اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم  "برف باری”

1669864493236

کالم شالم  "برف باری”

شکیل اعوان

FB IMG 1706700625634آسمان سے” تھغڑے ” اُترے تو کچا کوٹھا "چوناں ” شروع ہو گیا۔۔ ہم "لیف "میں لپٹے "کُنیاں” (مکئی کے دانوں کی ڈش ) کھانے میں مشغول تھے کہ دادی جان کا زوردار "آلا” سنائی دیا

"اوہ پُترا ! نکھترے کوٹھے کی کُٹی آ ”

ہمارا کوٹھا کٹنے جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا کہ یخ بستہ موسم میں پہلے ہی "دندکن ” بج رہا تھا  لیکن پھر سوچا کہ ایسا نہ ہو رات کو برف کی چادر تن جائے اور کچے کوٹھے میں جل تھل ہو جائے۔ "مندلیاں” (با دل نخواستہ) اُٹھ کر "دبناں” لیا اور کوٹھے پر چڑھ گئے۔ اب کیا دیکھتے ہیں کہ تمام سنگی پہلے سے ہی کوٹھوں پر چڑھے”کوٹھے کُٹ” رہے ہیں۔ ایک سنگی نے آواز دی۔

آخر مہندی لہی گئی؟

 

ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ بولا "کل جمعرات ہے۔ کیوں نہ "کہنیاں کھوڑی” کا پھیرا مار آئیں۔ کہنیاں کھوڑ ہمارے علاقے کی معروف درگاہ ہے، جہاں” زیراں” (کینسر ) والے مریض جاتے تھے (اب بھی جاتے ہوں گے۔ یہ ہم تیس سال پہلے کی بات کر رہے ہیں). وہاں نمانا شاہ جی کی زیارت ہے. سادات کی بستی ہے. خیر ہم نے گھر سے اجازت ملنے کی صورت میں جانے کی ہامی بھری کہ اُس وقت گھر سے پوچھے بغیر کہیں جانے کا رواج نہیں ہوتا تھا۔ خیر ہم نے بالن (ایندھن، لکڑی) کا بہانہ بنایا اور صبح گُڑ اور مکئی کے دانوں (پاپ کارن) سے دونوں "بوجھے بھرے ” اور سنگیوں کے ساتھ منڈیا گلی کے جنگل میں پہنچ گئے۔ جہاں پہلے لکڑیاں کاٹی گئیں۔ اپنا اپنا "پہار” (گٹھا) بنا کر چھوڑا گیا. دوستوں نے ہمارے حصے کی لکڑیاں بھی کاٹیں۔ ہم فقط ماہیے گا کر تحریک دیتے رہے۔

ٹھنڈ کی وجہ سے آگ کا الاؤ جلایا گیا۔ جس کے دھوئیں نے جنگل کی پولیس کو متوجہ کردیا اور کچھ دیر بعد وہ وہاں پہنچ گئے۔ ہم ماہیے گانے میں محو تھے ہمیں علم ہی نہیں ہوا اور وہ سر پر آن پہنچے۔ سپاہی نے آواز لگائی ” اوئے جندکو ” ہم نے فورا ماہیا پروگرام بند کر دیا۔ لیکن ایک مچھندر سپاہی نے حکم صادر فرمایا "تم ماہیے گاتے رہو”. ہم ڈر گئے تھے لیکن جب وہ سب ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے تو ہمارے خون کی گردش کچھ بحال ہوئی۔ ہمارے کچھ دوست سپاہیوں کو دیکھ کر رفو چکر ہو گئے تھے۔ لیکن جو "بوٹے” پر چڑھ گئے تھے، وہ چپ سادھ کے وہیں بیٹھے رہے۔

خیر سپاہیوں نے کہا "جاکتو لختے ناں کپیاں، بالن ا ُتار لو” .  تب ہمارے دوست جو سولی پر چڑھے ہوئے تھے ان کی جان میں جان آئی اور انھوں نے زور کا نعرہ بلند کیا۔ اس پر سپاہی بولے

” اِس جندکے دے ماہیاں تساں بچا چھوڑیا نئیں تے اساں رپورٹ لکھدے ”

ہم نے دل ہی دل میں شکر کے کلمے پڑھے اور کہنیاں کھوڑ کی طرف روانہ ہوگئے، جہاں لنگر کی دیگ پک رہی تھی۔ ہم جیسے ہی پہنچے ہلہ بول دیا گیا۔ برتن تو ہمارے پاس تھا نہیں، لے دے کے قمیص کا دامن تھا جس کو بھرا گیا اور پیٹ کی خاطر داری کی گئی۔ پر باش ہو کر نعرہ مستانہ بلند کیا
دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کانام”
ساڈے سوھنے محمد پر لاکھوں سلام”

راستے بھر ہم چیڑوں سے ٹکراتی ہوا کی مدھر موسیقی پر پہاڑی ماہیے الاپتے ہوئے بالن اٹھائے "نماشاں” (مغرب) کے قریب گھر پہنچے۔

images 45
ہم کالم شالم لکھنے میں مصروف ہیں اور ہمارے واٹسپ گروپ میں دوستوں کا سیاسی ملاکھڑہ چل رہا ہے۔ "ملک نازک دور سے گزر رہا ہے”۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں۔ ہمارے گروپ میں ہر جماعت کا بندہ موجود ہے۔ لیکن علم اور برداشت رکھنے والے، مثبت مکالمہ کرنے والے اور اختلاف رائے برداشت کرنے والے عنقا ہیں۔

آخر میں ہمارا ایک پرانا ماہیا

برفاں وچ سائے نکلے
جدوں تری یاد آوے بند بند وچوں ہائے نکلے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481