اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہم جو بات کرتے ہیں وہ پورا کرنا جانتے ہیں،نوازشریف

ہم جو بات کرتے ہیں وہ پورا کرنا جانتے ہیں،نوازشریف

ہم جو بات کرتے ہیں وہ پورا کرنا جانتے ہیں،نوازشریف

قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ہم جو بات کرتے ہیں وہ پورا کرنا جانتے ہیں۔

فیصل آباد دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائد ن لیگ نوازشریف کا کہنا تھا کہ

 

آئی لو یو فیصل آباد والو میرے پاس الفاظ نہیں میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں۔

 

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے آپ کو صرف میٹرو پر ہی ٹرخا چاہتے ہ، آپ کے شہر سے دو موٹر ویز گزرتی ہیں،

 

فیصل آباد میں میٹرو کے ساتھ اورنج لائن بھی شروع کریں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں وزیراعظم بن کر غربت کا مقابلہ کروں گا، بلاول بھٹو زرداری

 

قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں سونا 50 ہزار روپے تولہ تھا، اس وقت ہمارےمخالفین دھرنے دے رہے تھے اور ہم دہشتگردی کا خاتمہ کر رہے تھے،

 

ہم بلین ٹری والے نہیں ہیں، ہم جو بات کہتے ہیں وہ کرنا جانتے ہیں۔

 

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 50 لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا،

 

یہ بھی پڑھیں معاشی انقلاب کےلیے بلاول کو وزیراعظم بنانا ہوگا، آصفہ بھٹو

 

کیا اس جلسہ میں موجود کسی کو گھر ملا؟ کیا بے روزگاری ختم ہوگئی؟ جلسے میں موجود کوئی ایک شخص ہاتھ اٹھادے جسے گھر ملا ہو؟

 

ہم جو بات کرتے ہیں وہ پورا کرنا جانتے ہیں،نوازشریف

 

ان کا کہنا تھا کہ یہ یوتھ ممی ڈیڈی والی نہیں ہے، یہ یوتھ ن لیگ کے ساتھ ہے، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، میں بس اس یوتھ کو یہ کہوں گا فیصل آباد زندہ باد۔

 

یہ بھی پڑھیں پاکستان کےا نتخابات اور آزاد کشمیر میں درپیش سیاسی امتحان

 

قائد ن لیگ کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف صاحب! پانچ سال بعد یہاں کوئی بے روزگار نظر نہیں آنا چاہیے،

یہاں ہر بندے کے پاس روزگار ہونا چاہئےاور یہاں میٹرو بس ہی نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین بھی دوڑتی نظر آنی چاہیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481