اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اُلجھنااور اُلجھ کر سلجھنا

اُلجھنااور اُلجھ کر سلجھنا

"میرے نصاب میں تشکیک اور نسیان داخل ہو گیا تھا۔ کیسے؟ یہ میں نہیں جانتا۔ تاہم اتنا جانتا ہوں کہ اس سے میں کئی برسوں سے نمٹ رہا تھا اور اب اس کی باڑھ اتنی شدید ہوگئی تھی کہ تلوار کی طرح کاٹتی تھی۔ خدا نے میرے باپ کو (جبکہ وہ صرف پچپن سال کے تھے) مجھ سے عین اُس وقت چھین لیا تھا جب میں اُن سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ شاید وہ بھی مجھ سے بہت سی باتیں کرنا چاہتے ہوں گے۔ مگرآخری کے بیس اکیس روز ہم چپ چاپ اندر ہی اندر آنسو پھینکنےاور ایک دوسرے سے کچھ نہ کہنے پر مجبور تھے۔ میرے حلقوم میں دُکھ نے رخنے ڈال دیے تھے جب کہ اُن کی زبان پر بھی فالج کا حملہ ہوا تھا؛وہ کچھ بولنا چاہتے تواُن کے ہونٹ کپکپاتےاور آنکھیں بولنے لگتی تھیں۔صرف ہونٹ ہی نہیں ان کا پورا بدن ہچکولے کھاتا تھا۔ اُن آخری دِنوں میں مجھے اندازہ ہوا تھا کہ اباجان نے زندگی کے یہ برس کس اذیت میں گزارے ہوں گے۔ ہماری زندگیاں بناتے بناتے انہوں نے اپنی زندگی تج دی اورہماری زندگیوں سے نکل گئے تھے۔
وہ ہم سے کیا بچھڑے تھے میں اپنی اُس شخصیت کو بھی اُدھیڑنے میں جُت گیا تھا جواب تک اچھی بُری بن چکی تھی؛ بالکل اُسی طرح جیسے امی جان کوئی سویٹر بُن چکتیں اور اُسے پھیلا کر دیکھتیں تو اندازہ ہوتا کہ جس کے لیے یہ سویٹربُنا گیاتھا اُس پر تو درست نہیں بیٹھے گا۔ وہ اُون کا ایک سرا پکڑ کر کھینچتیں، بنابنایا سویٹر اُدھڑتا جاتا ۔ وہ اسے ایک گولے کی صورت لپیٹ لیتیں۔
تشکیک نے مجھے اُدھیڑاتھااور نسیان کامعاملہ بالکل ویسا ہی تھاجیسے اُدھڑے ہوئے کو بھول جانااور صفر سے آغاز دینا۔ اب جب کہ میں کچھ فاصلے سےکوشش کرکے اپنی کمائی ہوئی شخصیت کو دیکھتا ہوں توپھر ایک بار سب کچھ دھوکا لگنے لگتا ہے کہ یہ تو اُسی مٹی گارے سے تعمیر شدہ عمارت ہے جسے تشکیک نے ملبا بنایا تھااور میں جس کے کاٹھ کباڑ کو فراموشی کے بیک یارڈ میں پھینک دِینا چاہتا تھا۔”

 

خوشبو کی دیوار کے پیچھے

 

محمد حمید شاہد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481