اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وليمة الحِذَاقة ……….. دعوت ختم قرآن

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 2

جمیل الرحمٰن عباسی

خوشی منانے اور دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کرنے کے لیے کھانا کھلانا قدیم روایات میں سے ہے ۔ دین اسلام نے بھی اسے روا رکھا بلکہ اس کی تاکید کی اور بعض دعوتوں مثلاً شادی خانہ آبادی کے موقع پر کھانا کھلانے کی ترغیب دلائی ۔

اسلامی روایت میں مختلف مواقع پر کی جانے والی دعوتوں کے الگ الگ نام پائے جاتے ہیں اور ان کے متعلق باقاعدہ تصنیفات موجود ہیں اور اس کے علاوہ کئی اہل علم نے ان کے بارے میں منظومات بھی تحریر کی ہیں ۔ اس سلسلے کی ایک اہم کتاب فصُّ الخواتم فيما قيل في الولائم ہے ۔ جو محمد بن علی بن محمد ابن طولون دمشقی الحنفی(953 :ھ ) کی تصنیف ہے ۔ ہمارے موضوع کے متعلق اس کتاب میں دو عنوان ہیں وليمة الحِذَاقة اور الاحتفال بحذاق الصبيان… ان میں سے پہلے عنوان پر ہم بات کرتے ہیں

وليمة الحِذَاقة:
ہماری روایت میں ختم قرآن کی دعوت کا نام ولیمہ الحذاقہ آتا ہے۔اس ترکیب میں پہلا لفظ ولیمہ ہے ۔ عربی لغت میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ كلُّ طعام يُتَّخذ لجَمْع أو لدعوة أو فرح، مأدبة، طعام العُرس ’’ہر وہ کھانا جو کسی جماعت کے لیے تیار کیا جائے یا کسی کی دعوت کے موقع پر یا کسی خوشی کے موقع پر تیار کیا جائے وہ ولیمہ یعنی کھانے کی دعوت ہے اور شادی کے موقع پر تیار کیے جانے والے کھانے کو بھی ولیمہ کہتے ہیں۔ ‘‘ البتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ شادی کے کھانے پر ولیمہ کے لفظ کا عام اطلاق ہوتا ہے یعنی جب مجرد ولیمہ کہا جائےتو عربی میں اکثر طور پر جب کہ اردو میں لازمی طور پر شادی کا کھانا مراد ہوتا ہے۔ البتہ جب اس کے ساتھ کوئی اضافت لگائی جائے تو اس کا معنی بدل جاتا ہے اور وہ پھر کسی خاص دعوت پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ ولیمہ الحذاقہ ۔

اس ترکیب میں دوسرا لفظ الحِذاقہ ہے ۔القاموس المحیط میں آتا ہے:
• حَذَقَ الصبِيُّ القُرْآنَ أو العَمَلَ كضَرَبَ وَعَلِمَ حَذْقاً وحَذاقاً وحَذاقَةً ويُكْسَرُ الكلُّ
أو الحِذاقةُ بالكسر: الاسمُ: تَعَلَّمَهُ كُلَّه ومَهَرَ فيه
حِذاقه
تو اگرچہ اردو میں استعمال نہیں ہوتا البتہ اس سے مشتق لفظ ’’ حاذِق ‘‘اردو میں استعمال ہوتا ہے جیسے کسی طبیب کی مہارت کو ظاہر کر نے کے لیےکہا جاتا ہے کہ فلاں حاذِق حکیم ہے ۔ جب کہ عربی لغت میں یہ کسی بھی قسم کی مہارت میں استعمال ہو سکتا ہے جیسے کتابوں میں عام ملتا ہے کہ حُذَّاقُ المُحَدِّثينَ ’’ محدثین میں سے اچھی مہارت رکھنے والے۔مگر جب دعوت کے ساتھ یا تقریب کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہو گا تو اس میں حذاقہ سے مراد قرآن پاک میں مہارت حاصل کرنا مراد ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ اسلامی تعلیم میں قرآن کی تعلیم ایک اہم سنگ میل ہے۔چناں چہ

علامہ ابن طولون نے وليمة الحِذَاقة کا تعارف یوں کرایا ہے (بكسر الحاء المهملة، وهي الإطعام عند ختم القرآن، وكذا إذا ختم الثمُنَ أو الرُبُعَ أو النصف ’’ یہ ہائے مہملہ یعنی بغیر نقطے والی کے ساتھ ہے اور یہ اس کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ختم قرآن کے موقع پر ہو اور اسی طرح ثَمُن یا ربع یا نصف قرآن مکمل کرنے پر بھی یہ دعوت کی جا سکتی ہے‘‘۔انھوں نے ابن ابی العز الحنفی کی نظم کا ایک شعر پیش کیا ہے:
ومأدُبةُ الخُلاّنِ لا سببٌ لها حِذَاقُ صَبيًّ يومَ ختمِ قُرانِ
’’دوستوں کے لیے کھانا تیار کرنا چاہے بغیر وجہ کے ہو اور بچے کی دعوتِ حِذاق کا اہتمام کرنا جس دن اس کا ختم قرآن ہو ‘‘علامہ ابن طولون نے اس حوالے سے دو روایات بھی پیش کی ہیں :
: عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: كانوا إذا حذق الغلام قبل اليوم نحروا جزوراً، واتخذوا طعاماً ( فص الخواتم فيما قيل في الولائم ابن طولون الحنفي )
حسن بصری کہتے ہیں کہ جس دن بچے کی تعلیم ِ قرآن مکمل ہوتی تھی تو وہ لوگ (یعنی صحابہ و تابعین ) جانور ذبح کرتے تھے اور کھانا تیار کرتے تھے
عَنْ حُمَيْدٍ قال: كانوا يستحبون إذا جمع الصبي القرآن أن يذبح الرجل الشاة ويدعو أصحابه( فص الخواتم فيما قيل في الولائم ابن طولون الحنفي )

1e150f91 60f3 4bd0 90a8 1d8fac073e52 1 jpg

حُمَید الطویل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وہ لوگ (صحابہ و تابعین ) پسند کرتے تھے کہ جب بچہ قرآن مکمل کرلے تو بندہ بکری وغیرہ ذبح کر کے اپنے دوستوں کی دعوت کرتے‘‘
ایک روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
تَعَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْبَقَرَةَ فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمَّا خَتَمَهَا نَحَرَ جَزُورًا "(شعب الایمان )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورۃ البقرہ ، بارہ سال میں سیکھی اور جب مکمل کی تو ا ونٹ ذبح کر کے دعوت کی تھی (شعب الایمان)علامہ ابن طولون نے دوسرا عنوان قائم کیا ہے ’’الاحتفال بحذاق الصبيان ‘‘یعنی بچے کی علمی مہارت کی خوشی میں مجلس کا انعقاد کرنا‘‘ ۔ اس مجلس آرائی کے متعدد فائدے ہیں ایک طرف تو اس سے طالب علم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو دوسرے بچوں کو حصول علم کی ترغیب حاصل ہوتی ہےاور معاشرے میں اس علم کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے اور دوسرے والدین بھی اپنے بچوں کو علم کے میدان میں آگے بڑھانے کا سوچتے ہیں ۔خاص طور پر جب بات ختم قرآن کی ہو تو اس حوالے سے انعقاد محفل میں تقدس کا پہلو بھی ہے اور یہ کام کارِ ثواب بھی ہے۔ اسلافِ امت میں اس کا عام رواج ملتا ہے چناں چہ ثابت البنانی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ
كَانَ أنَسٌ – رضي الله عنه – إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ فَدَعَا لَهُمْ
) سنن الدارمي، و التبيان للنووي (
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب تلاوت قرآن کا دور مکمل کرتے تو اپنے اہل وعیال کو جمع کر کہ ان کے لیے دعا فرمایا کرتے،،ابراہیم التیمی سے روایت ہے کہتے ہیں: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» . قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ أَهْلَهُ ثُمَّ دَعَا وَأَمِّنُوا عَلَى دُعَائِهِ (فضائل القرآن للقاسم بن سلام (المتوفى: 224هـ)
عبد اللہ ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ جس نے قرآن ختم کیا تو اس کی دعا مقبول ہوتی ہے ۔ پس جب آپ خود قرآن ختم کرتے تھے تو اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے جبکہ گھر والے ان کی دعا پر آمین کہا کرتے تھے ،،حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ
: كانوا يجتمعون عند ختم القرآن ويقولون: إن الرحمة تنزل عند ختم القرآن(الاذکار ) ’’وہ(صحابہ کرام یا تابعین )ختم قرآن کے موقع پر جمع ہوا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ختم قرآن کے موقع پر اللہ کی خصوصی رحمت کا نزول ہوتا ہے‘‘۔
دعا کی مقبولیت کے بارے میں ایک مرفوع روایت بھی نقل کی جاتی ہے جس میں سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
«مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ» (الطبرانى عن العرباض)
’’ جس نے قرآن کی تلاوت کی تکمیل کی اس کی دعا قبول کی جاتی ہے‘‘


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481