اگرچہ قوموں کے زوال کی کسی ایک وجہ کی نشان دہی بہت مشکل کام ہے لیکن تاریخی حقائق کا جائزہ لینے سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ درج ذیل عناصر کسی بھی قوم یا تہذیب کے زوال میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔
- جہالت اور گمراہی
- لیڈر شپ
- معاشی بد انتظامی، فضول خرچی، عیاشی
- سیاسی عدم استحکام
- معاشرتی بگاڑ
- بیرونی طاقتیں
اگر ہم مغلیہ سلطنت کے زوال پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں اس وقت جامعات بن رہی تھیں۔ نئی نئی تحقیقات ہو رہی تھیں، جن کے نتیجے میں ایجادات نو سامنے آ رہی تھیں۔۔۔۔۔
لیکن مغلوں نے بدلتے وقت کے تقاضوں کو بری طرح نظر انداز کیا۔
آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا زیادہ وقت شعر و سخن کے لیے صرف ہوتا حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ وہ امور سلطنت پر بھرپور توجہ دے کر اندرونی خلفشار کا خاتمہ کرتا تاکہ بیرونی خطرات سے نمٹنے کی راہ ہموار ہوتی۔ لیکن مغلوں کی کمزور اور عاقبت نا اندیش لیڈر شپ، انتظامی نااہلی، معاشی چیلنجوں، فوجی ہزیمتوں، اور فرقہ وارانہ اور گروہی تقسیم نے زوال کے عمل کی رفتار کو بہت تیز کر دیا۔ بیرونی حملوں کی وجہ سے عوام کا سلطنت پر سے اعتماد اٹھ گیا۔ اندرونی خلفشار نے مزید بیرونی حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کی۔ مختلف علاقوں کے ذمہ داران نے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ معاشی مسائل، سیاسی عدم استحکام اور اندرونی خلفشار نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو موقع فراہم کیا کہ وہ مغلیہ سلطنت کاخاتمہ کر دے۔ اور یوں 1857 کی ناکام جنگ آزادی کے بعد مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے بجائے برطانوی سامراج نے قبضہ کر لیا۔
راشد عباسی
