اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زبورِ عجم کی یک شعری غزل۔۔۔۔۔۔جمیل الرحمٰن

آہ۔۔۔۔ زادی  جمیل الرحمن عباسی ۱۴ اگست  ۲۰۲۴ ء

زبورِ عجم کی یک شعری غزل

عشقِ شَور اَنگیز را هَر جادَه در کُوی تُو بُرد

بَر تَلاشِ خود   چه  مِی نَا زَد که ره   سُویٔ تو   بُرد

 

لفظی ترجمہ

 

عشقِ شَور اَنگیز را  :    عشق ہنگامہ خیز کو

 

هَر جادَه    : ہر راستہ

در کُوی تُو  : تیری بستی میں

بُرد: لے گیا

بَر تَلاشِ خود :  اپنی تلاش پر

چه  : کیا

مِی نَا زَد وہ ناز کرتا ہے

که ره  :کہ راستہ

سُویٔ تو تیری طرف

بُرد: لے گیا

 

با محاورہ ترجمہ :

عشق ہنگامہ خیز کو ، ہر راستہ تیرے کوچے ہی میں لے گیا

اپنی اس تلاش پر ، وہ کیا ناز کرتا ہے کہ اسے تو راستہ تیری طرف لے گیا

مطلب :

اس غزل کا ایک ہی شعر ہے ۔ بقول پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب  شاعر جو کہنا چاہتے تھے وہ ایک شعر میں جب ادا ہو گیا تو انھوں نے  مزید شعر  نہیں کیے ۔اس شعر  میں  عشق  کی مدح اور وصال کے رستوں کی کثرت کا بیان ہے۔ذوق َ طلب  جب اپنی شدت کو پہنچ کر دیوانگی میں مبتلا کر دینے والے عشق میں ڈھل جائے تو پھر طالب کو ہر راستہ اپنے محبوب کے گھر کی طرف لے جاتا ہے ۔  اس شعر کو زبور  عجم کی  ’’دعا ‘‘  کے   آخری شعر کی روشنی میں سمجھنا چاہیے کہ جہاں شاعر نے  نغمہ  داؤدی کے ذریعے   اپنے رگ وپے کو عشق کی روشنی سے منور کرنے کی بات کی تھی  :

 

خاکَم  بَه نُورِ نغمهٔ  داؤد بَر فُروز

هَر ذرۂ مَرا ، پَر و بالِ شَرَّر  بِدِہ

میری خاک کو نغمہ داؤدی  کے نور سے روشن کر دے

میری خاک کے  ہر ذرے کو (عشق کی ) چنگاری کا بال و پر عطا کر

تو یہ کیفیت جب ہو جائے  کہ   دل پر  عشق کا غلبہ ہو جائے تو پھر راستہ جو بھی ہو وہ محبوب کی چوکھٹ پر ہی انسان کو لے آتا ہے :

کیا راہ                     بدلنے کا        گلہ                        ہمسفروں سے                                                                                                                       جس راہ سے چلے تیرے درو بام ہی آئے

تو پہلے مصرعے  عشق  کی یہ خوبی بیان کی گئی ہے کہ جب وہ اپنے کمال کو پہنچ جائے تو  پھر محبوب کو تلاش کیے بغیر نہیں رہتا  بلکہ بہرطور محبوب کو پا  لیتا ہے ۔

دوسرے مصرعے میں عشق کو اپنے  اس کمال  پر نازکرنے سے گویا روکا گیا ہے ۔ حالاں کہ بظاہر  عشق   ناز کا مستحق ہے کہ  اپنی شدت  کے بل بوتے پر وہ محبوب کو پانے میں کامیاب ہوا  لیکن  پہلی بات تو یہ ہے کہ   عاشق ہونے کا تقاضا  یہ  ہے کہ وہ ناز نہ کرے  ، ناز محبوب  کا حال ہوتا ہے نہ کہ عاشق کا کہ عشق کے سبب ، محبوب کی تلاش تو اس   کی  مجبوری  تھی ۔ دوسرے یہ کہ   وصل  کی مصروفیت  اتنی بڑی ہوتی ہے کہ وہ  عاشق کو اپنی ہمتوں کو یاد کرنے کی  فرصت نہیں دیتی تو ناز کا کیا  موقع ؟ تیسرے یہ کہ  اگر محبوب میں حسن نہ ہوتا تو عاشق میں عشق  کہاں سے آتا تو عشق کی شدت بھی اصل میں محبوب   کے حسن  کی دَین ہے۔ تیسرے یہ کہ راستوں کی کثرت  بھی عاشق کا کمال نہیں ہے  وہ محبوب ہی ایسا ہے گویا اس کا گھر  کسی بند گلی میں نہیں بلکہ ایسے مرکزی مقام پر واقع ہے کہ بہت سے راستے  بلکہ ہر راستہ وہاں جا نکلتا ہے۔ تو ایسے محبوب کے در کو اگر عاشق پا لے تو اس میں بھی درحقیقت محبوب ہی کا کمال ہوا ، چناں چہ علامہ نے عشق کو ناز کرنے سے  روکا ہے ۔

عشق حقیقی کے حوالے سے ،  دیکھیں تو کائنات  میں ہر طرف  خالقِ کائنات نے اپنے جلوے اور اپنی نشانیاں بکھیری  ہیں ۔ پھر انسان کے اندر  اپنی معرفت کی  صلاحیت رکھی  ہے ۔ ان صلاحیتوں کو کام میں لا کر ، اس کی نشانیوں کے ذریعے سے  اس کی معرفت و محبت پیدا کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ رسول ﷺ نے فرمایا ’’ اللہ سے محبت کرو بسب اس کے کہ وہ  تمھیں اپنی نعمتوں سے   نوازتا ہے ،،  ایک  حدیث میں فرمایا گیا کہ جو اللہ کی طرف چل کر آتا ہے اللہ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہےتو یہ اس کی  توفیق ہی کا بیان ہے اور  قرآن  پاک میں ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد کروں  گا  اور  فرمایا ’’ جو ہمارے لیے محنت کرتے ہیں  ہم اسے اپنے راستوں کی ہدایت دیتے ہیں  تو یہاں بھی راستے کو جمع کے صیغہ میں لایا گیا  یعنی اللہ کو پانے کے رستے لامحدود ہیں ۔   البتہ ان راستوں پر چلنے کے لیے طلب  ِ صادق یقیناً د رکار ہے جس کی طرف  پہلے مصرعے میں اشارا کیا گیا ۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481