توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال کی قید کی سزا پانے والی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے
بنی گالہ منتقل کرکے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔
احتساب عدالت سے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے ساتھ سزا کا سامنا کرنے والی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل
سے بنی گالہ منتقل کردیا گیا جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بنی گالا میں رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں نظر بند رکھا جائے گا، بشریٰ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے بنی گالا منتقل کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے بنی گالا رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،
ریزیڈنشل کمپاؤنڈ خان ہاؤس بنی گالا کو 31 جنوری سے تاحکم ثانی سب جیل قرار دیا گیا ہے۔
دہشت گردوں کی اڈیالہ جیل پرحملے کی دھمکی کے بعد سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل سے
بنی گالہ منتقلی کو وفاقی انتظامیہ کے فیصلے سے مشروط کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کال جیل کے آفیشنل نمبر موصول ہوئی تھی،
یہ بھی پڑھیں توشہ خانہ ریفرنس، عمران، بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید، 10 سال کیلئے نااہل
نامعلوم کالر کی جانب سے اڈیالہ جیل پر آئندہ تین روز میں حملے کی دھمکی دی گئی،
جیل انتظامیہ کی جانب سے راولپنڈی پولیس کو گزشتہ رات خط لکھا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق جیل کے اندر کالعدم دہشت گرد تنظیم کے قیدی بھی موجود ہیں،
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی،شیخ رشید، فواد چودھری اور پرویز الٰہی بھی قید ہیں۔
اس سے قبل حکومت کی جانب سے بشریٰ بی بی کی منتقلی کے معاملے پر مختلف تجاویز پر غور کیا گیا تھا،
اڈیالہ جیل انتظامیہ کی درخواست پر مختلف آپشن پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں بانی پی ٹی آئی کی سزائیں ہائیکورٹ سے معطل ہونی ہیں، اعتزاز احسن
بنی گالہ ہاؤس، زمان پارک اور سرکاری ریسٹ ہاؤس کو سب جیل قرار دینے پر غور کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں توشہ خانہ ریفرنس سماعت کے دوران جج کی طبیعت خراب
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی
کو توشہ خانہ کیس میں 14،14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی
اور ایک ارب سے زائد کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
بشریٰ بی بی سزا سننے کے فوراً بعد گرفتاری دینے کے لیے خود اڈیالہ جیل پہنچی تھیں۔
