اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دیدہ دل۔۔۔۔۔ڈاکٹر شکیل کاسیروی

2 2

تحریر۔  :  ڈاکٹر شکیل کاسیروی

بتاریخ  :  7 جنوری 2024۔

کل پنجاب  آرٹس کونسل راول پنڈی میں مری کے معروف شاعر و ادیب راشد عباسی کی کتاب "عشق اڈاری” کی تقریب رونمائی تھی.

مجھے امجد بٹ، ڈاکٹر کامران خان اور دیگر احباب کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا اور تاکید بھی کہ ہر حال میں تقریب میں شرکت کرنی ہے۔  سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ بھی ماں بولی کی خدمت کر رہے ہیں مجھے ان سے قدرتی انس ہے اور اس وقت راشد عباسی پہاڑی زبان و ادب کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے اور وہ دل جمعی کے ساتھ سارے کام چھوڑ کر ماں بولی کی بقا کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کے ساتھ پروفیسر اشفاق کلیم عباسی، ڈاکٹر کامران خان، ڈاکٹر عابد عباسی، ظہیر چاچو، حماد سکندر (پہاڑی زبان اساں نی پچھان)، آصف مرزا، امجد بٹ اور دیگر بہت سے افراد بھی اس سلسلے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہل نیوز کے پلیٹ فارم سے بھی گزشتہ برس نہایت معیاری ادبی بیٹھکوں کا اہتمام کیا گیا۔ بہ وجوہ موسم گرما میں یہ سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا لیکن اس کا جلد دوبارہ احیاء ہونا چاہیے۔

 

مری کے ساتھ ساتھ کشمیر سے بھی ڈاکٹر محمد صغیر، ممتاز غزنی، علی احمد کیانی اور حمید کامران جیسے لکھاری تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں اور ان کی کتب شائع ہو رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تو پہاڑی زبان کی سرکاری اکیڈمی موجود ہے اور وہاں پہاڑی میں ماسٹرز کی کلاسیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ ان کاوشوں سے دم توڑتی ماں بولی کے احیاء اور فروغ کی راہ ہموار ہوئی ہے ورنہ ہماری ہماری زبان اور ثقافت کے زوال کی شدت سے ان کی معدومیت کے خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

 

میں پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی پہنچا تو ماشاءاللہ ہال کے باہر میںز پر پہاڑی زبان کے حوالے سے بہت سی تصانیف و رسائل موجود تھے۔  ہال میں داخل ہوا تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، جو اس بات کا غماز تھا کہ ہمارے علاقے کے لوگوں کو اپنی ماں بولی کے ساتھ انس ہے، پیار ہے اور وہ اس کی بقا کے لیے کوشش کرنے والوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سٹیج پر جناب آصف مرزا، جسٹس طارق عباسی، سجاد عباسی، ذولفقار امین عباسی ایڈوکیٹ، محمد شکور اور صاحب صدارت معروف شاعر اور ناول نگار اختر رضا سلیمی موجود تھے۔  نظامت پروفیسر اشفاق کلیم عباسی فرما رہے تھے، جنھوں نے نہایت خوبصورت انداز میں اور بہترین تنظیم الاوقات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

دو سے ساڑھے پانچ بجے تک وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ تمام مقررہن نے بہت خوبصورت، وقیع، فکر انگیز اور مثبت تجاویز و خیالات کا اظہار کیا، جس سے ایک امید جاگی کہ ہماری ماں بولی کا مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے۔  ایسے عشاق کے ہاتھوں میں ہے جو اس کی ترقی و ترویج کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

 

تقریب کے اختتام پر شرکاء تقریب نے ایک ایک، دو دو، پانچ پانچ اور دس کتب تک بھی خریدیں تاکہ ماں بولی کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور ان کی مالی اعانت ہو سکے۔  میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بھرپور اور کامیاب  تقریب تھی۔ میری رائے اور خواہش ہے کہ اس نوع کی تقاریب کا انعقاد تواتر کے ساتھ مختلف مقامات پر ہو، خصوصا کوہسار کے دیہات میں ایسی تقاریب منعقد ہوں تاکہ ماں بولی کے اصل وارثوں کو اس وقیع کام کے ساتھ جوڑا جا سکے۔  سکولوں اور کالجوں کے طلبا اور اساتذہ کو بھی ایسی تقاریب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ مستقبل کے لکھاری، دانش ور اور ایکٹویسٹ سامنے آئیں۔ ماں بولی کے لیے کی جانے والی کوششیں اور کاوشیں اگے بڑھنی چاہییں اور اس میں تمام احباب کو شامل ہونا چاہیے۔

 

کوہسار کے وہ لوگ جو شہروں میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں ان سے بھی گزارش ہے کہ اپنے آبائی علاقوں سے ربط و انسلاک بحال کریں۔ اپنی زمینیں آباد کریں۔ آبائی علاقوں میں اپنے مکانوں کو قابل رہائش بنائیں۔ آمد و رفت بحال کریں تاکہ نئی نسلوں کو اپنے رسوم و رواج، اپنی روایتوں، قدروں اور رہن سہن کا پتہ چلے۔ یاد رکھیے ! اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ماں بولی سے جڑے رہنا ناگزیر ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481