اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم۔۔۔۔”ہپی برتھ ڈے "

FB IMG 1618206927786

کالم شالم

  "ہیپی برتھ ڈے”

 

پہاڑی میں ہم اسے "جمن تیہاڑے نی مارکھ ” کہہ سکتے ہیں۔  یہ ” پات ” (بدعت) ہمارے دور میں نہیں ہوتی تھی بلکہ ہم سے پہلے کی نسل کو تو اپنی تاریخ ِپیدائش بھی یاد نہیں ہوتی تھی۔ وہ اپنی پیدائش کا سال اکثر کسی معروف واقعہ سے نسبت کے طور پر یاد رکھتے تھے، جیسے ہمارے "گراں ” کے ایک بزرگ بتاتے تھے کہ جب وہ پیدا ہوئے تھے اس وقت ہندو لوگوں کی دیوالی تھی۔ یا کوئی کہتا کہ فلاں کی” منج ” (بھینس) نے "کٹا” دیا تھا "۔ یا "پوہ نیاں برفاں لگیاں ہوہیاں سیاں، لوک کوٹھے کُٹنے سے "۔

ابھی گھڑی عام نہیں ہوئی تھی، سو سورج دیکھ کر وقت کا تعین کیا جاتا تھا "پیشی، دیغر، نماشاں ناں ویلا”۔

ہمارے دور میں کچھ لکھنے پڑھنے کا رواج ہوا تو تاریخ پیدائش لکھ لی جاتی۔ مگر آج کا دور ابلاغ کا ہے۔ بچے دو ماہ پہلے ہی اپنی سالگرہ کی تیاریوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ہم ابھی سوئے ہوئے تھے کہ سچل بابا نے ہمارے اوپر دھمال ڈالنا شروع کر دی۔ ہم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے کہ یا اللہ خیر، "نور پیر نے ویلے ” کیا آفت آ گئی۔ ہم نے استفسار کیا ۔۔۔ "ارے بابا ہم پر کیوں کود رہے ہو؟”

سچل بابا نے بتایا کہ آج ان کی "ہیپی برتھ ڈے” ہے. ہم نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیا ہوتا ہے تو وہ سوال کا جواب دینے کے بجائے یوں گویا ہوئے ” پپا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ فلاں فلاں چیز لے کر دیں گے”. ہم تو صاف مکر گئے کہ ہمیں ایسا کوئی وعدہ یاد نہیں۔ لیکن انھوں نے "ایموشنل بلیک میلنگ” کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ہمیں طعنہ دیا کہ ہم "لورچ ” (چیٹینگ) کر رہے ہیں. ہم نے پھر کمبل کو سر تک تان کر سونے کی کوشش کی لیکن وہ بھی تو ہمارے ہی فرزند ارجمند ہیں، ہار ماننے والے کہاں تھے۔ سفارش کے لیے اپنی مما کو ساتھ لے کر آگئے۔ ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پیش کش کی کہ آج "مُرنڈے” لا کر دے دوں۔ اس نے معصومیت سے پوچھا کہ یہ کیا بلا ہوتی ہے۔ ہم نے وضاحت کی کہ کیک کے چھوٹے چھوٹے "جندک ” ہوتے ہیں تو منہ بناکر باہر نکل گیا۔ عجیب نسل ہے، اپنی زندگی سے ایک سال کم ہونے پر اتنی خوشی مناتی ہے؟ 

ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم نے بڑے ہوکر کون سا تیر مار لیا جو یہ بچے مار لیں گے۔ ہمارے بچپن میں غربت ضرور تھی مگر کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ مُلک خوشحال نہیں بھی تھا مگر کم سے کم بھکاری تو نہیں تھا۔ حکمران اس وقت بھی کوئی آئیڈیل نہ تھے لیکن کچھ شرم حیا ضرور تھی۔ لوگ کرپشن کو گناہ سمجھتے تھے۔ اگر کسی کا طرز زندگی ذرائع آمدن سے میل نہ کھاتا تو لوگ اس سے تعلق میں احتیاط برتتے تھے۔ معاشرے میں اُس کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ زندگی کی خواہشات بنیادی ضروریات تک محدود تھیں۔ لوگ محنت کے عادی تھے۔ شارٹ کٹ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ پھر ایک مرد مچھ برسر اقتدار آیا اور "پرائے گاہ میں داند” گھسیڑ دیے۔ ڈالرز کی ریل پیل شروع ہوئی۔ فرقہ واریت کا جن بوتل سے باہر آگیا اور کل کے فقیر آج کے نواب ہونے لگے۔ سیاست جو نظریات کے گرد گھومتی تھی، مفادات کے گرد گھومنے لگی۔ کچھ لوگ جو سائیکل تک کے اہل نہ تھے پجارو پر چڑھ دوڑے۔ نظریات بحر مردار میں بہا دیے گئے۔

ملک غریب سے غریب تر اور اشرافیہ کے منظور نظر لوگ امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔ نتیجتا صورت حال بہ ایں جا رسید کہ آج کل مُلک ” ہتھاں پہار ” ہے۔

سچل بابا خفا ہوکر گلی میں پہنچ گئے۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم اس طرح خفا ہوتے تو ہمارے والدین ” تہمن کی تملیٹھ ” لے کر ہماری ساری خفگی دُور فرما دیا کرتے تھے اور دراٹی دے کر کہتے تھے

"آج سارا دن” رکھ ” میں ڈنگروں کے لیے چارہ کاٹنا ہے”

مگر ہم کو یہ سہولت بھی میسر نہیں کہ مال مویشیوں سے مدت ہوئی ہمارا کوئی سمبندھ نہیں رہا۔ دووھ کے نام پر پیکٹوں میں بند کیمیکل والا زہر آتا ہے۔ جب ہم نے جانوروں سے تعلق توڑ لیا تو اللہ نے ہمیں دودھ جیسے نور سے محروم کر دیا۔ ہمارے دیہاتوں میں کھیت اُجڑے پڑے ہیں۔ نوجوان نسل یورپی ملکوں میں ڈنکی لگانے کو بےتاب ہے۔ ملک کو ملٹائی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سو، ایسے عالم میں سالگرہ منانا کہاں کی دانش مندی ہے۔ مگر منانی تو پڑے گی کہ سچل بابا ناراض ہوگئے ہیں اور ہم وہ بدنصیب نسل ہیں جو بچپن میں والدین سے ڈرتے رہے اور اب بڑے ہوکر بچوں سے ڈرتے ہیں۔ جو عمر کارٹون، ڈرامے دیکھنے کی تھی، اس میں خبرنامہ سنتے رہے۔ اب جب خبریں سننے کی عمر ہے موٹو پتلو دیکھ رہے ہیں۔

 گھر میں تیاریاں ایسے جاری ہیں جیسے کسی کی منگنی ہو۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ اس سے بہتر ہے بچوں کی شادی خانہ آبادی ہی کر دی جائے کہ انھیں بھی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو۔ ویسے بھی آج کل دس سال کا بچہ میچیور ہوتا ہے۔ کیونکہ "موبائل استاد” نے وقت سے بہت پہلے بچوں کو بڑا کر دیا ہے۔

 

شکیل اعوان 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481