بحریہ ٹاؤن کے مالک اور ملک کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی دبئی میں نواز شریف سے ملاقات ناکام ہو گئی۔
دبئی میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نواز شریف نے وطن واپسی سے ایک دن پہلے ہر قسم کی مصروفیات ترک کر کے یہ طے کیا تھا کہ وہ ہفتے کے روز مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے اور اپنی تقریر کی بھی تیاری کریں گے۔لہذا انہوں نے اپنے اسٹاف سے کہا تھا کہ وہ کسی سے ملاقات شیڈول نہ کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے منت سماجت کر کے کسی طرح میاں نواز شریف سے مختصر ملاقات کے لیے وقت لے لیا جس کے بعد وہ اپنی عالی شان گاڑی میں لیگی قائد سے ملاقات کے لیے پہنچے اور ان کی ملاقات طول اختیار کر کے ایک گھنٹے پر محیط ہو گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک ریاض نے عدالت میں درپیش مسائل کے حوالے سے نواز شریف کی مدد حاصل کرنا چاہی جو بظاہر پاکستانی سیاست کے اہم ترین کھلاڑی بن گئے ہیں اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ آئندہ حکومت انہی کی جماعت کی بنے گی ،اگرچہ پاکستانی سیاست میں کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ملک ریاض کو کسی قسم کی یقین دہانی کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے معاملات عدالتوں میں اور قومی اداروں کے ساتھ ہیں تو بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات خود نمٹائیں اور قانون کا سامنا کریں۔
ذرائع کے مطابق ملک ریاض کو باور کرایا گیا کہ اگرچہ نواز لیگ ان کے خلاف نہیں ہے نہ کسی قسم کی کارروائی چاہتی ہے تاہم مسلم لیگ نون ملک ریاض کی کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح ملک ریاض ٹائم لینے کے باوجود نواز شریف سے ملاقات میں مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کر سکے اور بظاہر ناکام لوٹ گئے۔
Malik Riaz failed to get Nawaz Sharif's help,نواز شریف کی مدد حاصل کرنے میں ملک ریاض ناکام

