اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ڈی آئی خان حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ موصول

ڈی آئی خان حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ موصول

ڈی آئی جی عمران شاہد کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے اہم شواہد مل چکے ہیں اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی موصول ہوگئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی انسداد دہشت گردی عمران شاہد کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال 23 خود کش حملے ہوئے، جن میں سے متعدد حملے ناکام بنائے، دہشت گردی کے مختلف واقعات میں رواں سال 184 پولیس شہید ہوچکے ہے اور 408 زخمی ہوئے ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ رواں سال 1093 کیسز رجسٹرڈ کئے گئے، اور مختلف مقدمات میں 2595 دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 726 دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کے چیلنجز ہر وقت موجود رہتے ہے، پاک افغان سرحد کے قریب علاقوں میں سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔

عمران شاہد کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقام افغان باشندوں کی واپسی کے بعد صوبے میں اسٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے، تمام مہاجرین بدامنی میں شامل نہیں تھے، اور 17 لاکھ مہاجرین میں سے 3 لاکھ افراد کے واپس جانے سے بدامنی اور دہشت گردی میں اچانک کمی واقع نہیں ہوگی۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے ڈی آئی خان حملے کے کئی اہم شواہد مل چکے ہے، اور حملے میں ہلاک دہشتگردوں کی ڈی این اے رپورٹ بھی حاصل کرلی ہے۔

عمران شاہد کا مزید کہنا تھا کہ پورا صوبہ حساس ہے، کسی علاقوں کو نارمل نہیں لے رہے ہے، دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کے ساتھ سی ٹی ڈی نے بھی کارروائی سخت کردی ہے، جرائم پر قابو کرنے کے لیے حکومت نے جدید سافٹ وئیرز دیے ہیں، اور سی ٹی ڈی کی فنڈنگ کا مسئلہ بھی حل کردیا گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481