ام عزوہ
روشن بی بی ۔۔۔اس خوش بخت گھرانے کی روشنی جس کی خاطر اس نے ایک نہیں کئی گولیاں اپنے جسم میں اتار لیں۔۔۔اور اپنے کنبے کے حصے میں آنے والی متوقع تکلیف کو اپنے وجود پر ٹھہرا لیا۔۔۔
ابھی چند ہی دن گزرے ہیں سانحہ چلاس کو، یقینا آپ بھولیں نہ ہوں گے۔۔۔ایک ایسی آواز جس کی باز گشت اب بھی سنائی دیتی ہے ہر باوفا عورت کے دل میں۔۔۔
"لیٹے رہو ۔۔۔بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے ہیں۔۔”
شوہر جیسے ہی اٹھنے کی یا سر اٹھانے کی کوشش کرتا، بیوی اسے سختی سے منع کرتی۔۔ وہ اس وقت تک اپنے کنبے کی ڈھال بنی رہی ، جب تک گولیوں کی بارش تھم نہیں گئی۔ اس دوران چھ گولیاں روشن بی بی کے جسم میں پیوست ہوئیں اور وہ کمال صبر و برداشت کے ساتھ شوہر پر پڑنے والے ہر درد کو اپنی پشت پر جھیلتی رہی۔

کچھ دنوں پہلے کا واقعہ۔۔۔ یقیناً تفصیل آپ تک پہنچ چکی ہوگی کہ کس طرح یہ خاندان گلگت کے ایک علاقے سے کراچی کے لیے محو سفر تھا روزگار کی تلاش میں ۔مغرب کی نماز کے لیے بس رکی۔۔ رات کی تاریکی ہر طرف اپنے پنجے گاڑ چکی تھی، سڑک پر چار سو اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔اس دوران بلبل شاہ(روشن بی بی کے خاوند) کی آنکھ لگ گئی۔ چھوٹا بیٹا باپ کی گود میں اور بڑی بیٹی روشن بی بی کی گود میں تھی۔ علاقہ بلتستان کا ہی تھا۔
اچانک روشن بی بی کو یوں محسوس ہوا جیسے بارش ہو رہی ہو۔(وہ گولیوں کی بارش تھی) اور خون کو پانی کی طرح ارزاں ہوا جا رہا تھا۔ روشن بی بی کھڑکی والی سائیڈ پر تھیں۔جوں ہی اسے صورتحال کی سمجھ آئی ۔اس نے دونوں بچے سیٹ کے نیچے چھپا دیے اور خود شوہر پر گر گئی اور اس وقت تک اپنے جسم پر گولیاں کھاتی رہی۔۔جب تک فائرنگ تھم نہ گئی۔۔۔اس کے بعد کیا ہوا وہ الگ تفصیل ہے۔۔
گولیوں سے چھلنی روشن بی بی کو مشکل سے بچایا گیا اور کئی بار سرجری کے بعد اب وہ صحت مند ہو چکی ہے۔ بلا شبہ روشن بی بیجس طرح برستی گولیوں کے سامنے اپنے خاندان کی ڈھال بنی،اسی طرح وہ اس منفی رویے کے سامنےبھی ایک مضبوط ڈھال ہے، جو مایوسی پھیلانے کو فرض عین سمجھتا ہے۔
"اپنا کھانا خود گرم کرو”،ہم تمہاری غلام نہیں” وغیرہ جیسی آوازیں بلند کرنے والی خواتین جو اپنے تئیں عورتوں میں شعور بیدار کر رہی ہیں،مگر درحقیقت اس کے برعکس کر رہی ہیں،اور نتیجتا” خوعاتین کے حوالے سے منفی آرا کو فروغ دے رہی ہیں،روشن بی بی ان کے رویے کیخلاف بھی کھلا چیلنج ہے،ہر دو انتہاؤں تک سوچنے والے لوگوں کو روشن بی بی نے ایک ہی مضبوط پیغام دیا ہے کہ "وفا ہے ذات عورت کی۔”
شکریہ روشن بی بی۔خدا آپ کو جگمگاتا رکھے۔
