اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان میں جنگلی زیتون کے کروڑوں درختوں کاخزانہ موجود ہے۔ ماہرین

پاکستان ایک دہائی کے اندر خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل بن سکتا ہے بشرطیکہ پاکستان بھر میں زیتون کی کاشت کے لیے سازگار ماحول اور کڑوڑوں جنگلی زیتون کے درختوں کے بے بہا خزانے سے فائدہ اٹھایاجائے۔ اگر اس صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے تو ملک میں زیتون کے تیل کی مقامی پیداوار سے خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ خرچ ہونے والی 4.5  ارب ڈالر کی خطیر رقم بچانے میں مدد مل سکتی ہے اور زیتون کی برآمدات کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ گفتگوانسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) میں زیتون کی کاشت میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی استعداد پر اظہارِ خیال کے لیے منعقدہ ایک مذاکرے کے دوران کی گئی۔

آئی پی ایس کے جی ایم آپریشنز نوفل شاہ رخ کی نظامت میں منعقد ہونے والے اس مذاکرےمیں آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن، معروف سماجی رہنما اوردعا فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فیاض عالم ، سینیئرصحافی شبیر سومرو اور جامعہ کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غفران سعید نے اظہارِ خیال کیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم اور شبیر سومرو نے حال ہی میں مشترکہ طور پر پاکستان میں زیتون کی کاشت کی تاریخ، حیثیت اور امکانات پر ایک کتاب بھی مرتب کی ہے۔ ‘پاکستان میں زیتون کی کاشت – تاریخ، تجربات، اور امکانات’ کے عنوان سے اپنی اس کاوش کا تعارف کرواتے ہوئے شبیر سومرو نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ جنگلی زیتون کے درخت ہونے کے باوجود مقامی لوگ بھی اس کے بارے میں آگہی کی کمی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

آئی پی ایس کے چئیرمیں خالد رحمٰن کو مذاکرے کے بعد دعا فائونڈیشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فیاض عالم اورشبیر سومرو پاکستان میں زیتون کی کاشت پر اپنی حالیہ تصنیف پیش کر رہے ہیں

وسیع تحقیق، ماہرین اور کاشتکاروں کےانٹرویوز، اور کامیاب تجربات کی تفصیلات پر مبنی یہ کتاب آگہی کے اس خلا کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے زیتون کے بارے میں ملک گیر آگہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو پاکستان کے زیتون کے درختوں کے اندر چھپے بے پناہ امکانات اور فوائد سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہے۔

ڈاکٹر فیاض عالم نے بارانی علاقوں میں زراعت کے زریعے ترقی کے امکانات پر زور دیا۔ انہوں نے اس طرح کے اہم موضوعات میں میڈیا کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ حکومتوں کی اُن زرعی سائنسدانوں اور باغبانوں کی خدمات کو اجاگرکرنے اور خراج ِتحسین پیش کرنے میں ہچکچاہٹ پر افسوس کا اظہار کیا جنہوں نے زیتون کی قیمتی اقسام اور درکارفوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں بہت زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر فیاض نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خیبرپختونخوا، پنجاب ، سندھ، اور بلوچستان کے علاقوں میں کی جانے والی کوششوں سے 50,000 ایکڑ اراضی پر 5.6 ملین نئے زیتون کے درخت لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے 20 لاکھ پودے پہلے ہی پھل دے رہے ہیں اور مقامی استعمال اور برآمد کے لیے کئی ٹن زیتون کا تیل پیدا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر فیاض عالم اور شبیر سومرو اپنی کتاب ایڈیٹر کوہسار نیوز راشد عباسی کو پیش کرتے ہوئے

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کا تقریباً 75 فیصد خوردنی تیل درآمد کیا جاتا ہے اور اس پر ملک جو 4.5 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اسے زیتون کی کاشت اور پیداوار کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے، جس سے پاکستان خوردنی تیل میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر غفران نے کہا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں میں محض ‘تحقیق برائے تحقیق’ کا رجحان، اورصنعتی و تجارتی شعبےاور حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کا فقدان افسوسناک ہے جو زیتون جیسے زرعی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہے۔

ڈاکٹر فیاض عالم اورشبیر سومرو اپنی کتاب گروپ ایڈیٹر امت سجاد عباسی کو پیش کرتے ہوئے

اپنے اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ زیتون کی کاشت کو فروغ دینا صرف زراعت سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ صحت اور قومی اقتصادی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی قوتوں اور کمزوریوں کا از سر نو تعین کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں زیتون کی کاشت میں کامیابی کی کہانیوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے، اور مذہبی حلقوں اورمدارس جیسے کمیونٹی اداروں پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ ان امکانات پر کام کرنے والے افرادکی حوصلہ افزائی کریں۔

Pakistan has a wealth of millions of wild olive trees. Experts,پاکستان میں جنگلی زیتون کے کروڑوں درختوں کاخزانہ موجود ہے۔ ماہرین


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481