اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اُستاد محترم اقبال حسین شاہ کو خراج عقیدت

FB IMG 1706866699800

ہم اس لحاظ سےخود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ سکول کے زمانے میں ہمیں اچھے، قابل اور مخلص اساتذہ کی سرپرستی میسر آئی۔ یہ اَسّی کی دہائی کی بات ہے، تب نجی سکولوں کی شکل میں کاروباری اداروں کی کھمبیوں کی صورت "افزائش نسل” کا سرے سے تصور ہی نہیں تھا۔ سرکاری سکول کے کسی بچے کو ٹیوشن لینا پڑ جائے تو بچے کے ساتھ ساتھ اس کے استاد کو بھی نالائق ہونے کا طعنہ سننا پڑتا تھا۔ اساتذہ کی قلت یا کسی اور وجہ سے کورس مکمل نہ ہونے کی صورت میں اساتذہ یا تو شام میں بلا معاوضہ اضافی کلاسز لیتے یا پھر انتہائی معمولی فیس لی جاتی۔ جس سے غریب اور مستحق طلبا مستثنی ہوا کرتے تھے۔ نصابی اور غیر نصابی تعلیم کے ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی غیر معمولی توجہ دی جاتی تھی۔  اساتذہ اپنے مقام اور مرتبے سے آگاہ ہوا کرتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ دیوار میں لگائی گئی پہلی ٹیڑھی اینٹ پوری عمارت کو ہمیشہ کے لیے بدصورت بنا دیتی ہے، جس کا "کریڈٹ” ظاہر ہے معمار ہی کو جاتا ہے۔۔

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

اقبال شاہ صاحب بھی ہمارے انہی قابل اساتذہ میں سے ایک تھے ۔۔ وہ بنیادی طور پر تو سائنس ٹیچر تھے مگر ان کی ہمہ جہت شخصیت خوبیوں کا مرقع تھی۔۔ مذہبی گھرانے سے تعلق کی بنیاد پر دینی علم تو ان کے خون میں شامل تھا۔ ساتویں جماعت میں وہ ہماری ناظرہ کی کلاس لیتے تھے۔ مضمون نہ ہونے کے باوجود تجوید اور قرات کی باریکیوں سے واقف تھے۔۔ مصر کے قاری عبدالباسط کی قرات کے دیوانے تھے۔ خوش خطی اور آرٹ ورک میں مہارت کا یہ عالم تھا کہ گورنمنٹ ہائی سکول بیروٹ کے درودیوار ان کے ہاتھ سے لکھے گئے اردو اور فارسی محاوروں اور ضرب الامثال سے برسہا برس مزین رہے ۔۔

"صحبت صالح ترا صالح کند”   اور

"ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

جیسے جملوں پر ہماری نظر پڑتی تو ہم معنی اور تشریح کے لیے شاہ صاحب ہی سے رجوع کرتے ۔۔ اور وہ ہلکے پھلکے انداز میں مشکل سے مشکل بات یوں سمجھا دیتے کہ دل پر نقش ہو جاتی ۔۔ اقبال ، شیخ سعدی اور حافظ شیرازی کی شاعری کی خوشبو ان کے اندر رچی بسی تھی۔ وہ خود بھی شاعر تھے اور مخلص تخلص کرتے تھے۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے "چشم فردا ” اور "دیدہ بینا ” شائع ہوئے ۔۔ زندگی کے آخری ایام میں حمد و نعت پر زیادہ توجہ رہی۔

FB IMG 1706866699800 FB IMG 1706866610005
ان کی مادری زبان ہندکو تھی مگر پشتو یوں روانی سے بولتے کہ سامنے والا پختون انہیں اپنا "کلےوال” سمجھتا۔ فارسی پر عبور حاصل تھا۔ چھوٹی کلاس کے بچوں کے ساتھ رویہ مشفقانہ اور بڑی کلاس میں جاتے ہوئے بتدریج دوستانہ ہو جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی آسان مضمون کا پیریڈ خالی ہوتا تو بڑی کلاس کے طلبا کی کوشش ہوتی کہ یہ پیریڈ شاہ صاحب لیں اور کئی بار تو ہم ان کو لائبریری یا سٹاف روم سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر بلا لاتے ۔۔ دراز قد شاہ صاحب شانے جھکائے بند لبوں پر سجی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتے تو کلاس کسی سیاسی رہنما کی طرح ان کا استقبال کرتی (یہ وہ زمانہ تھا جب استاد اور اس کا ڈنڈا خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا) شاہ صاحب شہادت کی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر دوسرے ہاتھ کو اوپر نیچے لہراتے ہوئے کلاس کو خاموش کر دیتے۔۔ اور پھر شعر و شاعری اور ادب پر گفتگو کے ساتھ ساتھ لطائف اور قصے کہانیاں یوں ساتھ ساتھ چلتے کہ 36 منٹ کا پیریڈ ہمیں 36 سیکنڈ کا لگتا اور دل چاہتا کہ وقت تھم جائے۔۔ یعنی  "وہ کہیں اور سنا کرے کوئی” ۔

شاہ صاحب جیسے اساتذہ کی یہی ہلکی پھلکی گفتگو بچوں میں خوداعتمادی بڑھاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سکول کی بزم ادب کمیٹی کے تحت طلبا کی صلاحیتوں کو نکھار ملتا رہا جو عملی زندگی میں ان کے کام آرہا ہے۔ اقبال شاہ صاحب نویں دسویں میں ہمیں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی تو پڑھاتے ہی تھے، اس سے پہلے چھوٹی جماعتوں میں بھی کوئی نہ کوئی پیریڈ ضرور لیا کرتے۔۔ سو ان سے قلبی اور روحانی تعلق مضبوط رہا۔۔ میٹرک کے بعد ہم کراچی کے ہوگئے اور شاہ صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد مانسہرہ میں جا بسے۔ کچھ برس پیشتر میرے ہم جماعت اور ان کے بھانجے مبشر شاہ کے والد محترم کے جنازے میں ملاقات ہوئی تو بزرگی اور بیماری نے انہیں کمزور کر دیا تھا۔۔ ان سے رابطہ نہ رکھنے کا احساس جرم بھی دامن گیر تھا اور یہ خدشہ بھی کہ شاید استاد محترم پہچان ہی نہ پائیں۔ مگر شاہ صاحب نے "زندہ باد” کے مخصوص نعرے کے ساتھ اپنے شاگرد کو پرجوش شفقت کے ساتھ یوں بانہوں میں بھر لیا کہ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔۔ (زندہ باد کانعرہ شاہ صاحب تب لگایا کرتے جب ان کا کوئی ہونہار شاگرد کوئی مشکل سوال حل کرتا یا توقع سے بڑھ کر مدلل جواب دیتا)۔

فرمانے لگے،  "آپ کے بارے میں معلومات لیتا اور خوش ہو کر دعائیں دیتا رہتا ہوں ۔۔ کچھ برس پہلے آپ کا ایک انٹرویو روزنامہ شمال (ایبٹ آباد ) میں چھپا تھا ۔۔اس کی کٹنگ میں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہے”۔

ایک نالائق شاگرد کے لیے استاد محترم کی اس قدر شفقت کتنا بڑا اعزاز ہے، میری آنکھیں پھر ڈبڈبا گئیں۔۔ یہ ملاقات بہت مختصر اور تشنہ رہی۔ شاہ صاحب کے پاس حاضر ہونا تھا، بہت ساری باتیں کرنی تھیں۔ لیکن دنیاداری نے مہلت نہ دی اور شاہ صاحب ہنستے مسکراتے راہی ملک عدم ہو گئے۔ یادوں کا ایک سیلاب ہے جو امڈا چلا آرہا ہے، جیسے مانسہرہ میں (آبائی علاقہ نہ ہونے کے باوجود ) شاہ صاحب کی نماز جنازہ میں ایک ہجوم امڈ آیا تھا۔۔ ان میں شاہ صاحب کے بے شمار شاگرد بھی تھے اور کئی ساتھی اساتذہ بھی جن میں سے بعض کئی سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے۔۔ یہ سب ان کے بڑے فرزند شاہ خالد سے تعزیت کر رہے تھے ۔۔ میں نے میت کے سرہانے شاہ صاحب کے بڑے بھائی اور استاد الاساتذہ ممتاز شاہ صاحب کو بھی زار و قطار روتے دیکھا ۔۔ "موت سے کس کو رستگاری ہے”.  مگر چھوٹے بھائی یا اولاد کی موت کا دکھ بہت بڑا ہوتا ہے ۔۔ رب کریم استاد محترم کے درجات بلند فرمائے ۔۔ آمین

رہبر بھی، یہ ہمدم بھی، یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

سجاد عباسی، بیروٹ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481