اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بینظیر کے آخری لمحات، درخت پر کیا نظر آیا تھا؟

بینظیر کے آخری لمحات، درخت پر کیا نظر آیا تھا؟

ناہید خان نے بینظیر کی شہادت والے روز لیاقت باغ جلسے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسٹیج پر بیٹھے تو بار بار سامنے دیکھ رہی تھیں،

پھر کچھ مخدوم صاحب سے پوچھا جو ان کے ساتھ بیٹھے تھے، میں عقب میں تھی جب مجھے بلا کر پوچھا کہ ان درختوں پر کچھ نظر آرہا ہے،

میں نے کہا بی بی وہاں تو کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ دسمبر میں پتے تک گرے ہوتے ہیں، اس پر ہنستے ہوئے کہنے لگیں کہ میں نے ابھی مخدوم صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا۔

اب کراچی جاؤں گی تو یاد کروانا کہ آئی اسپیشلسٹ کے پاس جاؤں لگتا ہے میری نظر کمزور ہورہی ہے۔

ناہید خان کے مطابق ، ’اس جلسے کی ان کو بہت خوشی تھی، مجھے مبارک باد دی تو میرے شوہرصفدرعباسی بھی ساتھ تھے جنہوں نے شکوہ کیا کہ بی بی آپ ناہید کو شاباش دے رہی ہیں لیکن مجھے نہیں تو اس پر وہ ہنس پڑیں اور کہا کہ سارا کریڈٹ ناہید کوجاتا ہے، انہوں نے مجھے گلےسے لگا کرپیار کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں  بینظیر بھٹو کو اس دنیا سے گئے 16 سال بیت گئے

’پھر وہ گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں اور صفدر سے بولیں کہ زور دار نعرے ہونے چاہئیں۔ صفدر نے میگا فون پر نعرے لگانے شروع کر دیے جس کے بعد بی بی پر اٹیک ہوا اور جب انہیں گولی لگی تو وہ گاڑی کے اندر میری ہی گود میں آ کر گریں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ، ’گاڑی جلسہ گاہ سے نکل رہی تھی تو بونٹ کے اوپر بھی لوگ چڑھ گئے تو بی بی کہنے لگیں یہ بیچارے اندر دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں تو میں کھڑی ہوجاتی ہوں، انہوں نے صفدرسے انگلش میں کہا، ’صفدر واٹ اباؤٹ سم نعراز؟ ’ انہیں نعرے لگانے کے لیے میگا فون دیا اور خود سن روف سے نکل کر کھڑی ہوگئیں، اس دم مجھے فائر کی آواز آئی اورسیکنڈز میں مجھے لگا میری گود مین کوئی چیز گری ہے۔ وہ میرے اوپر گری تھیں میں نہیں بتا سکتی کہ ان کا خون کیسے بہہ رہا تھا۔ صفدر نے خون روکنے کو کہا میں نے اپنا دوپٹہ ان کے سرپر رکھا اور اس دوران وہ ایک لفظ نہیں بول سکیں‘۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481