اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"ضمانت میں توسیع۔۔مگر نواز شریف وجہ بتائیں کہ اشتہاری کیوں ہوئے؟”

لندن،نواز شریف اور مریم نواز جنیوا روانہ

اسلام آباد ہائی کورٹ اور احتساب عدالت کی جانب سے نواز لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو بڑا ریلیف ملا ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک کی توسیع کر دی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کو اپ نے اشتہاری ہونے کا جواز پیش کرنا ہوگا کہ وہ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟جبکہ نگران پنجاب حکومت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطل کر دی ہے ۔

اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی توشہ خانہ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ لیگی قائد کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے عدالت نے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کل ہی کرانے کا عدالتی حکم
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی ہے۔سابق وزیراعظم  نے  دونوں ریفرنسز میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نوازشریف توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی  کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں ان کے سرنڈر کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت اور نیب کے نمائندے کے درمیان دلچسپ مکالمہ

2323398 nab 1652849415 309 640x480 1
اس موقع پر عدالت نے نیب کے نمائندے سے استفسار کیا کہ اپ کو ضمانت کی توسیح پر کوئی اعتراض ہے؟ جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے دوبارہ پوچھا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئےآپ بتائیں کہ کیا اپ نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا نیب یہ کہنا چاہتا ہے کہ نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے لیکن انہیں چھوڑ دیا جائے ؟

اس پر نیب پروسیکیوٹر نے کہا کہ نیب نواز شریف کو گرفتار نہیں کرنا چاہتی ؟ عدالت عالیہ کے استفسار پر بتایا گیا کہ چیئرمین نیب اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں ۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں ہے، عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ آپ کے موکل اتنا عرصہ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے ۔اس پر نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے موکل جان بوجھ کر غیر حاضر نہیں ہوئے بلکہ عدالت کی جانب سے اجازت ملنے پر بیرون ملک علاج کے لیے گئے تھے اور اس حوالے سے میڈیکل رپورٹس باقاعدگی سے عدالت میں جمع کرائی جاتی رہی ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تھا مگر اپ لوگ دوسری عدالت چلے گئے ۔اس کی وجہ کیا تھی ؟ اس پر اعظم مزید تارڑ نے کہا کہ دوسری عدالت سے ریلیف ملنے کے حوالے سے ہم نے اس عدالت کوآگاہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔

نواز شریف احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ

قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے  توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ لیگی قائد کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے عدالت نے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے نواز شریف کے دائمی وارنٹ گرفتاری آج تک کے لیے معطل کردیے تھے اور کہا تھا کہ اگر نواز شریف 24 اکتوبر تک پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری پرعملدرآمد کرایا جائے گا۔

سماعت  کے بعد نواز شریف کمرہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہوگئے۔نواز شریف کی پیشی کے موقع پر  اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ادھر پنجاب حکومت نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کر دی ہے۔

اس حوالے سے تفصیلات سامنے آگئی  ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست پنجاب حکومت کو دی گئی تھی۔ ویڈیو لنک پر نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے سزا معطلی پر دلائل دیے۔

نوازشریف کی ایئر پورٹ پہنچتے ہی قانونی ٹیم سے مشاورت

نوازشریف کی ایئر پورٹ پہنچتے ہی قانونی ٹیم سے مشاورت

دوران سماعت نگراں پنجاب کابینہ کے ہمراہ چیف سیکریٹری بھی موجود تھے۔ نگراں پنجاب حکومت نے سابق نواز شریف کے وکلا کی سزا معطلی کے لیے درخواست متفقہ طور پر منظور کی ۔واضح رہے کہ کریمنل پروسیجرل کوڈ سیکشن 401 کے تحت حکومت مجرم کی سزا معطل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ احتساب عدالت نے 6جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو  10سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ اسلام آباد ہایی کورٹ نے 19ستمبر 2018 کو میرٹ پر سزائیں معطل کرکے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو رہا کر دیا تھا۔

اسی طرح نواز شریف کو 24دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں 10سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 31اکتوبر 2019 کو میڈیکل گروانڈ پر نواز شریف کی ضمانت دی تھی۔

"Bail extended, but Nawaz Sharif, has to justify why absent?""ضمانت منظور۔۔مگر نواز شریف وجہ بتائیں کہ اشتہاری کیوں ہوئے؟"


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481