اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اک مرد صالح

kohsarnews|کوہسار نبوز

باپ دادا کے طریق کار کو ہر حال میں درست سمجھنا اور اسی کے حق پر اصرار کرنا،اللہ کا پیغام سنانے والوں کا محض اس لیے مذاق اڑانا کہ وہ عام انسانوں جیسے کیوں ہیں،اصحاب دولت و اقتدار کیوں نہیں اور یہ کہ ان کے حامی و مددگار ارباب قوت و اختیار ہونے کے بجائے مفلس لاچار اور سراپا عجز و انکسار کیوں ہیں؟ہر دور میں ظالم و جابر اور باغی و سرکش لوگوں کے یہی خیالات اور یہی فطرت رہی ہے۔
صحیح زمانہ تو تاریخ میں کہیں مرقوم نہیں لیکن ہزاروں سال پہلے اس کرہ ارض پر ایسی ہی ایک بت پرست قوم آباد و شادکام تھی۔اللہ تعالی نے انہیں مال و دولت صحت و طاقت اجناس اور اثمار کی کثرت غرض یہ کہ دنیا کی ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔قوم عاد کی طرح وہ بھی پہاڑوں کو کاٹ کر بڑی بڑی عمارتیں بنانے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو اپنی شان و شوکت اور فخر و غرور کا ذریعہ جانتے تھے۔
اپنی زمینوں کی سرسبزی و شادابی سیم و زر کی فراوانی اور اپنے کمال ہنر مندی پر جب ان کا تکبر حد سے گزرنے لگا تو خدائے لم یزل نے ان کی سرکشی نافرمانی اور گمراہی دور کرنے کے لیے انہی کے قبیلے سے ایک شخص کو ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا جس نے انہیں سابقہ قوم کے کھنڈر ویرانے اور خستہ و بوسیدہ آثار دکھا کر راہ راست پر آنے کی تلقین کی۔اس کے جواب میں انہوں نے وہی کچھ کہا جو ہر دور میں خدا کے باغی کہتے چلے آئے ہیں۔
وہ اس بات پر یقین کرنے کے لیے کسی طرح آمادہ نہ تھے کہ انہیں نصیحت کرنے والا اور اس کے ساتھی اپنے تمام تر بے بسی اور بے کسی کے باوجود حق پر ہیں۔اور وہ خود جس پر عزت و طاقت کے تمام دروازے کھلے ہیں،سراسر گمراہی میں مبتلا ہیں۔وہ کہتے تھے کہ اگر یہ مرد صالحہ اور اس کے پیروکار اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں تو قادر مطلق اپنے غیب کے خزانے ان پر کیوں نہیں کھول دیتا۔دنیاوی نعمتوں کو حق و باطل کا معیار قرار دینے والی اس قوم نے روز روز کی نصیحتوں سے تنگ آ کر ایک روز نہایت عجیب مطالبہ کر ڈالا۔انہوں نے اللہ کے نیکوکار و پرہیزگار بندے سے کہا اگر تم سچے ہو تو اپنے پروردگار سے کہو کہ وہ سامنے والے پہاڑ سے ہمارے لیے تندرست و توانا قوی وہیکل اونٹنی بھیجے جو ہمارے درمیان آتے ہی ایک بچے کو جنم دے۔
اللہ کے اس نیک بندے نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ جو تم چاہتے ہو اللہ کے حکم سے وہی ہو جائے گا لیکن یاد رکھو اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور اسے کسی جگہ بھی چرنے پھرنے سے نہ روکا جائے۔تمہارے ذخیرہ آب سے ایک دن وہ پانی پیے گی، اور ایک دن تم اس سے استفادہ کرو گے۔ان شرائط کی اگر تم نے پابندی نہ کی تو تم پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔
اپنے مطالبے کی تکمیل کو انہونی سمجھ کر سرکش قوم نے یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اس بندہ صالحہ نے بارگاہ خداوندی میں گڑگڑا کر اپنی حقانیت کے ثبوت میں اونٹنی بھیجنے کی دعا فرمائی۔واضح ہدایات اور کھلی نشانیوں کو جھٹلانے والوں پر اتمام حجت کے لیے معجزے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔کبر و نخوت کی ماری قوم یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ انہونی ہونی بن گئی۔پہاڑ کے دامن سے ایک بلند قامت و قوی ہیکل اونٹنی نمودار ہوئی اور اس کے قریب آتے ہی ایک بچے کی ولادت بھی انہوں نے اپنی انکھوں سے دیکھ لی۔
یہ واضح نشانی دیکھ کر سوائے ایک آدھ نفس قدسی کے کسی نے زبان سے تو تسلیم و رضا کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ان کے دلوں میں حق و صداقت کی ہیبت بیٹھ گئی۔کچھ روز تک تو وہ اپنی منظور کردہ شرائط کی پابندی کرتے رہے لیکن شیطان مردود ان کے پیچھے لگا ہوا تھا اس نے انہیں ترغیب دی کہ یک بارگی ہمت کر کے وہ اس اونٹنی کا قصہ تمام کر دیں تو انہیں اپنے استعمال ،جانوروں اور زمینوں کے لیے روزانہ پانی ملنے لگے گا۔ابلیس لعین کا یہ وار کارگر رہا اور ایک سازشی تدبیر کے تحت ناقتہ اللہ یعنی اللہ کی اس اوٹنی کو ہلاک کر دیا گیا ۔
سرکش و باغی قوم نے اس طرح عذاب الٰہی کو خود دعوت دی جس کی نشانیاں اگلے ہی روز ظاہر ہونے لگیں۔پہلے دن قوم کے تمام افراد کے چہرے زرد دوسرے روز سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہو گئے۔اور پھر رات کی تاریکی میں گرجتی چمکتی اور لرزا دینے والی ایک چیخ گونجی جس نے پورے شہر کو تہ و بالا کر دیا ۔اگلی صبح جگہ جگہ نافرمانوں کے لاشے بکھرے پڑے تھے۔ صرف حضرت صالحہ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اس دردناک عذاب سے محفوظ رہے۔قوم عاد کے بعد ہلاک ہونے والی یہ قوم ثمود تھی۔دونوں کی عادتیں ایک جیسی تھیں،انجام بھی ویسا ہی رہا۔ان کے کھنڈرات اور آثار حجاز اور شام کے درمیانی راستے میں علامت عبرت کے طور پر آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔لیکن کم ہی ہیں جو سبق حاصل کرتے ہیں،اللہ تعالی نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کا تذکرہ قرآن حکیم میں نو مقامات پر قوم ثمود کا بیان دس سورتوں میں فرمایا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481