اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کسی کی ڈائری کا ایک ورق

1234 jpg

پھیری والا کباڑیہ ڈائری کے صفحات پہ کھانے کی اشیا رکھ کر دے رہا تھا اتفاق تھا کے میں وہاں پاس کھڑا تھا اچانک میری نظر اس صفحے پہ پڑی چند الفاظ پڑھ پایا تھا
ملاحظہ

وہ ڈری سہمی سی میری زندگی میں آئی تھی کہتی تھی شوہر بہت ظالم ہوتے ہیں پہلی رات میں اس کی یہ بات سن کر بہت ہنسا
وہ میری طرف دیکھ کر حیران ہو رہی تھی بولی آپ پاگل ہیں اتنا کیوں ہنس رہے ہیں۔ بات بھی سچ تھی میں کیوں اتنا ہنس رہا تھا
آپ نہیں سمجھ پائیں گے۔ باخدا اس کا انداز بیاں اتنا دلفریب تھا نا مجھے اس پہ پیار آ رہا تھا۔ کہنے لگی میری بات سن لیں ابا جی کے کہنے پہ میں نے آپ سے بیاہ تو کر لیا ہے لیکن اگر آپ نے مجھے مارا یا گالی دی تو میں واپس اپنے گھر چلی جاوں گی ابا جی کے پاس ۔
اس کی آنکھوں میں نہ جانے کون سا کوئی ڈر تھا جو اسے کھائے جا رہا تھا ۔

ہماری ارینج میرج تھی۔ مجھ پہ ایک راز کھلا تھا کے اس کی بڑی بہن کو اس کے شوہر نے اتنا مارا تھا کے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی
اب وہ نفسیاتی مریضہ ہے۔ مجھے کہنے لگی مجھے مارنا نہیں، مجھے کچھ نہ کہنا، جب آپ نے مجھے چھوڑنا ہوا تو بس ایک بار کہہ دینا میں چلی جاوں گی۔ حق مہر بھی معاف کروں گی بس مجھے کچھ نہ کہنا کبھی۔ ہائے اس کی بے بسی ، وہ میری بیوی تھی
کیوں کر بھلا کوئی اپنی ہمسفر کو دیمک زدہ کر سکتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ پکڑا ایک بوسہ کیا، میری گلاب کا پھول بھلا کیوں ماروں گا آپ کو میں۔ ادھر آو۔ اس کا سر اپنی گود میں رکھا اس کو پیار سے سمجھانے لگا
ایسا کچھ نہیں ہو گا تم پریشان نہ ہوچونکہ اس کی عمر 18 اور میری 20 تھی جلد ہماری شادی ہو گئی تھی۔

اس کا لڈو کھیلنے کا بہت شوق تھا شادی کے کچھ دن گزرے مجھے کہنے لگی لڈو لے کر آئیں نا۔ میں کام سے تھکا ہارا آتا مجھے کھانا دیتی پھر لڈو اٹھا کر لے آتی۔ چلیں ایک گیم کھیلتے ہیں میں اس کی طرف دیکھتا تھکا ہونے باوجود اس کو انکار نہ کر پاتا اسی کی وہ خوشی بیان نہیں کر سکتا۔ جب وہ مجھ سے جیت جاتی تھی کبھی وہ جیت جاتی کبھی میں ہار جاتا مطلب میں جان بوجھ کر ہار جاتا تھا ۔

وہ رفتہ رفتہ میرے قریب آنے لگی اسے میری مجھے اس کی عادت ہونے لگی عادت نہیں محبت کہیں تو اچھا ہو گا ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہونے لگی میں حیران تھا پہلے وہ بھوک برداشت نہیں کر سکتی تھی
لیکن اب میرے گھر آنے تک وہ کھانا ہی نہیں کھاتی
کبھی رات کے بارہ بھی بج جائیں پھر بھی وہ بھوکی میرا انتظار کرتی ۔
پہلے مجھے کھانا دیتی پھر میرے پاس بیٹھ کر میرے کندھے پہ سر رکھ لیتی بچوں کی طرح ضدی سی تھی مجھے کہتی اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاو میں اس کو اہنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا پھر میری گود میں سر رکھتی دن بھر کیا کیا کام کیئے سب بتاتی ۔
باتیں کرتے کرتے سو جاتی مجھے زندگی کے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا
مجھے محسوس ہونے لگا زندگی کیا اتنی حسیں بھی ہو سکتی ہے کیا
زندگی کے یہ خوبصورت لمحے بھلا جنت سا سماں کیسے نہ دیتے ۔

ایک بار میں کسی بات سے ناراض تھا اسے ڈانٹا بھی تھا
میری طرف غصے سے دیکھنے کے بعد کمرے میں چلی گئی
میں جانتا ہوں وہ بہت روئی تھی لیکن میں بھی غصے میں تھا اس لیے اسے رونے دیا پورا دن گزر گیا مجھ سے کوئی بات نہ کی اس نے
میں بھی انا میں رہا میرے سامنے کھانا رکھا کندھے پہ سر رکھ کر بیٹھ گئی میں جانتا تھا وہ بھوکی ہے میں اس کو کھانا نہ کھلایا
آخر میں بھی تو ناراض تھا کچھ نہ بولی برتن اٹھانے کچن میں رکھ کر آ گئی میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی خاموش تھی
کبھی کبھی نظریں چرا کر دیکھتی تھی میری جانب۔
میں ٹی وی دیکھ رہا تھا رات کے بارہ بج گئے بارش زوروں کی تھی بجلی چمکنے لگی۔ میں اٹھا کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا اس کا معصوم سا چہرہ بھوکی سو گئی تھی اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر میں سارا غصہ بھول گیا۔

وہ سارا دن میرے لیے گھر کے کام کرتی ہے ایک روبوٹ مشین کی طرح میرا ہر حکم مانتی ہے بھلا اس کی ایک چھوٹی سی غلطی پہ آج میری وجہ سے بھوکی سو گئی نیند میں بھی میرا نام لے رہی تھی
بارش بہت تیز تھی میں کچن میں گیا اس کے لیئے آلو والے چاول بنائے بہت شوق سے کھاتی تھی میں نے اسے اٹھایا میری طرف دیکھنے لگی
پہلے مسکرائی پھر شاید اسے یاد آیا مجھ سے ناراض ہے
کروٹ بدلنے لگی میں نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر لیا
آنکھوں میں دیکھا پھر آہستہ سے مسکرایا کانوں کو پکڑ کر معافی مانگنے لگا اس کی مدہوش آنکھوں سے ہیرے کی مانند کی آنسو بہنے لگے
آپ کو پتا بھی ہے میں کتنا روئی ہوں سارا دن آپ بات نہیں کر رہےتھے میری جان نکل رہی تھی کیا آپ سے میں ناراض نہیں ہو سکتے بس مجھے ڈانٹ کر خود کو ہیرو سمجھنے لگے پتا بھی ہے صبح سے کچھ نہیں کھایا میں نے ہائے میں قربان اس کی محبت پہ
میرے ہاتھ کو زور سے پکڑے صلح کرتے ہوئے مجھ سے جھگڑ رہی تھی شکوہ کر رہی تھی میں کچن میں گیا اس کے لیئے آلو والا پلاو لے آیا
دیکھ کر مسکرانے لگی کب بنائے میں اپنے ہاتھ سے کھلاتے ہوئے بولا پاگل میں کوئی دشمن تھوڑی ہوں تمہارا کبھی کچھ کہہ دوں تو ناراض نہ ہوا کرو سب کچھ تمہاری بھلائی کے لیئے تو کرتا ہوں تم میرے بنا نہیں رہ سکتی تو دل میرا بھی تمہارے بنا نہیں دھڑکتا وہ سوری کرنے لگی ۔اس کی ہر ادا میری زندگی تھی۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایک صفحہ جس پہ کسی نے اپنی زندگی کو محفوظ کیا تھا
لیکن میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا آخر یہ چاہت بھری داستاں کسی کباڑیے کے پاس کیسے بھلا پیدل چلتے ہوئے سوچ رہا تھا
کسی کے زندگی کے حسیں پل کسی کے لیئے بس کاغذ کا ٹکڑا ہے
کاش میں اس ڈائری کو مکمل پڑھ سکتا۔ لیکن کچھ قصے ادھورے اچھے لگتے ہیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481