اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وفا ہے ذات عورت کی۔روشن بی بی جو دہشت گردوں سے مردانہ وار لڑی

38be0ab8 5f33 40c1 9572 77ab347eb0e9

ام عزوہ

روشن بی بی ۔۔۔اس خوش بخت گھرانے کی روشنی جس کی خاطر اس نے ایک نہیں کئی گولیاں اپنے جسم میں اتار لیں۔۔۔اور اپنے کنبے کے حصے میں آنے والی متوقع تکلیف کو اپنے وجود پر ٹھہرا لیا۔۔۔

ابھی چند ہی دن گزرے ہیں سانحہ چلاس کو، یقینا آپ بھولیں نہ ہوں گے۔۔۔ایک ایسی آواز جس کی باز گشت اب بھی سنائی دیتی ہے ہر باوفا عورت کے دل میں۔۔۔
"لیٹے رہو ۔۔۔بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے ہیں۔۔”

شوہر جیسے ہی اٹھنے کی یا سر اٹھانے کی کوشش کرتا، بیوی اسے سختی سے منع کرتی۔۔ وہ اس وقت تک اپنے کنبے کی ڈھال بنی رہی ، جب تک گولیوں کی بارش تھم نہیں گئی۔ اس دوران چھ گولیاں روشن بی بی  کے جسم میں پیوست ہوئیں اور وہ کمال صبر و برداشت کے ساتھ شوہر پر پڑنے والے ہر درد کو اپنی پشت پر جھیلتی رہی۔

6ec787fd 881a 4bc9 8f6d 3abca845cc1b
کچھ دنوں پہلے کا واقعہ۔۔۔ یقیناً تفصیل آپ تک پہنچ چکی ہوگی کہ کس طرح یہ خاندان گلگت کے ایک علاقے سے کراچی کے لیے محو سفر تھا روزگار کی تلاش میں ۔مغرب کی نماز کے لیے بس رکی۔۔ رات کی تاریکی ہر طرف اپنے پنجے گاڑ چکی تھی، سڑک پر چار سو اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔اس دوران بلبل شاہ(روشن بی بی کے خاوند) کی آنکھ لگ گئی۔ چھوٹا بیٹا باپ  کی گود میں اور بڑی بیٹی روشن بی بی کی گود میں تھی۔ علاقہ بلتستان کا ہی تھا۔

اچانک  روشن بی بی کو یوں محسوس ہوا جیسے بارش ہو رہی ہو۔(وہ گولیوں کی بارش تھی) اور خون کو پانی کی طرح ارزاں ہوا جا رہا تھا۔  روشن بی بی کھڑکی والی سائیڈ پر تھیں۔جوں ہی اسے صورتحال کی سمجھ آئی ۔اس نے دونوں بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے اور خود شوہر پر گر گئی اور اس وقت تک اپنے جسم پر گولیاں کھاتی رہی۔۔جب تک فائرنگ تھم نہ گئی۔۔۔اس کے بعد کیا ہوا وہ الگ تفصیل ہے۔۔

گولیوں سے چھلنی روشن بی بی کو مشکل سے بچایا گیا اور کئی بار سرجری کے بعد اب وہ صحت مند ہو چکی ہے۔ بلا شبہ روشن بی بیجس طرح برستی گولیوں کے سامنے اپنے خاندان کی ڈھال بنی،اسی طرح وہ اس منفی رویے کے سامنےبھی ایک مضبوط ڈھال ہے، جو مایوسی پھیلانے کو فرض عین سمجھتا ہے۔

"اپنا کھانا خود گرم کرو”،ہم تمہاری غلام نہیں” وغیرہ جیسی آوازیں بلند کرنے والی خواتین جو اپنے تئیں عورتوں میں شعور بیدار کر رہی ہیں،مگر درحقیقت اس کے برعکس کر رہی ہیں،اور نتیجتا” خوعاتین کے حوالے سے منفی آرا کو فروغ دے رہی ہیں،روشن بی بی  ان کے رویے کیخلاف بھی کھلا چیلنج ہے،ہر دو انتہاؤں تک سوچنے والے لوگوں کو روشن بی بی نے ایک ہی مضبوط پیغام دیا ہے کہ "وفا ہے ذات عورت کی۔”
شکریہ روشن بی بی۔خدا آپ کو جگمگاتا رکھے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481