اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی

ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی

چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس اعجاز الاحسن کو جوابی خط میں لکھا کہ ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس اعجازالاحسن کو جوابی خط لکھ دیا،

انہوں نے جسٹس اعجاز الاحسن کو خط 18 نومبر کو تحریر کیا،

انہوں نے خط میں لکھا کہ میرے دروازے اپنے تمام ساتھیوں کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں،

میں انٹرکام اور فون پر بھی ہمیشہ دستیاب ہوں، آپ نے اپنے تحفظات کیلئے نہ مجھے کال کی نہ ملاقات کیلئے آئے، آپ کا خط ملنے پر فوری آپ کے انٹرکام پر رابطہ کی کوشش کی لیکن جواب نہ ملا۔

چیف جسٹس نے مزید لکھا کہ میں نے اپنے سٹاف کو آپ کے ساتھ رابطے کا کہا،

سٹاف نے بتایا کہ آپ جمعہ دوپہر کو لاہور چلے گئے ہیں، ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی،

 

جج کی پہلی ذمہ داری عدالتی فرائض کی انجام دہی ہے، اگر مجھے مشورہ کرنے میں دلچسپی نہ ہوتی تو جس ایکٹ کوآپ نے معطل کیا تھا اس پر عمل کیوں کرتا؟

چیف جسٹس نے خط میں لکھا کہ اگر مجھے ججز کمیٹی کے فیصلوں پر عمل نہ کرنا ہوتا تو اس کاروائی کو پبلک کیوں کرتا؟ بے بنیاد الزامات کے جواب دینے سے پہلے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ

ججز کمیٹی کے تین اجلاس آپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی ہوئے،

اگر ججز روسٹرز پر آپ کے اعتراضات ہیں تو نیا اجلاس بلا کر نئے بنچز کی تشکیل پر غور ہو سکتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481