اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چیف جسٹس کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔عمران کے خط کا جواب

14a4a419 3c78 4912 9009 d196cb6dd98a

تحریک انصاف کے چیئرمین اور جیل میں موجود سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو لکھے گئے خط کے جواب میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک غیر معمولی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو نہ تو کسی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی حمایت کریں گے۔

سپریم کورٹ اف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یکم دسمبر کو سات صفحات پر مشتمل ایک درخواست ،جس کے ساتھ 77 صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی منسلک کی گئی ہیں بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے موصول ہوئی ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق دستاویز مرتب کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ نمبر وغیرہ نہیں دیا گیا تاہم لفافے کے مطابق دستاویز ایک وکیل انتظار حسین پنجوتھا نے کوریئر کی ہے۔

اعلامیہ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہعدالت عظمٰی کو سر بمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی دستاویز کس طرح میڈیا کو جاری کر دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق اس جماعت کی نمائندگی وکلاء کرتے رہے ہیں اور پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اسی جماعت کے وکلاء نے فوجی عدالتوں اور انتخابات کے حوالے سے کیس کو تکمیل تک پہنچایا۔

سپریم کورٹ کے جاری کرده اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا پوری طرح ادراک ہے اور انہیں نہ تو کسی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی حمایت کریں گے۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس اللہ کے فضل سے اور اپنے حلف کے مطابق فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

 Chief Justice will never accept any pressure. Reply to Imran's letter,چیف جسٹس کسی دباؤ میں نہیں ائیں گے۔عمران کے خط کا جواب


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481