اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زاہدہ حنا سے علٰیحدگی کےبعد 18 برس پاگل پن میں گزارے۔جون ایلیا

c34f6cf9 ed7b 42c5 adc1 b1be2bddb64e

سوال: زاہدہ حنا والا قصہ درمیان میں رہ گیا۔۔۔اس بارے میں بتائیں،محبت کی ابتدا کیوں کر ہوئی اور کیسے ہوئی۔۔۔۔؟
جواب:ہاں! مجھے تقی صاحب نے ایک مضمون دیا۔۔۔۔کہ کسی اسکول ٹیچر کا مضمون ہے،اسے اپنے رسالے میں چھاپ دو،مضمون کا عنوان تھا "یونان تمدن کا گہوارہ” ،وہ مجھے بہت اچھا لگا تھا۔مضمون پر زاہدہ حنا لکھا تھا۔۔۔میں لڑکیوں کے مضمون ذرا دیر میں چھاپتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ عورتوں کے نام سے لکھتے تھے کہ جلدی چھپ جائے گا۔

جن صاحبہ کے توسط سے مضمون ملا تھا وہ آرٹسٹ بھی تھیں،میں اپنے رسالے کے ٹائٹل کے لیے ان کے پاس گیا،استقبالیہ پر ایک لڑکی بیٹھی تھی میں نے اپنا نام بتایا تو وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی،میں کوٹ پینٹ پہنے ہوئے تھا،میں نے پوچھا آپ کون ہیں تو بولی،زاہدہ حنا،میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ مضمون کسی عمر رسیدہ خاتون نے لکھا ہوگا۔وہ لڑکی 16 برس کی تھی۔ایک عجیب طرح کا جھٹکا لگا۔وہ محبت تو نہیں تھی بس تعارف تھا۔اس زمانے میں 63، 62 کی بات ہے،لڑکیاں کم لکھتی تھیں۔آج تو بہت لکھتی ہیں ۔خیر آج بھی اچھا نہیں لکھتی ہیں۔پھر اس تعارف کے بعد مختلف مراحل پیش آتے رہے۔

سوال: یہ کب پتہ چلا کہ آپ کے درمیان محبت پروان چڑھ رہی ہے؟

c34f6cf9 ed7b 42c5 adc1 b1be2bddb64e jpg
جواب: مختلف مراحل تھے۔۔۔بتدریج سلسلے بڑھتے چلے گئے۔اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا،وہ خیالی افسانے لکھتی تھی،تاریخی اور رومانی قسم کے۔۔زبان بہت خوبصورت ہوتی تھی،ایک دفعہ میں بہت متاثر ہوا۔۔۔اس میں ایک منظر تھا کہ ایک محبوبہ اور محبوب باغ میں بیٹھے ہیں۔اس منظر کو کوئی اور لکھتا تو یہی لکھتا کہ وہ بینچ پر بیٹھے ہیں مگر اس نے لکھا تھا۔”وہ دونوں سنگی نشست گاہ پر بیٹھے تھے” اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔۔۔اس لڑکی سے میں آج بھی متاثر ہوں،16 برس کی لڑکی۔۔۔قبل مسیح کے دور کی منظر کشی کرتے وقت بھی ایک ایک چیز کا خیال رکھتی تھی،بابا اس قسم کی باتیں تھیں جو دل میں اترتی گئیں۔۔۔

سوال: اظہار محبت میں پہل کس نے کی تھی؟
جواب:ہمارا معاملہ۔۔۔۔عام قسم کا تھا نہیں،ہم ذہن کے راستے پر چلے تھے،اسے بھی تاریخ کا اور مطالعے کا بہت شوق تھا۔ادب کا مطالعہ بھی وسیع تھا،ہم میں تمام چیزیں مشترک تھیں،یعنی زندگی کے جتنے بھی زاویے ہو سکتے ہیں وہ سب مشترک تھے،کسی بھی معاملے پر اختلاف نہیں تھا ،نہ سیاسی طور پر، نہ فکری طور پر ،نہ نظریاتی طور پر، نہ تحریری طور پر اختلاف تھا ،ہم روشن خیال تھے، آزاد خیال تھے، انسان دوست تھے ،روادار تھے ،یعنی ہر بات مشترک تھی،یعنی دو آدمی اتنے مشترک ہو نہیں سکتے،ناممکن ہے۔۔۔۔بس۔۔۔

سوال: شادی کے بعد بیوی کے طور پر آپ نے زاہدہ کو کیسا پایا ۔۔۔؟
جواب: وہ بہت جفا کش اور بہت محنتی تھی۔مجھ سے بہتر انداز میں زندگی کو سمجھتی تھی۔حقیقت پسند اور بے حد عملی انسان تھی۔۔۔اچھا۔۔۔میں ہوں خیال پسند۔۔۔۔اور وہ رئیلسٹ تھی۔۔۔میں آئیڈیل پسند۔۔۔شاعر۔۔۔اس کے علاوہ میرے اور بھی کئی ایسے معمولات تھے جو معتدل نہیں تھے۔۔۔۔میری ہر کیفیت انتہائی تھی۔۔۔میرے اندر اعتدال کا فقدان تھا،وہ تھی اقتدار پسند۔۔۔مثلا” یہ کہ ہماری بھی شہرت ہو۔۔۔۔وہ گھر کی ذمہ دار بھی تھیں،اپنے والدین کی بڑی لڑکی تھی اس کی تربیت بہت اچھی تھی اور ذہین بھی تھی۔

531141c1 c794 4df2 9143 5bd23fbb9ce7 jpg

سوال: شادی کیسے ہوئی ؟
جواب: اصل میں ان کے والد کو رشتہ پسند نہیں تھا ،ہمارے گھر سے رئیس امروہوی،سید محمد تقی،سید محمد عباس،شکیل عادل زادہ،سید ممتاز سعید،محمد علی صدیقی۔۔۔یہ لوگ گئے تھے۔۔۔مگر انہوں نے منع کر دیا۔۔۔پھر زاہدہ نے بغاوت کی۔۔۔اور یہ بغاوت کامیاب ہوئی ۔چنانچہ انہوں نے اس رشتے کو قبول کر لیا،وہ گھر کی کفیل بھی تھی،اس لیے اس میں ایک عملی شعور بھی تھا،اعتدال پسندی بھی تھی،شادی کے بعد ہم گھر والوں کے ساتھ رہے،بعد میں ہم یہاں سے کسی وجہ سے ان کے گھر منتقل ہو گئے۔

سوال: بعد ازاں آپ کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔۔۔کیا وجوہات تھیں؟
جواب: ہاں افسوس ناک بات یہی ہے کہ جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا،یعنی کہ ایسے دو افراد جن میں ہر اعتبار سے اتفاق پایا جاتا ہو۔۔۔کاش کوئی اختلاف ہوتا۔۔۔تو بعد میں افسوس نہ ہوتا۔۔۔دو آدمی تھے۔۔۔۔مگر ایک تھے۔۔۔اسے اپ کچھ بھی کہہ لیں۔۔۔

سوال: شادی میں کون کون شریک تھا؟
جواب: سبھی دوست تھے۔۔۔اس زمانے میں عبید اللہ علیم تھے،اطہر نفیس تھے۔۔۔۔اسد محمد خان،شکیل عادل زادہ،محمد علی صدیقی،یعنی جتنے بھی دوست تھے، سب شامل تھے۔شادی کے بعد۔۔۔۔یہ جو آپ اس گھر میں جھاڑ جھنکار دیکھ رہے ہیں،اس وقت یہاں سامنے درخت کے نیچے سوتا تھا،زاہدہ حنا ہر روز صبح وہاں ناشتہ لے آیا کرتی تھیں۔۔۔عجیب بات ہے۔۔ آج صبح میں آنکھ بند کیے یہ سوچ رہا تھا کے زاہدہ ہے نا میرے لیے سعید منزل سے ناشتہ لائی ہے۔

سوال: شادی کے بعد کتنا عرصہ ساتھ رہے؟
جواب: بہت عرصہ رہے۔۔۔میں زندگی میں کسی کے ساتھ اتنا نہیں رہا،نہ والد کے ساتھ رہا،نہ والدہ کے ساتھ،نہ بہن کے ساتھ،نہ بھائیوں کے ساتھ اتنے دن رہا۔۔۔۔اس سے اندازہ لگا لیں کہ کتنے دن ساتھ رہا۔۔۔۔ماہ و سال کی بات یاد نہیں۔۔۔۔اب یہ کہتے ہوئے شادی رہی نہیں ،دکھ ہوتا ہے۔۔۔۔اس صورت حال کو لفظ دیتے ہوئے اندر سے دکھی ہو جاتا ہوں۔۔ جذباتی معاملہ ہے۔۔۔

سوال: باقاعدہ طلاق ہوئی تھی؟
جواب:ہاں۔۔۔۔باقاعدہ۔۔۔اصل میں ،صورت کو لفظ دیتے ہوئے دکھ ہوتا ہے۔۔۔۔میں بچتا ہوں۔۔ یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے ظاہر ہے سب کچھ ہوا۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔کچھ باقی نہیں رہا۔۔۔۔میں سوچتا ہوں کہ میں کتنا بہادر آدمی ہوں۔۔۔۔اپنے آپ کو میں مضبوط کر پایا، خود میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔سمیٹ لیا۔۔۔میں بکھر گیا تھا۔۔۔۔پھر بھی میں نے سمیٹ لیا۔۔ مثلا” پہلے میں دو غزلیں کہتا تھا۔۔۔اب پانچ غزلیں لکھتا ہوں۔۔۔یہ سب میں کیسے کر پاتا۔۔۔میں 18 برس بے خوابی میں مبتلا رہا ۔۔۔ایک مصرع بھی نہیں کہہ پاتا تھا،ہوش بھول چکا تھا۔۔۔اب از سر نو۔۔۔میرا ظہور ہوا۔۔۔یعنی 84 کی بات ہے۔۔۔

میں خود حیران ہوں کہ میں کیسے سنبھل گیا۔۔۔اس واقعے کے بعد مجھے پاگل ہو جانا چاہیے تھا۔۔۔میں پاگل ہو بھی گیا تھا اس میں شبہ نہیں کہ میں 18 برس تک پاگل رہا۔۔۔18 سال پاگل پن میں گزارے۔۔۔یہ علیحدہ بات ہے کہ میں پوری دنیا بھی گیا۔۔۔افریقہ،کینیڈا،امریکہ۔۔۔ہندوستان وغیرہ وغیرہ سب جگہ گیا۔۔۔لیکن بھٹکتا ہوا جاتا تھا،ایک آدمی جو ٹوٹ پھوٹ گیا ہو،سسکتا رہا ہو۔۔۔۔اب میں دیکھتا ہوں کہ میں ہوں۔۔۔میرے ہاتھ میں قلم ہے،میں لکھ رہا ہوں،میں نے لکھ لیا۔۔۔۔یہ کیسے ہو رہا ہے میں حیران ہوں،اور یہ ممکن کیسے ہو گیا۔۔۔۔میں زاہدہ کا اتنا عادی تھا جتنا انسان جسم کا،آفتاب کا،ستاروں کا عادی ہوتا ہے۔۔۔۔

1ed978b4 fb3d 4d45 b2c0 46d513508f9b jpg

سوال: اپنی شاعری پر ناقدانہ طور پر نظر ڈالیں تو کس مقام پر دیکھتے ہیں؟
جواب: بڑی عجیب بات ہے۔۔۔۔۔کوئی دو برس پہلے تک۔۔۔۔آغاز شاعری کا سب سے بڑا منکر تھا،مجھے اپنی شاعری انتہائی بری لگتی تھی،کبھی کبھی اچھی لگی۔۔۔۔مگر میں ہمیشہ اپنے آپ کو برا شاعر سمجھتا تھا۔۔۔۔میں نے اپنی کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ میں کتابت کو دینے کے لیے اپنے آپ کو ٹٹولتا رہا اور اپنی شاعری کو پھینکتا رہا۔۔۔۔اور کہتا رہا لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔کیا بکواس شاعری ہے۔میرا منکر میں خود ہوں۔

سوال:اب آپ اپنی شاعری کس مقام پر دیکھتے ہیں؟
جواب:ہاں۔۔۔اب چند سالوں سے میں سمجھ رہا ہوں کہ میں بڑا منفرد شاعر ہوں۔۔۔۔میں معمولی شاعر نہیں ہوں۔۔۔اردو شاعری نے دو سید پیدا ہوئے۔۔۔۔یا یوں کہہ لیں کہ اردو شاعری نے دو سید پیدا کیے اور ایک امتی۔۔۔۔ایک سید محمد تقی میر اور ایک سید جون ایلیا اور امتیوں میں غالب۔۔۔۔صرف تین غزل گو پیدا کیے اردو شاعری نے،دو سید اور ایک امتی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ مجھے اب بھی اپنی پوری شاعری بہت بری لگتی ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب تک میری صرف ایک کتاب چھپی ہے ورنہ شاعری تو اتنی کی ہے کہ بارہ دیوان چھپوا لیتا۔(تب  تک جون ایلیا کا ایک ہی مجموعہ کلام چھپا تھا)

پھر جناب اپ دیکھیں کہ میری کتاب کے کئی ایڈیشن چھپے ہیں مگر ہر ایڈیشن میں تبدیلیاں ہیں ،کسی ایڈیشن میں کچھ اور طرح سے ہے تو دوسرے ایڈیشن میں کچھ اور طرح سے۔یعنی میں اپنی شاعری سے مطمئن ہی نہیں،میں جامعیت چاہتا ہوں۔۔۔۔میرے اندر اپنے اپ کو ناتمام یا نا مکمل سمجھنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں اردو غزل کا منفرد ترین شاعر ہوں،جتنی نئی ترکیبیں اردو شاعری کو میں نے دی ہیں،اتنی شاید ہی کسی اور نے دی ہوں۔

سوال: گویا یہ آپ کا دعوی ہے کہ آپ اردو غزل کے سب سے منفرد شاعر ہیں اور آپ جیسا شاعر کوئی اور نہیں؟
جواب:نہیں! دعوی نہیں،یہ میرا خیال ہے۔۔۔اسے میری رائے کہہ لیں! جیسے ہم کسی اور شاعر کے بارے میں بحیثیت شاعر ایک رائے رکھتے ہیں اسی طرح بہ حیثیت شاعر اپنے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ کوئی اس کو نہ مانے۔۔۔۔مگر اس کے نہ ماننے سے میری رائے تبدیل تو نہیں ہوگی۔

t jpg

سوال: آپ کی یہ رائے شادی کی ناکامی سے پہلے بھی تھی یا اس میں تبدیلی آئی ہے؟
جواب: اصل میں وہ تو ایک میری حالت تھی۔۔مجھے تو اس وقت بھی لوگ اسی طرح پسند کرتے تھے اور اب بھی اسی طرح پسند کرتے ہیں،میرے ساتھ ہمیشہ ایک سی صورت رہی ہے،مجھے ہمیشہ پسند کیا گیا ہے، میں نے ہمیشہ مشاعرے مارے ہیں۔مگر میں اپنے آپ کو یقین نہیں دلا پاتا۔۔۔میں اصل میں بے حد شر پسند آدمی ہوں۔۔۔بڑی مشکل سے اپنے آپ پر کنٹرول کرتا ہوں ۔۔۔(جاری ہے)

انٹرویو کا دوسرا اور پہلا حصہ پڑھنے کیلئے یہ لنک کھولیں

بچپن ہی سے میرے اندر سرکشی، انا اور فرعونیت تھی۔جون ایلیا

spent 18 years in "madness" after separation from Zahida Hina,says Jaun Elia,زاہدہ حنا سے علٰیحدگی کےبعد 18 برس پاگل پن میں گزارے۔جون ایلیا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481