اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جس کی سوکن اچھی۔۔۔۔

Art 696x342 1

ڈاکٹر-ایس-ایم-معین قریشی

جب ہمارا کوئی دوست اپنے نومولود بچے کے نام میں بہت تردد کرتا ہے تو ہم اسے مشورہ دیتے ہیں کہ بھائی،اس مرتبہ کچھ بھی رکھ لو آئندہ کوالٹی پر توجہ دینا، نام میں کیا رکھا ہے۔یوں بھی دیکھیے بعض لوگ مراد نام ہونے کے باوجود تمام عمر نام مراد رہتے ہیں ۔اور بعض نام کے مسکین ہوتے ہیں لیکن مقدر میں تسکین لکھوا کر لاتے ہیں جیسے مرحوم پروفیسر (ڈاکٹر) مسکین حجازی تھے یا جیسے لاہور کی فقیر فیملی ہے جس میں نامی گرامی رئیس پیدا ہوئے اور ماشاءاللہ ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

ایک تیسری قسم کے لوگ اسم بامسمٰی ہوتے ہیں یعنی جو نام وہی پہچان جیسے زرداری بے نظیر مشرف وغیرہ۔ انہی میں ہمارے ایک دوست خوش بخت فراست بھی ہیں کہ تقدیر ان پر مہربان رہتی ہے اور تدبیر کی لگام پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔کبھی گھاٹے کا کوئی سودا تو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ پوری زندگی اسی اصول پر کاربند رہے کہ آپ ہمارے یہاں آئے تو کیا لے کر آئیں گے اور ہم آپ کے وہاں گئے تو آپ ہمیں کیا دیں گے؟

تاہم گزشتہ ماہ جب ہم وہ ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے تو اپنی چھوٹی بیگم اور بڑی بیٹی کو ساتھ لے کر آئے۔ہم یہ بتاتے چلیں کہ فراست صاحب اپنی دو عدد راضی برضا اور خوش و خرم بیویوں کے ساتھ گلشن اقبال کے چار کمروں والے ایک دو منزلہ بنگلے میں قیام پذیر ہیں۔ہماری اطلاع کے مطابق انہیں آگ اور بارود کو ایک ساتھ رکھنے میں کبھی کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اکثر محفلوں میں ان کی دونوں بیگمات کو پرامن بقائے باہمی کا عملی نمونہ بنتے دیکھا گیا ہے۔ایسی مثالی سوکن خدا ہر سوکن کو دے جو خانہ جنگی کو "خانہ سنگی” میں بدل دے۔

db95a07d f0d2 4410 9565 33ba81c2e090
باتوں باتوں میں رات کے کھانے کا وقت ہوگیا۔ہم سب ساتھ ہی بیٹھ رہے تھے کہ فراست نے اپنے بیگ میں سے ایک دعوت نامہ برآمد کیا۔لفافے پر ڈھولک اور شہنائی کی تصویر دیکھ کر ہم سمجھے کہ یہ ان کے کسی قریبی عزیز کی شادی کا کارڈ ہے اس لیے کہ ان کی اپنی اولاد میں تو کوئی بھی شادی کی عمر کا نہیں۔۔۔یا پھر یہ کارڈ ان کے اپنے نکاح ثالث کا ہے کیونکہ انہیں” قبول ہے” کہے خاصہ عرصہ گزر چکا ہے۔۔۔یعنی تقریبا چھ ماہ۔۔ ان کے پاس جو دو خالی کمرے اور دو خالی اسامیاں موجود ہیں وہ بھلا انہیں چین سے کیوں بیٹھنے دیں گی؟فراست صاحب تو بیچارے غالب پر تہمت دھرتے ہیں کہ وہ چار شادیوں پر بھی قانع نہ تھے۔اس ضمن میں وہ غالب کے اچھے خاصے شعر کا حلیہ بگاڑتے ہوئے دعوی کرتے ہیں کہ مرزا نے یہ شعر دراصل اپنے نکاح خواں کے لیے کہا تھا۔
"چاروں نکاح پڑھ کے وہ سمجھا میں خوش رہا
یاں آ پڑی شرم کے تکرار کیا کریں

کھانا شروع ہوتے ہی انہوں نے گفتگو کا اغاز کر دیا۔فرمایا” میں نے ایک ڈرامائی فیصلہ کیا ہے۔”
"یہ تو کوئی نئی بات نہیں” ہم نے ایک لقمہ حلق میں اتارتے ہوئے لقمہ دیا ۔۔۔”میرے بھائی ڈرامہ جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو اس کا حجامہ بن جاتا ہے۔”
جس وقت ہمارا ان سے یہ غیر سنجیدہ ٹاکرہ ہو رہا تھا کھانے کی میز پر ان کی بیگم ثانی اور ہماری تا اطلاع ثانی کے درمیان شوہروں کو قابو میں رکھنے کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرہ ہو رہا تھا۔دونوں کا اس پر اتفاق تھا کہ مرد توتا چشم ہوتے ہیں بلکہ توتوں کے ڈھیلوں میں مردوں کی انکھیں ہوتی ہیں۔ادھر فراست صاحب ہمیں چونکا دینا چاہتے تھے اور ہم چونک کر نہیں دے رہے تھے۔بالاخر موصوف نے اپنے ترکش کا آخری تیر چھوڑتے ہوئے کہا ‘میں اپنے سگے بیٹے کی شادی اپنی ہی بیٹی سے کر رہا ہوں۔ اور ہم اس بابرکت تقریب میں آپ لوگوں کو مدعو کرنے آئے ہیں۔”یہ عجیب و غریب احمقانہ بلکہ سوقیانہ بیان سن کر ہمارا دل اچانک دھک دھک کرنے لگا اور نوالہ حلق میں اٹک گیا۔دوسری طرف ہماری بیگم کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹتے چھوٹتے بچا اور وہ روہانسی آواز میں بولیں "خدا کا خوف کیجئے بھائی صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں” اس احتجاج پر ان کی بیگم بے ساختہ ہنس پڑی اگرچہ ہنسنے والی کوئی سچویشن نہ تھی. بقول مصحفی
رونے پہ میرے جو تم ہنسو ہو
یہ کون سی بات ہے ہنسی کی؟

اس دوران خوش بخش فراست نے جو اب پوری طرح آغا حشر کاشمیری بن چکے تھے مزید یہ حشر اٹھایا کہ میری یہ بیگم ان شاء اللہ عنقریب میری سمدھن بن جائیں گی۔ان کی باتیں ہماری سمجھ سے باہر تو پہلے ہی تھیں اب برداشت سے باہر بھی ہوتی جا رہی تھیں۔ لیکن کچھ میزبانی کے تقاضوں اور کچھ ان کی بیگم کی موجودگی نے ہم دونوں میاں بیوی کو ضبط کے دائرے میں رکھا ورنہ جی تو چاہ رہا تھا کہ ان سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کر لینے کا مشترکہ علامیہ جاری کر دیں۔ اور ساتھ ہی کینیڈا والے شیخ الاسلام سے کہیں ایک دھرنے کی مار انہیں بھی ماریں۔

اس معاملے میں ہماری مسلسل بے رخی کے پیش نظر ان دونوں کی شگفتگی سنجیدگی سے گزرتی ہوئی رنجیدگی کی سرحد میں داخل ہونے لگی تو ہم بھی سنبھل کر بیٹھ گئے۔ ذہن میں پہلا خیال یہ آیا کہ ہمارے خطے کی تاریخ میں خونی رشتوں کے درمیان شادی کی صرف ایک مثال ملتی ہے جب راجہ داہر نے اپنا راج پاٹ بنانے کی خاطر سگی بہن سے شادی کر لی تھی۔اگرچہ کہا جاتا ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی تھی۔ فراست کی کوئی ریاست نہ تھی۔ نہ ان کے یہاں شادی کرنے کے بنیادی کردار( دولہا دلہن) دستیاب تھے، اس سب کے علاوہ ہمیں ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے اور صاحب ایمان شخص کے بارے میں incest(ترویج محرمات) کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، پھر آخر یہ لوگ ایسی اوٹ پٹانگ باتیں کر کے اپنا دھلا دھلایا امیج کیوں ملیامیٹ کر رہے ہیں؟کیا یہ بھی خرافات پر یقین رکھتے ہیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں؟ ہماری ذہنی کشمکش کو محسوس کرتے ہوئے فراز نے چوٹ کی۔
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے

ہم اتنا تو جانتے تھے کہ دوسری مرتبہ فراست نے ایک بیوہ سے شادی کی تھی جو اس وقت ہماری مہمان تھیں۔ان کی اپنے مرحوم شوہر سے ایک 10 سالہ بیٹی ہے جبکہ فراست سے ابھی کوئی اولاد نہیں۔ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ پہلی بیگم سے فراست کی دو لڑکیاں ہیں بڑی کی عمر صرف سات سال ہے اور اس وقت ہمارے ہاں موجود تھی۔پھر یہ حقیقی بیٹا اور شادی کی عمر کی بیٹی کیا ان کے ہاں آسمان سے pre-fabricated(بنی بنائی) حالت میں ٹپک پڑے تھے۔

آخر کار ہم نے ہتھیار ڈالتے ہوئے ان دونوں سے التجا کی کی جلد از جلد اس معمے کو حل کر دیں۔ کیونکہ ہمارے دماغ میں ہتھوڑے چلنے لگے تھے اور وہ ہتھوڑے باہر آنے کے لیے کلبلا رہے تھے۔ہماری بیگم کا غصہ بھی اب حیرت اور اس سے بڑھ کر نفرت میں بدلتا جا رہا تھا۔انہوں نے بعد میں بتایا کہ ہمارے دوست اور ان کی بیگم اس وقت انہیں نریندر مودی اور نیتن یاہو لگ رہے تھے۔ایک طرف ہم مرغ نیم بسمل کی طرح تڑپ رہے تھے تو دوسری طرف فراست نے یہ کہہ کر ہمیں مزید علامہ حیرت بدایوانی بنا دیا کہ اس خاکسار کی تین بیویاں ہیں۔
"تین؟”ہمارے منہ سے چیخ نکل گئی۔

اس پر انہوں نے کمال بے نیازی سے اپنی بات دہرائی۔”صرف تین۔۔ آپ تو یوں چلا رہے ہیں جیسے میں نے تیس بتا دی ہیں۔بھائی ابھی تو چوتھی کی گنجائش موجود ہے میں علامہ اقبال کی اس نصیحت پہ عمل پیرا ہوں کہ "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔”
ہم نے سوال کیا” آپ کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیگم کہاں رہتی ہیں کیا آپ کے گھر میں کوئی تہ خانہ (basement )بھی ہے؟”

کھانا اب خلال کے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا، انہوں نے ایک تیلی دانت میں پھنساتے ہوئے بتایا کہ وہ سب سے چھوٹی نہیں بلکہ سب سے بڑی ہیں اور پنڈ میں رہتی ہیں۔ان سے فراست کا ایک بیٹا ہے جو ان کی سب سے بڑی اولاد ہے اس کی شادی وہ اپنی سب سے چھوٹی بیگم کی دس سالہ بیٹی سے کر رہے ہیں جو پہلے شوہر سے ہے اور جہیز میں ساتھ آئی تھی۔یہ سب معلومات بہم پہنچا کر فراست نے ہماری ذہانت پر چوٹ کی کہ آپ یوں تو تحریر و تقریر میں بڑی دور کی کوڑیاں لاتے ہیں لیکن سامنے کی بات آپ کو سمجھ نہیں آرہی
تو کہ ناواقفِ آدابِ سماجی ہے ابھی!”

ہم نے نیم تذبذب کے عالم میں ان سے پوچھا چلیے مان لیتے ہیں لیکن آپ کی سوتیلی بیٹی کی عمر دس سال ہے خیر سے سگا بیٹا کتنا بڑا ہے؟
"ماشاءاللہ بارہ سال کا ہے” انہوں نے تیلی توڑتے ہوئے جواب دیا۔
"تو یہ کیا شادی ہوئی”؟ ہم ابھی تک شک کے سمندر میں غوطہ زن تھے۔
"کیوں نہیں ہوئی؟”انہوں نے اپنی آواز میں سختی پیدا کرتے ہوئے کہا میں دونوں کا وکیل ہوں اور دونوں کی رضامندی سے یہ رشتہ کر رہا ہوں۔ دونوں کی رضامندی حاصل کرنا آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔۔ اس بار ہماری بیگم نے نقطہ اٹھایا "لیکن کیا شرع میں اس کی اجازت ہے ؟”
اس پر ان کی بیگم نے اطمینان دلایا۔ "ہم نے فتوی حاصل کر لیا ہے ان شاء اللہ یہ شادی بالکل جائز ہوگی۔”

چلو یہ بھی ٹھیک ہوا. ہم نے شک کے تابوت میں سے آخری کیل نکالنے کے غرض سے پوچھا! "لیکن میرے عزیز اس شادی کی ضرورت کیا تھی اور اس میں اتنی عجلت کیوں برتی جا رہی ہے؟”
اس پر خوش بخت فراست نے چہرے پر سقراطی رنگ طاری کر لیا۔جون ایلیاء (مرحوم) کے انداز میں ویران آنکھوں سے فضا میں گھورتے ہوئے بولے بھائی زندگی اور موت کا کیا بھروسہ۔۔ ہم لوگوں نے سوچا کہ اپنے وسیع و عریض خاندان کو ہمیشہ کے لیے محبت کے بندھن میں جکڑنے کا اس سے بہتر اور فول پروف طریقہ اس کے علاوہ کوئی اور نہیں جہاں تک عجلت کا تعلق ہے تو ابھی صرف نکاح ہوگا رخصتی دس بارہ سال بعد ہوگی۔”
ساری باتیں آئینے کی طرح صاف ہو گئیں تو ہم نے گرہ لگائی۔ "ایک آخری وجہ آپ نے نہیں بتائی "بولے وہ آپ بتا دیجیے۔ہم نے کہا” گھر کی بیٹی گھر میں رہے گی اور شہر کا جہیز پنڈ میں۔ اسے کہتے ہیں ہم خرما و ہم ثواب۔”

نکاح کی رسم ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں دھوم دھام سے انجام پائی۔اس سٹیج پر بیٹھے ہوئے دولہا دلہن گڈے گڑیا لگ رہے تھے۔ فرق اتنا تھا کہ گڈے میاں اپنے انجام سے بے خبر ہم عمر دوستوں سے چہلیں کر رہے تھے۔ جبکہ گڑیا پر مکمل عروسیت طاری تھی۔ تقریب کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ ان کی تینوں بیگمات نے اس میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔وہ باہم تیر و نشتر نہ تھیں بلکہ شیر و شکر تھیں۔ ایسی سوکنیں عام ہو جائیں تو شہر میں ہر طرف چار منزلہ گھر نظر آنے لگیں۔ باسی کڑھیوں میں بھی ابال آ جائے۔ہوٹل کے ہال سے جب فراست مہمانوں کو رخصت کر رہے تھے تو اچانک کہیں سے ان کی بیگمات کا جلوس بھی وہاں آ نکلا۔ ہم نے فراست کو ایک کونے میں لے جا کر تنبیہ کی،”خبردار چوتھی مت کرنا ورنہ سب کو ایک ساتھ لے کر نہیں نکل سکو گے۔” بولے "کیوں؟” ہم نے کہا "شہر میں دفعہ 144 لگی ہوئی ہے ”
تاہم انہوں نے پرعزم لہجے میں غالب کا یہ شعر اپنی درست حالت میں پڑھا۔
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
ہم نے جاتے جاتے کہا” ایک ٹوٹا پھوٹا شعر ہمارا بھی سن لیجئے”
بولے”عرض کیجیے”
ہم نے واقعی” عرض "کیا
ہم ایک بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں ہلکان
وہ چار بھی کرتے ہیں تو نزلہ نہیں ہوتا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481