اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پارلیمانی بورڈ اجلاس میں کیپٹن صفدر۔ بیرسٹر جاوید عباسی لڑ پڑے

پارلیمانی بورڈ اجلاس میں کیپٹن صفدر۔ بیرسٹر جاوید عباسی لڑ پڑے

ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے نواز لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں بیرسٹر جاوید عباسی اور کیپٹن صفدر کے درمیان تلخ کلامی کا انکشاف ہوا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ نون نے تین روز سے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں مختلف علاقوں سے پارٹی ٹکٹوں کے خواہشمند امیدواروں کے انٹرویو کیے جاتے ہیں۔

اجلاس کی صدارت خود میاں نواز شریف کرتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ چیف آرگنائزرمریم نواز شریف ۔ پارٹی صدر شہباز شریف۔سیکرٹری جنرل احسن اقبال۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر سینیئر رہنما موجود ہوتے ہیں۔

امیدواروں کے انٹرویوز کے دوران گزشتہ روز سرگودھا اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات پیش ائے جس پر نواز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ ائندہ اگر کسی نے دوسرے پر الزامات لگائے تو اسے اجلاس سے نکال دیا جائے گا۔ امیدوار صرف اپنی اپنی کارکردگی پیش کریں۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں ہزارہ ڈویژن اور مالاکنڈ کے امیدواروں کا فیصلہ کیا جانا تھا جس میں کے پی سے تعلق رکھنے والی پارٹی قیادت امیر مقام۔سابق ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی۔وفاقی وزیر سردار یوسف۔سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا۔ اور دیگر رہنما شریک تھے ۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں جب ہزارہ ڈویژن کے امیدواروں کے ٹکٹوں سے متعلق انٹرویوز شروع ہوئے تو کیپٹن صفدر نے بیرسٹر جاوید عباسی کو مخاطب کر کے کہا کہ اپ نے تو مشرف دور میں کہا تھا کہ مسلم لیگ قصہ پارینہ بن چکی ہے۔
اس کے جواب میں بیرسٹر جاوید عباسی غصے میں اگئے اور انہوں نے کہا کہ ذاتی حملے نہ کیے جائیں۔۔ اگر ذاتیات پر جائیں گےتو میں چاہوں تو اجلاس میں کیپٹن صفدر کا سارا کچا چٹھا کھول سکتا ہوں۔

اجلاس میں شریک ذرائع کے مطابق گفتگو پر نواز شریف حیران رہ گئے جبکہ مریم نواز بار بار پانی پیتی رہیں تاہم پارٹی صدر شہباز شریف نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام نہ لگائے جائیں۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر بیرسٹر جاوید عباسی نے کہا کہ انہیں بھیک میں پارٹی ٹکٹ نہیں چاہیے اگر میرٹ پر بنتا ہے تو دے دیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیرسٹر جاوید عباسی کو سابق گورنر اور وزیراعلی کے پی کے سردار مہتاب عباسی کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے جو امیر مقام اور مرتضی جاوید عباسی کے مخالف گروپ کی قیادت کر رہے ہیں ۔قبل ازیں اقبال ظفر جھگڑا بھی اس گروپ میں شامل تھے تاہم نواز شریف کی ہدایت پر انہیں منا لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں این اے 16 بات کے لیے مرتضی جاوید عباسی کو فائنل کر لیا گیا ہے تاہم اس کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔اجلاس میں نواز شریف نے استفسار کیا کہ سردار مہتاب عباسی کس حلقے سے امیدوار ہیں تو اس کے جواب میں مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ان کا اور میرا حلقہ ایک ہو گیا ہے اور اب وہ میرے مقابل امیدوار کھڑے ہوں گے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ این اے 16 کی زیلی صوبائی نشست سے مہتاب عباسی کے کزن سردار فرید خان کو فائنل کر لیا گیا ہے جبکہ گلیات اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل دوسری نشست کا فیصلہ ہونا باقی ہے اور بیرسٹر جاوید عباسی کی تلخ کلامی کے بعد یہ معاملہ فی الوقت کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481