اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

می شود

می شود

علامہ محمد اقبال کی کتاب  زَبُورِ عَجَم  ۱۹۲۷ ء میں شائع ہوئی ۔ زَبور اس کتاب کا نام تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام کو دی گئی تھی ۔ فرعون کی غلام رہ چکنے والی قوم بنی اسرائیل ، عمالقہ کو شکست  دے کر شام فتح نہ کر سکی تھی ۔  حضرت داؤد علیہ السلام  بنی اسرائیل کے وہ باہمت جوان تھے، جنھوں نے ایک عرصے بعد جالوت کو قتل کر کے بنی اسرائیل کو فتح دلوائی اور  بنی اسرائیل  فاتحانہ طور پر شام میں داخل ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو  نبوت و حکومت دونوں سے نوازا ،چناں چہ  انھیں زَبور دی گئی ۔ زَبور عَجَم نام رکھنے کی حکمت یہی ہے کہ  اقبال کے خیال میں برصغیر کی نئی نسل اسے  انگریز کی غلامی سے نجات دلائے گی۔ ملک کی آزادی  کی صورت میں  اگرچہ اقبال کے خواب کا ایک حصہ تو اس کے بعد  جلد ہی  پورا ہو گیا  تھالیکن دوسرا  حصہ ملک وقوم کی تعمیر و ترقی ہنوز تشنہ تعبیر ہے۔ جس کے لیے قوم کی اصلاح کے دوسرے طریقوں کے ساتھ شعر و فکر اقبال کو بھی نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے ۔  زبور عجم کا تعارف اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

زبور عجم کے چار حصے ہیں ۔ پہلے دو حصوں میں بقول اقبال ’’ غزل نما نظمیں‘‘ ہیں ۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی  نے شرح زبورِ عجم میں  کہا ہے کہ بظاہر یہ غزلیں  نظر آتی ہیں لیکن یہ غزل نہیں بلکہ  نظمیں ہیں ۔ پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ   خطاب ہے اور دوسرے میں اللہ کے بندوں سے خطاب ہے ۔   تیسرے  حصے میں مثنوی گلشن راز جدید  ہے جو  محمود شبستری کی مثنوی  گلشن راز کی  طرز پر بعض فکری سوالات کا جواب دینے کی غرض سے لکھی گئی ۔  چوتھے حصے میں  مثنوی بندگی نامہ ہے جو مختلف فنون پر غلامی کے اثرات کو بیان کرنے کے لیے  نظم کی گئی ہے ۔ علامہ کو اپنی اس تصنیف پر خاصا ناز بھی تھا چناں چہ بالِ جبریل میں آپ نے یہ شعر کہا ہے:

اگر ہو ذوق  تو خلوت میں پڑھ زبور ِ عجم

فغانِ نیم شبی  بے نوائے راز نہیں

کتاب کی ابتدا  ’’بخوانِندَۃ کتابِ زبور    ‘‘ کتاب زبور عجم  پڑھنے والے سے خطاب ‘‘ سے ہوتی ہے  جس میں  تین شعر ہیں   ، یہ اشعار  غلام علی اینڈ سنز  کی کلیات فارسی میں شامل زبور عجم کے شروع میں شامل نہیں ہیں

می ‌شَوَد پَردهٔ چَشمَم پَرِ کاهے گاهے

دِیدهٔ  ‌ام هردَو جَهان را بَه نِگاهے گاهے

وادیٔ عشق بَسے دُور و دراز است

طے شَوَد جادَهٔ صَدساله به آهے  گاهے

دَر طَلَب کوش و مَدِه دامَنِ امید زِ دست

دَولَتے هست که یابے سرِ راهے گاهی

لفظی ترجمہ:

می ‌شَوَد

ہو جاتا ہے

پردهٔ چشمم

میری آنکھ کا پردہ

پر کاهے

کسی گھاس کا ایک تنکہ

گاهے

کبھی کبھی

دیده ام

میں دیکھ لیتا ہوں

هر دو جهان را

دونوں جہانوں کو

 

به نگاهے گاهے

کبھی ایک ہی نگاہ میں

وادی عشق

عشق کی وادی

بسے دور و درازست  ولے

بہت دور و دراز ہے لیکن

طے شود

طے ہو جاتا ہے

جادهٔ صد ساله

سو سال کا راستہ

به آهے گاهے

کبھی ایک آہ سے

در طلب

طلب میں

کوش

کوشش کر

و مَدِه

اور نہ دو ، نہ چھوڑو

دامن امید

امید کا دامن

زِدَست :

ہاتھ سے

دولتے هست

(وصال و قرب) ایسی دولت ہے

که یابے

کہ مل جاتی ہے

سر راهے گاهے

راستے کے کنارے کبھی کبھی

مطلب : شاعر کہہ رہے ہیں کہ  میری  کیفیات و  حالات میں کمی بیشی لگی رہتی ہے ۔ کبھی بندہ حالت قبض میں ہوتا ہے تو کبھی حالت بسط میں ، جیسے علامہ نے کہا :

گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود

گاہ الجھ کر رہ گئی میرے تَوَہُّمات میں

تو اس تصور میں انسانی  کمال کے  نقص  کو سامنے لایا گیا ہے جو اصل ِ   بندگی یعنی عاجزی  پیدا کرنے کا ذریعہ ہے ۔

عشق کی منزل یعنی قرب الٰہی  اگرچہ مشکل ہے لیکن اگر توفیق شامل حال ہو تو ایک آہ میں فاصلے طے ہو جاتے ہیں ۔اس لیے آہ و زاری  اور دعا و مناجات کو شیوہ بنانا  چاہیے اور کسی حال میں بھی  کوشش ترک نہیں کرنا چاہیے بلکہ جہاد فی اللہ میں لگے رہنا چاہیے کہ کبھی  اللہ کی توفیق عطا ہوتی ہے تو اچانک  سر راہ چلتے چلتے دولت تقرب عطا ہو جاتی ہے ۔

 

زبورِ عجم ۔۔باطنی افکار کا آئینہ

 

زبورِ عجم ۔۔باطنی افکار کا آئینہ

زبورِ عجم ۔۔باطنی افکار کا آئینہ

 

ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم
سخنی نگفته ئی را چه قلندرانه گفتم

ترجمہ:

ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم :

میں گھر کے بیرونی دروازے سے گذر گیا ، بغیر اس کے بارے میں بات کیے اور گھر کے اندر کی بات میں کرتا ہوں

سخنی نگفته ئی را چه قلندرانه گفتم
نہ کی جا سکنے والی بات ،میں درویشانہ انداز میں کہہ جاتا ہوں

مطلب :
اس کتاب زبور عجم کے مضمون و انداز کے بارے میں یہ راہنما شعر ہے :
کہ اس کتاب میں ظواہر یعنی ، انسان ، اس کے نظام زندگی اور اس کے دین کے ظاہری اعمال سے اس کتاب میں بحث نہیں کی گئی بلکہ ان کے باطنی اعمال یعنی افکار و خیالات و نظریات سے اس کتاب میں بحث کی جائے گی یعنی یہ کتاب چیزوں کے ظاہر کے بجائے ان کی حقیقت سے بحث کرتی ہے ،، اسلاف سے منقول ایک دعا کا مفہوم ہے کہ اے اللہ مجھے چیزوں کی حقیقت دکھا دے جیسی وہ ہیں ۔
علامہ کا اردو شعر ہے :
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن ۔۔۔
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
اس کتاب کے انداز کلام کو اقبال نے درویشانہ کہا ہے یعنی سادہ انداز میں کلام کیا گیا ۔
یوسف سلیم چشتی فرماتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس کتاب وہ منظر نگاری ، تاریخی شخصیت اور علاقوں کا ذکر و تعارف اس کتاب میں نظر نہیں آتا
علامہ نے اپنے اس سلسلے کو جو ،، سخنے ناگفتہ ،، یعنی نہ کی جانے والے بات کہا تو اس کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا کہ سابقہ ادوار میں لوگ جن حقائق کو اسرار و رموز قرار دے کر عام لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے میں نے وہ آشکار کر دیں اور دوسرا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ میں ان کل کے مادیت زدہ ماحول میں ، جب کہ روح دین اور علم حقائق کا بیان مفقود ہو گیا ہے میں نے اس کے بیان کا بیڑہ اٹھا لیا ۔

فرہنگ :

 

ز : از ۔۔۔ سے
برون : متضاد درون ، باہر

در ؛ دروازہ

گذشتم میں گزر گیا، از مصدر گذشتن :

خانہ : گھر
گفتم ،میں بات کرتا ہوں

سخنی ، سخن کا نکرہ ، ایک بات یا کچھ بات یا بڑی بات

نگفته ئی : جس پر بات نہ کی جا سکے ، ہمزہ نسبت کی زیر کے طور پر آیا ہے ۔ اور نگفتہ صفت ہے اپنے موصوف سخن کی ،،،

چہ : استفہام و تعلیل وغیرہ لیکن ربط کلام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اکثر ۔۔

قلندر : مجرد ، درویش


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481