اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کیا ن م راشد نے اپنی میت جلانے کی وصیت کی تھی ؟

ن م۔راشد کو خراج عقیدت

” میں اس بات کو واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میرے والد ن م راشد نے کبھی یہ خواہش نہیں کی تھی کہ ان کی میت کو آگ کے سپرد کیا جاۓ ۔
جب 10 اکتوبر 1975ء میں میرے والد حرکتِ قلب بند ہوجانے سے فوت ہوۓ تو میری سوتیلی والدہ شیلہ نے جو کہ باپ کی جانب سے اطالوی اور والدہ کی طرف سے انگریز ہیں ، مجھے فون کیا کہ میرے والد کی دل کے دورے سے وفات ہوگئ ہے ۔ میں نے فوراً مانٹریال سے لندن روانہ ہونے کی تیاری شروع کردی ۔ اسی دوران میرے چچا فخر محمد ماجد کا لاہور سے فون آیا کہ شیلہ میت کو پاکستان بھیجنے کی تیاری ن ہیں کررہی بلکہ لندن ہی میں آگ کے سپرد کررہی ہے اور میں اور فاروق بھی اسے اس حرکت سے منع کریں ۔ جیسے ہی مجھے یہ خبر ملی میں نے پریشانی کی حالت میں شیلہ کو دوبارہ فون کیا کہ ہم سب رشتہ داروں کہ یہ راۓ ہے کہ انہیں سپردِ آگ نہ کیا جاۓ ۔ ہمارا معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دے گا ۔ شیلہ فوراً بولی کہ راشد کی یہ خوہش تھی اور وہ وہی کرے گی جو ان کی خواہش تھی ۔ اور یہ کہ چند ماہ پہلے جب شیلہ کے اپنے والد ( جو اطالوی تھے ) کی میت سوزی کی گئ تو میرے والد نے شیلہ سے یہ کہا تھا کہ
what a nice , queit way to go .
اس لۓ ان کی یہ خواہش پوری کرنا چاہتی ہے ۔ میں نے لندن روانہ ہونے کا ارادہ ترک کردیا کیوں کہ میں اپنے والد کی میت کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
چند روز بعد میں نے شیلہ کو فون پر پوچھا کہ کیا ان کی کوئ آخری رسومات کی ادائیگی کے بارے میں تحریر کردہ کوئ کاغذ ہے تو اس نے بتایا کہ لکھا ہوا تو کچھ بھی نہیں ہے مگر یہ کہ اس نے ان کی خواہش کو پورا کیا ہے اور یہ کہ میرا بھائ شہریار جس کی عمر صرف ستائیس برس تھی اس نے بھی شیلہ کے ساتھ تعاون اور اتفاق کیا ہے ۔ شیلہ کو چاہیۓ تھا کہ میرے چچا ماجد کی بات سنتی ۔ شہریار کم عمری اور زیادہ وقت امریکہ میں رہائش کی وجہ سے اس بات کی اہمیت کو نہیں جان سکا تھا ۔ میں اور شہریار جب آخری بار ابی جان سے نومبر 1972ء میں برسلز میں شیری کے گھر پر ملے تو انہوں نے ہم سے ذکر کیا کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اب ان کا دل کمزور ہوچکا ہے اور اب معلوم نہیں اب کتنی دیر اور زندگی ہوگی ۔ لیکن انہوں نے میت سوزی کے بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ ان کا خط جو انہوں نے ہم سب بہنوں اور بھائ کو 1975ء کے شروع میں لکھا تھا اور اپنی صحت جو خراب ہورہی تھی اس کا بھی ذکر کیا تھا مگر اپنی میت کو آگ کے سپرد کرنے کا کوئ ذکر پھر بھی نہیں کیا تھا ۔ اور اگر فوت ہونے سے چھ مہینے پہلے جب شیلہ کے والد کی میت سوزی ہوئ تھی اور اگر انہوں نے یہ بات پسند کی تھی تو یہ ہمارے چچا ماجد اور ہم سب سے بھی اس کا ذکر ضرور کرتے کیونکہ ان کی شروع سے عادت تھی کہ ہر ایسی بات ہم سب سے کہہ دیتے تھے ۔
میرے والد بھی چلے گۓ ، چچا ماجد بھی چلے گۓ اور میرا بھائ بھی اللہ کو پیارا ہوگیا اور میں اس دکھ میں ہوں کہ ہم کیوں اس وقت شیلہ کو نہ روک سکے ۔ اس نے میرے والد کی عظمت اور دانائ کو نہ سمجھا اور اس نازک وقت میں اپنی ضد پر اڑی رہی ۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ اس کے اس قدم سے میرے والد کی ذات کو ، ان کے مذہبی عقیدے کو ، ان کے سامعین کو اور ان پر تحقیقی کام کو کیا کیا خسارہ پہونچے گا ۔ ”
یاسمین راشد حسین
وفات 21 اگست 2021ء
رسالہ بنیاد لاہور
مارچ 2010ء

ن م راشد کی آخری رسومات میں گیارہ افراد شریک تھے ۔ عبداللہ حسین ، ساقی فاروقی ، مسز ساقی فاروقی ، عاقل ہشیار پوری ، علی باقر ، محمد افضل ، وقار لطیف ، شیلا انجلینی ، مسز الیسیا انجلینی ، کینتھ راپکن ، اینجلا ۔
کسی وجہ سے ن م راشد کے بیٹے شہریار راشد قدرے تاخیر سے کریمیڑوریم پہنچے اور آخری رسومات میں شامل نہ ہوسکے ۔

 

ن م۔راشد کو خراج عقیدت

ن م۔راشد کو خراج عقیدت

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!
زندگی سے ڈرتے ہو ؟
آدمی سے ڈرتے ہو ؟
آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
”ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو

پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے ”بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو ؟
ہاں ابھی تو تم بھی ہو

ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
تم ابھی سے ڈرتے ہو

✍ ن م راشد

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481