اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عدالتی حکم امتناعی اور انجمنِ تاجران مری

edd113f8 6b16 4f57 b086 6989629d0df1

تحریر :- امجد بٹ ۔ مری

انجمنِ تاجران مری کے انتخابات کی حالیہ صورتحال کے مطابق 27 – نومبر 2023ء کو تاجر ساجد محمود عباسی ، سکنہ گھوڑا گلی ، مری ۔ نے 2 – دسمبر 2023ء کو منعقد ہونے والے انتخابات کے خلاف حکم امتناعی ( بنام :- الیکشن بورڈ ، انجمنِ تاجران مری) Stay لے لیا ہے ۔
موصوف کے وکیل وسیم الدین عباسی کا مؤقف ہے کہ پنجاب انڈسٹریل ایکٹ 2010ء کی شق نمبر ۔ 4 ۔ کے تحت مرکزی انجمن تاجران مری غیر رجسٹرڈ ہونے کے باعث آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے ۔ مدعی کی دستاویزات اور بیان حلفی پر بھروسا کرتے ہوئے آرڈر نمبر
(×××i×Rule 1,2 cpc)
کے مطابق مدعا علیہان 1 – تا – 3 کو مدعا علیہ نمبر ۔ 3 ۔کی رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث انتخاب منعقد کرنے سے روکا گیا ہے ۔ مذکورہ آئین کے مطابق مدعا علیہ نمبر ۔ 3 ۔ کی رجسٹریشن اگر موجود ہے تو باقی دونوں کو بھی مقررہ تاریخ پر انتخاب لڑنے کی آزادی ہو گی ۔
مزید برآں مدعا علیہان ( جن امیدواروں کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے) انتخابی عمل کے بغیر خود کو منتخب ارکان یا عہدے دار نہیں کہلا سکتے ۔
یہ حکم نامہ کسی اور عدالتی کارروائی کو متاثر نہیں کرے گا۔
مدعا علیہان یا جواب دہندگان کو مراسلہ طلبی (بابت یکم دسمبر 2023ء) کے ” ڈاک مع وصولی رسید "اخراجات جمع کروانے کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے ۔
انجمنِ تاجران مری کے انتخابات میں حصہ لینے والے دونوں گروپوں کا مؤقف ہے کہ ہمارا اس عدالتی حکم نامے کے اجراء سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم بہر صورت انتخابات منعقد کروانے کے لیے تیار ہیں ۔
میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ دونوں تاجر گروپوں کے امیدواروں نے اس حکم امتناعی کو بغور نہیں پڑھا ۔ ورنہ وہ سمجھ جاتے کہ 2016ء کے بعد موجودہ انجمنِ تاجران مری کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے اور 2016ء کے بعد میں کیے گئے اس کے تمام اقدام غیر آئینی ہیں.
راقم نے زندگی کی تیس بہاروں اور اتنی ہی خزاؤں میں مری شہر کے قرب و جوار خصوصاً مال روڈ کی خاک چھانی ہے۔ قریباً ہر تاجر سے شناسائی ضرور ہے ۔ بحیثیت تاجر بھی ان سے خوب قربت اور تعلق رہا ہے ۔ ان سے مسلسل ملاقاتوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ 80 فیصد تاجر تبدیلی چاہتے ہیں ۔ مال روڈ کی اکثریت کے ہاتھ میں چھتری لیکن دل و دماغ میں پگڑی کا بسیرا ہے ۔ تبدیلی کی اس روش سے دونوں تاجر گروپ بخوبی آگاہ ہیں ۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ اتحاد تاجر گروپ کے نکہت زار پارک میں ہونے والے بھرپور جلسے کے بعد کوہسار تاجر گروپ ، تبدیلی والی فکر پر بہت نالاں ہے نیز تاجر اتحاد گروپ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور انتخاب سے پہلے رنگ روڈ اور لاری اڈے پر ہونے والے زبردست جلسے اور ریلی کی تیاری سے خائف ہو چکا تھا ۔ لہٰذا تاجر اتحاد گروپ کی انتخابی مہم کا زور توڑنے اور ان کی صلاحیتیں و توجہ تقسیم کرنے کے لئے خفیہ طریقے سے حکم امتناعی کا سہارا لیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عدالت حقائق کے پیشِ نظر مشروط طور پر انتخاب ملتوی کروا دے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف کوہسار گروپ کی حکمتِ عملی بے نقاب ہو چکی ہے بلکہ اب مقامی عدالت کا امتحان شروع ہو چکا ہے ۔
عدالت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا ہو گا ۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ غیر آئینی فرضی دلائل سے معزز عدالت کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا ۔
1 ۔ کوہسار تاجر گروپ کے مرکزی عہدوں پر براجمان ، گزشتہ بیس سالوں کی انجمنِ تاجران مری ہی کے عہدے دار شامل ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں انجمنِ تاجران مری کو رجسٹرڈ کیوں نہیں کروایا ؟ کیونکہ رجسٹرڈ تنظیم کا ایک آئین ہوتا ہے اور عہدے داروں کو آئین کی پاسداری کرنا پڑتی ہے جبکہ گزشتہ بیس برس سے آئین کی خلاف ورزی کر کے انتخابات مؤخر کیے جاتے رہے ہیں۔
1992ء میں جناب احمد حسین غنی نے انجمنِ تاجران مری کا آئین مرتب کیا اور عہدے داروں کی اکثریت نے اسے دیکھا تک نہیں ۔
3 ۔ انجمنِ تاجران مری سے قریباً ایک ہزار جعلی ووٹوں کو نکال دیا جائے تو صرف دکانداروں کی1700 ووٹیں رہ جاتی ہیں ۔ لیکن جب بھی ہوٹل مالکان کو حکومتی فیصلوں سے اختلاف ہوتا ہے تو انجمنِ تاجران مری کو ہڑتال کے لئے استعمال کر کے دکانداروں کا کاروبار ٹھپ کر دیا جاتا ہے ، کیونکہ پیسے کے زور پر ہوٹل مالکان انجمنِ تاجران مری کے مرکزی عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں ۔
4 ۔ آئین کے مطابق انجمنِ تاجران کا کوئی ووٹر یا عہدے دار ٹی ایم اے حدود سے باہر کا نہیں ہونا چاہیے تا کہ بوقتِ ضرورت دستیاب ہو لیکن حقیقت میں اکثر مرکزی امیدوار اور فیصلہ کن کردار نبھانے والے افراد دستیاب نہیں ہوتے۔
5 ۔ انجمنِ تاجران کے انتخابات کے حوالے سے گزشتہ ہفتے کے دوران روزنامہ جناح ، کائنات ، تلافی ، اذکار ، صدائے خلق اور ہل ٹائمز ، آواز خلق اور پکار امن جیسے درجن بھر اخبارات میں چھپنے والے کالموں میں دی گئی انجمنِ تاجران مری کے آئین کی دفعات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی تاجر ایک وقت میں دو متوازی تاجر گروپوں کا رکن اور عہدے دار نہیں ہو سکتا تو ہوٹل ایسوسی ایشن کے ارکان دکان داروں کی انجمن کے رکن یا عہدے دار کیسے بن سکتے ہیں ؟
6 ۔ آئین کے مطابق ووٹ اس دکاندار کی ہوتی ہے جو خود دکان پر بیٹھ کر کام کرتا ہو ۔ لیکن یہاں تو اکثر جائیداد مالکان کی ووٹ بنائی جاتی رہی ہے بلکہ موجودہ لسٹ میں تو ہوٹلوں کے ڈرائیور ، بیرے ، سرکاری ملازم ، وکیل اور امام مساجد بحیثیت تاجر ووٹر موجود ہیں ۔ ان سب کو باری باری عدالت میں بلا کر حلف لیا جائے کہ وہ حقیقی دکاندار ہیں اور ہمہ وقت ووٹ والی دکان پر موجود رہتے ہیں ورنہ ووٹ خارج کر دی جائے ۔
7 ۔ گزشتہ تیس برسوں میں الیکشن بورڈ نے کیا کردار نبھایا ہے ؟ کیا انہوں نے ووٹوں کی شفاف تصدیق اور انجمن کے رجسٹرڈ نہ ہونے پر کوئی تحریری کارروائی کی ؟ آئین کے مطابق انجمنِ تاجران مری کی ہر ماہ کی 20 تاریخ کو ہونے والی گزشتہ 360 میٹنگوں کی ، کیا تحریری کارروائی کی پڑتال کی ؟ الیکشن بورڈ کے ارکان کا غیر جانبدار ہونا ناگُزیر ہے لیکن یہ الیکشن بورڈ نہ صرف کوہسار تاجر گروپ کا تفویض کردہ ہے بلکہ اس کے رکن جناب اسد اقبال عباسی ایڈووکیٹ امیدوار چیئرمین کے بھائی ہیں ۔
8 ۔ مری شہر اور قرب و جوار میں لمبے چوڑے ، بڑے بڑے فلک بوس بینرز ، پینافلیکس اور ہمنوا ووٹروں کی دعوتوں پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ کروڑوں تک جا پہنچا ہے ۔ یعنی یہ انتخابات امیدواروں کے لیے مالی اور سماجی اعتبار سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے بھی زیادہ مفید اور اہم ہیں کہ وہ اس سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہی نہیں ۔
9 ۔ حکم امتناعی انگریزی زبان میں ہونے کا یہ نقصان ہوا کہ جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ حکم نامہ جاری کیا گیا ان میں سے ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد اسے سمجھ ہی نہیں سکتے اور اس کی حکم عدولی کرنے کے لئے انتخابی گھوڑے پر سوار ہیں ۔
10 ۔ جناب تاج بخاری کے مدلل سوالات کے جوابات میں مدعی کے وکیل جناب وسیم الدین عباسی نے جچی تلی گفتگو پر مشتمل جو عالمانہ انٹرویو دیا ہے اس نے ثابت کر دیا کہ مدعی جناب سجاد محمود عباسی تاجروں کے حقوق کی جنگ لڑی رہا ہے جبکہ انجمن کی رجسٹریشن سے پہلے انتخاب کے حامی وکلاء صاحبان کی گفتگو نہ صرف کمزور بلکہ تجاہلِ عارفانہ والے دلائل پر مبنی ہے کیونکہ وہ مدعی کے وکیل جناب وسیم الدین عباسی کے لگائے گئے کسی الزام کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے لہٰذا انجمنِ تاجران مری کے رجسٹرڈ ہونے یعنی آئین کے پابند ہونے سے پہلے انتخابات کروانا دراصل انجمن کے موجود آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481