اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آلودگی بہ صورت شور

آلودگی بہ صورت شور

بد قسمتی سے ہمارے ہاں آلودگی بہ صورت شور

کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ کسی زمانے میں کوہسار میں چار چھ بسیں چلتی تھیں۔ جن کے اپنے اپنے ہارن تھے۔ مسافروں اور علاقہ مکینوں کے لیے یہ ہارن ان گاڑیوں کی شناختی علامت تھے۔ کئی لوگوں کو ان گاڑیوں کے کسی خاص مقام سے گزرنے پر گھڑی دیکھے بغیر وقت کا پتہ چل جاتا تھا۔

گاڑیاں بہت محدود تعداد میں ہونے کی وجہ سے ڈرائیور بھی بہت کم تھے۔ اس لیے ڈرائیور "استاد جی” کہلاتے تھے۔ وہ صاف ستھرے کپڑے پہنتے۔ بالوں کو تیل سے تر کر کے مانگ نکالتے اور سیٹ پر بڑے منفرد انداز سے تھوڑے سے ٹیڑھے ہو کر بیٹھتے اور موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی کے ساتھ ساتھ خود بھی ناگن کی طرح بل کھاتے۔ گاڑی میں داخل ہونے کے لیے ان کا دروازہ "پائلٹ گیٹ” کہلاتا تھا۔ ٹیپ ریکارڈر پر قوالیاں اور پرانے گانے ان بسوں کا طرہ امتیاز تھا جو بہرحال مسافروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ آلودگی بہ صورت شور بھی تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑی قباحت ہارن کا بلا ضرورت استعمال تھا۔ استاد جی جب بھی ترنگ میں آتے ان کا ہاتھ ہارن پر چلا جاتا اور ٹیں ٹیں ٹیں ٹیں، پوں پوں پوں پاں یا ٹیہوں ٹیہوں ٹیہوں قسم کی آوازیں دور دور تک پھیل جاتیں۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ہر گھر میں ایک دو گاڑیوں کی موجودگی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ موٹر سائیکل تو سکول جانے والے بچے بھی چلانے کیا اڑانے لگے ہیں۔ اکثر نے سائلنسر جیسی غیر ضروری چیز کو اتار پھینکا ہے۔ پھر ریل گاڑی کا ہارن گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں لگوا لیا ہے۔ جب اتنا سرمایہ لگا کر یہ ہارن والا شوق پورا کیا ہے تو ظاہر ہے اس کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس لیے یار لوگ اپنا شوق پورا کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے بعد ہارن پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول کی شفٹیں لگانے والے ڈرائیور تو اسے اپنے فرائض میں شامل سمجھتے ہیں کہ ایک دن میں انھوں نے کم سے کم ایک ہزار مرتبہ ہارن بجانے کا ہدف پورا کرنا ہے، ورنہ شاید ان کو "منصب ڈرائیوری” سے اتار دیا جائے گا۔

تہواروں پر ہمارے موٹر سائیکل اڑانے والے نوجوان جب سائیلنسر اتار کر، بھانت بھانت کے ہارن بجانے سے شوق پورا ہوتا نہیں دیکھتے تو منہ میں ایک باجا بھی رکھ لیتے ہیں تاکہ اگر کسی شریف النفس، مہذب اور باشعور انسان نے اپنے گھر کے سب سے پچھلے کمرے کے دروازے بند کر کے کچھ لکھنے پڑھنے یا سوچنے کی حماقت کی ہے تو اسے اس کار فضول سے باز رکھا جا سکے کہ یہ ہمارے قومی وطیرے کے سخت خلاف ہے۔

شادی بیاہ کے موقع پر فضول رسومات کو ناگزیر سمجھ لیا گیا ہے۔ انہی رسومات میں سے ایک "میوزک” ہے۔  شادی سے دو دو ہفتے پیشتر ساؤنڈ سسٹم کرائے پر لا کر گھروں میں یا چھت پر رکھ لیے جاتے ہیں اور پھر جب تک شادی ختم نہیں ہو جاتی اہل محلہ کا سکون تواتر کے ساتھ برباد کیا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کبھی ڈھول والے منگوا لیے جاتے ہیں، کبھی گلی بند کر کے ہیجڑوں کے رقص کا اہتمام ہوتا ہے اور کبھی رات بارہ بجے آتش بازی کا طوفان بدتہذیبی برپا کر دیا جاتا ہے۔

مختلف علاقوں میں چلنے والی سوزوکی اور اس نوع کی دوسری گاڑیوں کے پیچھے زنجیر اور ٹین کے پتروں کی مدد سے ایک جھالر لٹکائی جاتی ہے۔ جب گاڑی کی پچھلی سمت وزن زیادہ ہوتا ہے تو یہ جھالر زمین سے ٹکرانے لگتی ہے اور ایسا شور پیدا ہوتا ہے کہ دماغ کی شریانیں پھٹنے لگتی ہیں۔ حالانکہ ہر چوک میں پولیس کھڑی ہوتی ہے لیکن وہ شاید اسے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت سمجھتے ہی نہیں۔

ہمارے ہاں شہروں میں کھیل کے میدانوں کی سہولیات مفقود ہیں۔ مسلم ٹاؤن راولپنڈی میں جہاز گراؤنڈ اور ایک دو اور جگہوں پر کچھ کھیل کے میدان ہوتے تھے جہاں پر بچے چھٹی والے دن کرکٹ کھیل لیتے تھے۔ ان میں کچھ کلب بھی ہوتے تھے جن سے قومی سطح کے کھلاڑی بھی منظر عام پر آئے۔  لیکن اب وہاں پر سرحدوں کے محافظ "میدان کے محافظ” کے طور پر تعینات ہیں کہ کسی بلڈی سویلین کو اپنے انسان ہونے کی غلط فہمی پیدا نہ ہو جائے اور وہ امراء کے طور طریقے اپناتے ہوئے کھیل کود اور تفریح کے شوق پالنے لگے۔ اس صورت حال میں ظہر کے بعد ہر روز اور چھٹی والے دن ہر گلی کرکٹ سٹیڈیم کا روپ دھار لیتی ہے اور وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ الحفیظ والامان۔

اس کے علاوہ کئی ایسی مشینیں بھی عام استعمال ہونے لگی ہیں جن کا شور ناقابل برداشت ہوتا ہے، جیسے کنکریٹ کاٹنے والی آرا مشین، لینٹر ڈالنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینیں، جنریٹر، وغیرہ۔ لیکن حکومتی سطح پر کبھی اس پر توجہ نہیں دی گئی کہ ان کے ساتھ سائلنسر لگائے جائیں۔

راشد عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481