اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

 کالم شالم ( اج کی پکائیے ) ۔۔ ۔۔۔۔ شکیل اعوان

1aafcb8f 9648 4d09 9931 d1086ea52ad1

"اللہ اوہ جہان چنگے کرے دادی جان "کا
آسمان پر بادل جیسے ہی نظر آتے کہتی
"باٹ ناں دل کرنا ” اور ہمارے والد صاحب ہمیں اپنی "دوجنگہی ” کنونس اسٹارٹ کرنے کا حکم دیتے اور ہم ” ہک سو پینٹھ "میل فی گھنٹہ کی رفتار سے” لم کڈھتے ” ہوۓ چاچا دادو کی دوکان پر سُوجی اور حلوے کے بقیہ لوازمات لینے پہنچ جاتے اور یہ عمل سردیوں کے موسم میں ہر دوسرے تیسرے دن دہرایا جاتا۔۔۔

آج جیسے ہی ایبٹ آباد کو بادلوں نے گھیرا ہمیں بچپن میں جانا پڑا اور ہم نے عدن میاں کو” دوجنگہی "اسٹارٹ کرنے کا آڈر دیا، بس فرق اتنا ہے کہ ہم راستے میں آتے ہوےہوئے آدھا کھوپہ میوہ کھاجاتے، جبکہ آج کی نسل ایسی خالص غذاؤں سے
دُور ہی رہنا پسند کرتی ہے، بہت زیادہ ہوا تو پاپڑ شاپڑ کھالیے ؟ خیر ہم نے باٹ بنانے کا اِذن تو دادی جان سے ” نکی عمرے "ہی لے لیا تھا جو آج بھی کام آرہا ہے مگر کچھ کلاسزز آپا زبیدہ سے بھی آن لائن لی ہیں،کہ جدید وقدیم کا امتزاج رہے
ہم نے کالے گُڑ کو خالص مکھن میں فرائی کیا اور خُشک میوہ جات کو شازیہ خشک سمجھ کر "کلکتّے” ہوۓ تیل میں ڈال دیا، اب یوں لگ رہا ہے جیسےسہون شریف کے میلے پر شازیہ خشک
"آ میڈا ادھا گھن میڈی موکل
میں تیڈے نال جُلدی آں”گا رہی ہو ۔

اب اصل مشقت طلب کام "باٹ” کو ہلانا ہے، جو ہم کر رہے ہیں سیانے کہتے ہیں
اعلٰی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سوبارعقیق کٹا تب نگیں ہوا

ہم جانتے ہیں اور چشم ِتصور سے دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے منہ میں بھی دریاےکُنہار آرہا ہے مگر چنتا نہ کریں بس تیار ہولینے دیں۔ بقول چاچا چڑیا سارا حلوہ کھا کر کہا کرتے تھے” پُترا کیاں رونا ایں۔۔۔ جیہا میں کھادا تے جیہاتوں کھادا ”

اب ہلکی آنچ پر ہم چمچہ چلا رہے ہیں اور آپ تو جانتے ہیں چمچہ چیز ہی ایسی ہے جب تک چلتا ہے قائدین کی نظر میں رہتا ہے ؟
اب "خشبوئی نے اوکار اچھن لگی پے ” سچل میاں تیسرے کمرے سے” آلے” دے رہا ہے کہ پپّا اب کیا دیرہے ؟ ہم اس باٹ کو مکھڈی طرز پر بنا رہے ہیں اور آپ جانتے طرز بنانا ہمارا کام بھی ہے شوق بھی روزی روزگار بھی سو” باٹ” کا سُریلہ ہونا لازم ہے۔۔۔

جہاں دادی جان اور زبیدہ آپا کی ریسپی کام آرہی ہے، وہاں اپنے ماہرین حلویات کو یاد نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی” نکی مسیت ” (چھوٹی مسجد نگری ) میں ہمارے ایک مولوی صاحب جبوڑی سے آئے، سردیوں کے دن تھے۔ اکثر ہم مولوی صاحب کے ہجرے میں حلوے کی بیٹھک لگاتے ،جب تک حلوہ تیار ہوتا، ذکر ازکار کا دور دورہ ہوتا جو کچھ یوں پڑھا جاتا تھا
اللہ ھُو دے خزانے کُھلے ہوئے نی
جنتاں وچ موتی ڈُلے ہوئے نی
پڑھو لاالاااللہ۔۔۔

یوں ماحول کو گرمایا جاتا، باطنی وظاہری طور پر ، ایک روایت ہے ایک بار ایک مولانا صاحب کسی قُل شریف پر گئے جہاں حلویات کا خاطر خواہ انتظام تھا۔ سو کھانے کو زندگی کا آخری کھانا سمجھ کر کھا گئے۔ اب چلنا دشوار تھا سو طالب علموں نے” منجی "منگوائی اور مولانا صاب کو ڈال کر چلنے لگے۔۔۔ ایک گلی سے گُزر ہوا تو اندر سے آوازیں آرہی تھیں "اِدھر ڈالو۔۔ اُدھر ڈالو” تو موصوف نے غنودگی کے عالم میں بالکے سے پوچھا۔ اِدھر کیا چیخ و پکار ہے؟
بالکا بولا سرکار اِدھر حلوے کا "دنوکار” ہے
موصوف نے” ہٹو پٹ ” کہا
"لاء دیو منجی مرنا ہکو وار ہے ”

2451e469 14fd 4112 a70e 6e46dd8e9a35
اب باٹ مکمل تیار ہوچُکا ہے اب ہلہ بولنے کا وقت ہے سو آپ اپنے مقامی وقت کے مطابق ہلہ بولیں اور” پِنج پٹیں ”
جیسے ہمارے مقتدر حلقوں نے 16 دسمبر کو ایک جیتے ہوئے شخص کو ہرا کر پورے مُلک کی
” پِنج پٹی ” اور آج جن کی” پِنج پٹی ” گئ وہ ہم سے بہت آگے نکل گئے اور ہم ٹکے ٹکے کے محتاج در در بھیک مانگ رہے ہیں۔ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا ہوجاتی ہے اگر مقتدر لوگ دماغ کے بجاۓ پیٹ سے سوچیں اور فیصلے کریں ؟
آخری گل
سب سے پہلے باٹ کھانے کی نیت حاضر کریں جیسے کرپٹ لوگ مُلک کھانے کی کرتے ہیں
انتباہ
تمام تاریخی حقائق بچوں کی پہنچ سے دُور رکھیں، طبعیت زیادہ خراب ہو تو ڈنڈے سے رجوع کریں اور اگر آپ کمزور ہیں تو تمام قوانین پر سختی سے عمل کریں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481