ بھال کے انتظامات کرتی ہے اسے وسعت دے کر رابطہ سڑکوں کو بھی اس میں شامل کر لے۔ لیکن جب مقامی آبادی کے حقوق کی بات کی جائے تو نہ جانے کیوں کئی اسی مٹی کے بیٹوں کے پیٹوں میں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ برف باری کے دنوں میں جو مشینیں مین سڑکوں کی بحالی پر مامور ہوتی ہیں وہ رابطہ سڑکیں کیوں نہیں کھول سکتیں؟ کیا رابطہ سڑکوں سے اسرائیلی یا ہندوستانی فوجوں کو کمک بھیجی جاتی ہے؟

موسم سرما کے دوران مقامی آبادی کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ "ایندھن” کا ہے۔ ویسے تو حکومت جس طرح گیس کی قیمتیں ظالمانہ طریقے سے بڑھا رہی ہے بہت جلد لوگ بجلی کی طرح گیس کے میٹر بھی حکومت کو واپس کر کے ایندھن کے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان علاقوں کی دیہی آبادی کی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دے تاکہ جنگلات کی کٹائی کو روکا جا سکے۔

موسم سرما کوہسار کی مقامی آبادی کو راشن اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ یہاں پر سرکاری راشن سٹور بحال ہونے چاہییں تاکہ مقامی لوگوں کو کم قیمت پر پورا سال راشن دستیاب ہو۔

کوہسار میں ہمارے سیاسی لیڈر گزشتہ تین چار عشروں کے دوران کوئی بڑا صحت کا منصوبہ منظور کروانے میں کلی طور پر ناکام رہے ہیں۔ یہ ان کی نااہلی کا بین ثبوت ہے۔ موسم گرما میں تو کسی نہ کسی طرح سے مریضوں کو راولپنڈی ، اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں پہنچا دیا جاتا ہے لیکن برف باری کے دوران دیہی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو جاتی ہیں اس لیے پہلے مریض کو کاندھوں پر اٹھا کر کئی گھنٹوں میں مین سڑک تک لائیں اور اگر وہ اتنا وقت گزار گیا اور اللہ کو پیارا نہ ہوا تو پھر اسے دو تین گھنٹوں میں راولپنڈی ، اسلام آباد یا ایبٹ آباد پہنچا دیں۔

ہے کوئی جو اس مظلوم علاقے کی آواز بنے؟ الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ عام آدمی کو اگر آوے ہی آوے، جاوے ہی جاوے، زندہ باد مردہ باد، فلاں ساڈا شیر اے۔۔۔۔ کے نعروں سے فرصت ملے تو اپنے بارے میں، اپنی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں اور اس بد قسمت علاقے کے بارے میں بھی چند لمحے نکال کر ضرور سوچے۔

راشد عباسی

تصاویر: بہ شکریہ صدائے سرکل بکوٹ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481