اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بچپن میں پڑھائی سے وحشت ہوتی تھی،اداکاری کرتارہا۔جون ایلیا

11 jpg

ملک کے نامور شاعر جون ایلیا مرحوم کا یہ انٹرویو کوئی دو عشرے پہلے معروف ادیب ابن آس محمد نے کیا تھا،ابن آس عمدہ لکھاری ہیں،انہوں نے جون ایلیا سے ملاقات اور ان کے گھر کی حالت کے حوالے سے کمال منظر کشی کی ہے جو قارئین کوہسار کیلئے بطور ابتدائیہ من و عن پیش کی جا رہی ہے۔

55dcd299 56f3 4a89 98d1 c2a4a651df7bابن آس محمد

جون ایلیا سے انٹرویو کے لیے فون کیا تو فورا” ہی بات ہو گئی اور میں وقت مقررہ پر ڈھونڈتا ہوا اس گھر تک پہنچ گیا جو کسی بھی طرح کھنڈر سے کم نہیں تھا۔بہت بڑا سا دروازہ عبور کر کے میں اندر داخل ہوا تو جون ایلیا دور کھڑے نظر آگئے اور مجھے اپنے کمرے تک پہنچنے کے لیے ایک عقبی راستے کی نشاندہی کی،اور خود ٹوٹے پھوٹے کمروں کے اندر چلے گئے۔ میں ان کے بتائے ہوئے راستے پر گیا تو جھاڑ جھنکار میرا راستہ مسدود کر رہی تھی۔یوں لگا جیسے قدیم اور پراسرار کھنڈر میں آگیا ہوں۔

پتھروں اور درختوں کے تنوں کو پھلانگتا،کانٹے اور جھاڑیوں سے بچتا ہوا جب میں اس کھولی نما کمرے میں داخل ہوا جہاں جون ایلیا ایک بے حد پرانی اور ٹوٹی پھوٹی میز کی دوسری طرف میرے منتظر تھے تو میں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔یہ کھولی عہد حاضر کے ایک بڑے شاعر کے کمرے کی بجائے بھوتوں کا مسکن نظر آرہی تھی۔لمبائی میں کم از کم 20 فٹ اور چوڑائی میں پانچ فٹ سے زیادہ نہ تھی۔مستطیل کھولی نما کمرے میں ایک ٹوٹی جھلنگا چارپائی جس پر غلیظ سا گدا اور میل سے چیکٹ تکیہ تھا۔اس کے علاوہ کھولی میں ایک اور ٹوٹی ہوئی لکڑی کی پرانی میز کرسی کے علاوہ کچھ نہ تھا،

جون ایلیا کے پیچھے کھڑ کھڑاتا پنکھا تھا جو بار بار رک جاتا،ایک دروازہ گھر کے اندرونی حصے میں کھلتا تھا جس کے نہ تو پٹ تھے اور نہ ہی پردہ تھا۔مجھے اس دروازے کے عین سامنے بٹھا دیا گیا،یہاں سے پورے گھر کی زبوں حالی اور دگرگوں حالت کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا،مستطیل کمرے میں چاروں طرف سینکڑوں کی تعداد میں مکڑی کے جالے اور درجنوں بڑی بڑی مکڑیاں ادھر سے ادھر بھاگتی پھرتی نظر آرہی تھیں اور میرے سامنے وقت کا سب سے بڑا غزل گو ہونے کا دعویدار جون ایلیا اپنے پریشان چپکے ہوئے بال،آنکھوں میں کیچڑ اور ابتر حالت سمیت بیٹھا تھا۔

dd jpg

سامنے ہندی فلسفے کی ایک ضخیم کتاب کھلی ہوئی تھی۔میں نے انٹرویو کا آغاز کرنے سے پہلے جون ایلیا پر ایک نظر ڈالی تو ایک لمحے کے لیے دہل کر رہ گیا۔ہڈیوں کے اس ڈھانچے کو دیکھ کر احساس ہوا شاید یہ شخص دو چار گھڑی کا مہمان ہے۔آنکھیں اندر دھنسی ہوئی،چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی اور چہرہ اس قدر پتلا کہ جیسے قحط ذدہ علاقے میں شیر خوار بچے کا ہوتا ہے۔یہ تھا وہ شخص جس کی شاعری پڑھ کر میں اس سے ملنے کے لیے بے چین تھا،خلاف توقع جون ایلیا پورے حواس میں تھے۔کچھ دیر میں چائے آگئی جس کے بعد انٹرویو کا آغاز ہوا،خاصی طویل گفتگو  ہوئی جس کاپہلاحصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: کچھ پس منظر بتائیں۔۔والدین۔۔۔جد امجد کون تھے۔۔کیا کرتے تھے۔ شاعری کس طرح ذات میں نمودار ہوئی؟
جواب: شاعری مجھے ورثے میں ملی ہے۔میرے بھائی رئیس امروہی بہت کمال کے شاعر تھے۔ایک زمانہ انہیں جانتا ہے۔والد علامہ سید حسین بھی شاعر تھے۔وہ عربی ،فارسی ،سنسکرت ،عبرانی،انگریزی تمام زبانیں جانتے تھے۔تاریخ مذاہب عالم اور علم ہیئت کے سلسلے میں ان کی لندن کے سائنسدانوں اور محققین سے خط و خطابت بھی ہوتی رہتی تھی،وہ تاریخ مذاہب عالم،تاریخ انسان،علم ہیئت کا بہت علم جانتے تھے۔عربی اور فارسی میں شاعری بھی کرتے تھے۔انہوں نے عربی میں خاصی نثر بھی لکھی،ان کے والد سید نصیر حسن بھی شاعر تھے،ان کے دادا بھی شاعر تھے،ان کے دادا یعنی میرے پر دادا،یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہوا پیچھے کی طرف جاتا ہے۔ہمارے جد امجد سید عبدالرسول نثار کے شاگرد تھے۔ وہ میر تقی میر کے شاگرد تھے،اس طرح میں میر تقی میر کے خاندان معنوی کا واحد وارث ہوں۔۔۔رئیس صاحب تھے اور میں تھا، رئیس صاحب کا انتقال ہو گیا۔اب میں واحد وارث بچا ہوں تو یوں سمجھ لیں کہ ہمارے پورے خاندان کا تعلق لکھنے پڑھنے سے تھا۔ہمارے بابا صاحب تین بھائی تھے۔وہ تینوں شاعر اور ادیب تھے۔ ہم چار بھائی رئیس امروہی،سید محمد تقی،سید محمد عباس،ان کا فرزند،سب شاعر ہیں،اس کے علاوہ ہمارے چچا کے لڑکے کمال امروہی،پاکیزہ ،رضیہ سلطان،محل وغیرہ وغیرہ کے خالق۔۔۔یعنی ہمارا سلسلہ۔۔۔پورا خاندان اور ارد گرد کا تمام ماحول اور تمام ماضی ادبی اور شاعرانہ تھا۔

سوال: کس علاقے کی بات ہے۔۔۔ کہاں پیدا ہوئے؟
جواب: امروہہ میں پیدا ہوا، وہیں تعلیم حاصل کی بچپن بھی وہیں گزرا۔
سوال:بچپن کیسا رہا؟
جواب: بچپن کے شروع میں بہت شوخ تھا، پڑھنے سے انتہائی وحشت ہوتی تھی۔ جو بڑھنے کے شوقین تھے ،میں انہیں برا بھلا کہتا تھا۔۔مثلا بے وقوف، احمق انسان، دشمن اور مردم بیزار وغیرہ وغیرہ۔بھئی وہ پڑھنے کے شوقین تھے نا اسی لیے۔۔۔ مجھے پڑھنے سے چڑ تھی ،اور میں پڑھنا تو چاہتا تھا مگر اس طرح نہیں جیسے نصاب پڑھا جاتا ہے،اگر ہم لوگوں نے تو سنا کیسے چاہیے میرا انداز یوں تھا کہ ایک کتاب ہے جو نصاب کا حصہ ہے، بس میں وہ نہیں پڑھوں گا۔۔۔۔اس سے مجھے بیر تھا، ہاں اسی موضوع پر دوسری ساری کتابیں پڑھوں گا بس یہ طریقہ تھا۔۔۔ یعنی پڑھتا تو تھا اسی لیے سکول سے بھاگتا تھا، کبھی یہاں پڑھ رہا ہوں۔۔ کبھی وہاں پڑھ رہا ہوں۔

 

سوال: بچپن میں آپ ڈرامہ بھی کرتے رہے؟
جواب: ہاں اس زمانے میں تاریخی اسلامی طرز کے ڈرامے،مگر دائرے میں رہ کر مثلا’ مدرسہ۔۔ اسکول وغیرہ۔۔۔۔دائرے میں رہ کر نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔۔۔مجھے لگتا تھا کہ ادارے میں رہ کر پڑھنا سزا ہے تعلیم کے ادارے جیل خانے ہیں اور میں بلا کا آزاد واقعہ ہوا تھا۔بلکہ بلا کا آزاد ہوں۔۔۔میں پابندی برداشت کر ہی نہیں سکتا۔۔۔پیش کرنے والا ایک ڈرامہ کلب "بزم ہفت نما "تھا۔یہ امروہہ میں ہماری برادری کا ہی ڈرامہ کلب تھا۔یہ ڈرامہ کلب پارسیوں کی تھیٹریکل کمپنیوں کی طرح منظم تھا۔اس زمانے میں کلکتہ اور بمبئی وغیرہ میں پارسیوں کی تھیٹریکل کمپنیاں تھیں۔انہی کی طرح کی سرگرمیاں تھیں،بچپن سے ہی ان سرگرمیوں کو دیکھتے آئے تھے۔
بس! یہ سب دیکھ کر مجھے ڈراموں کا شوق ہو گیا۔۔۔صبح سے شام تک میں اسی میں لگا رہتا۔میں ڈائریکٹر بھی تھا ڈرامہ لکھتا بھی تھا،اداکاری بھی کرتا تھا۔اس زمانے میں امروہہ میں یہ میری شناخت بن گیا تھا۔لوگ بولتے تھے۔۔۔بھٹی یہ ہے جون۔۔۔اداکار ہے، لکھا تو خیر میں نے ایک ہی ڈرامہ تھا۔ زیادہ تر وہی ڈرامے کرتے تھے جو ہمارے بڑے کرتے آئے تھے۔ایکٹر کے طور پر میں چاروں طرف مشہور تھا۔میری اواز بھی بڑی پاٹ دار
۔۔ اور بڑی بھرپور تھی۔گھر والے بھی میری ان مسلسل مصروفیت سے تنگ تھے،چنانچہ میں نے سوچا کہ گھر والوں کو رشوت دی جائے۔۔۔یہ کہ پڑھنا شروع کر دیا جائے۔۔۔تاکہ یہ ہمیں ان جھمیلوں میں لگے رہنے کی آزادی دے دیں کہ بھئی بچہ پڑھ بھی تو رہا ہے۔۔ لہذا میں نے گھر والوں کو رشوت دینے کے لیے پڑھنا شروع کیا اور پھر مذاق مذاق میں پڑھنے کا شوق ہو گیا۔پھر ہم دن بھر پڑھنے لگے۔۔۔ان زمانوں میں ڈراموں کا خاصہ حصہ منظوم ہوتا تھا۔ چونکہ میں لکھتا بھی تھا اس لیے شاعری بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔

r jpg
سوال: باقاعدہ شعر کس عمر میں کہا۔۔۔؟
جواب: شعر و شاعری تو ڈرامے کے حوالے سے چل رہی تھی۔ہاں۔۔۔۔باقاعدہ شعر یعنی پہلا شعر میں نے کوئی آٹھ برس کی عمر میں کہا۔
بارہا چھپ چکا ہے۔۔وہ یہ تھا۔
چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
اس کے کچھ عرصے بعد میں نے جو شعر کہا وہ یہ تھا۔
نہ جانے کیا ہے یہ راز اور کیا حقیقت ہے
مجھے تم ہی سے محبت اور تم ہی سے نفرت ہے

بس یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا۔14 برس کی عمر میں مجھے پڑھنے کا شوق ہوا تو شاعری بھی منظم ہونے لگی۔اور باضابطہ شاعری کرنے لگا۔اس وقت سے یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔میں نے متعدد موضوعات پر لکھا مختلف زبانوں میں شاعری کی۔اردو میں۔۔۔فارسی میں۔۔ اور عربی میں بھی۔عربی میں آخری نظم اس وقت کہی تھی جب اسرائیل اور مصر میں آخری جنگ ہوئی تھی۔جنگ میں چھپی تھی۔عربی شاعری اس لیے زیادہ نہیں کی کہ بھلا عرب ہمیں اور ہماری شاعری کو کب تسلیم کریں گے،بس پھر فارسی میں کی۔۔۔اور یہی سوچ کر فارسی شاعری بھی چھوڑ دی۔۔۔اردو کا سلسلہ رہا۔۔۔جر سے بعد پھر فارسی میں کہنا شروع کیا۔۔از سر نو۔۔۔یعنی مختلف موضوعات پر کام کیا ہے۔مثلا یہاں آکر میں نے ایک علمی ادبی پرچہ انشاء نکالا۔”ادارہ ذہن جدید”قائم کیا۔اسی ادارے سے بڑے بھائی رئیس امروہی کے قطعات کا انتخاب شائع ہوا۔

سوال: اپ نے اسماعیلیوں کے لیے بھی کام کیا؟
جواب: ہاں اسی زمانے کی بات ہے۔”انشاء”شائع ہو رہا تھا کہ اسماعیلیوں کی ایسوسی ایشن نے رابطہ کیا۔۔۔اسماعیلی یعنی آغا خانی۔۔۔اسماعیلیوں کا عالمی ادارہ۔۔۔یعنی عالمی مرکز پہلے کراچی تھا۔ان کا ایک ادارہ تھا جو تحقیق و تصنیف و تالیف وغیرہ کا کام کرتا تھا۔انہوں نے کوشش کی کہ میں ان لوگوں کے ساتھ وابستہ ہو جاؤں۔میں نے کہا کہ بھائی میں پہلے ہی اپ سے وابستہ لوگوں پر کام کرتا رہا ہوں۔۔۔مثلا میں نے بو علی سینا پر کام کیا ہے۔۔۔۔بو علی سینا اسماعیلی تھے،باہر تو اور آغا خان کی ایک نمائندے ہمارے پڑوسی تھے۔وہ میرے پیچھے پڑ گئے ان کے کہنے پر میں اسماعیلیوں کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔

tt jpg

اس کے علاوہ میں تاریخ عرب قبل اسلام،تاریخ مذاہب عالم،مسلم فلسفہ۔۔۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی تحریک پر کام کرتا رہا۔میں نےان کے لیے فلسفے کی متعدد کتابیں ترجمہ کیں۔۔۔فلسفہ اور تاریخ ہمیشہ سے میرا موضوع رہا ہے۔اب ان کا مرکز لندن میں منتقل ہو گیا ہے۔میں اسماعیلیہ فرقے کی انجمن میں خاصا عرصہ کام کرتا رہا۔اسی زمانے میں حقی صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا۔۔۔وہ انجمن ترقی اردو بورڈ میں تھے۔۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں لغت مرتب ہو رہی ہے آپ یہاں آ جائیں۔اس پر کام کریں۔۔۔میں نے کہا کہ حقی صاحب میں یہاں اسماعیلیوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔وہ بولے” آپ اڑتالیس انچاس اماموں میں کہاں جا پھنسے بلکہ یہاں چار خلیفہ یا بارہ اماموں میں آئیں”۔

خیر میں ان کے کہنے پر اس کام میں بھی مصروف ہو گیا۔۔۔اسماعیلیہ فرقے کا دفتر شام کو بھی کھلتا تھا چنانچہ میں صبح بورڈ میں جانے لگا اور شام کو اسماعیلیہ ایسوسی ایشن جانے لگا۔بورڈ میں میں نے کوئی آٹھ نو برس کام کیا یہ سلسلہ 76ء تک جاری رہا۔پھر اپنا پرچہ بھی کرتا تھا۔تو قلم ہی میرا روزگار ہے۔۔۔یہی میرا کاروبار ہے۔(جاری ہے)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481