اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دو فٹ کی بلند قامت گیتا کی ولولہ انگیز کہانی

دو فٹ کی بلند قامت گیتا کی ولولہ انگیز کہانی

یہ کہانی بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کی گیتا کیپو سامی کی ہے جس کا قد محض دو فٹ ہے مگر معاشرے میں اس کی کامیابی نے اسے باقی لوگوں سے بلند تر اور بلند قامت کر دیا ہے۔

دو فٹ کی بلند قامت گیتا کی ولولہ انگیز کہانی

دو فٹ کی بلند قامت گیتا کی ولولہ انگیز کہانی

چند برس پہلے ایم بی اے کی ڈگری لے کر در در بھٹکنے والی دو فٹ کی گیتا اب لوگوں کو خود نوکریاں دیتی ہے۔گیتا کو اپنے سماج سے دردآمیز شکوہ ہے۔۔وہ کہتی ہے کہ سب لوگوں نے میری صرف شکل دیکھی میری صلاحیت کو نہیں آزمایا۔

2 2 jpg
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گیتا نے ماسٹرز ان بزنس ایڈمنسٹریشن یعنی ایم بی اے کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کو آپریٹو مینجمنٹ میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہے۔
گیتا کی عمر 31 برس ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے گیتا نے بتایا کہ وہ گھر کے حالات بہتر بنانے کے لیے ملازمت کرنا چاہتی تھی۔اس کے لیے در در اور دفتر دفتر گھومتی رہی مگر چھوٹے قد کی وجہ سے ملازمت حاصل کرنے میں کامیابی نہ مل سکی ۔گیتا کے مطابق جب کبھی وہ کہیں انٹرویو دینے کے لیے جاتی تو انٹرویو کے بعد یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ آپ کو فون پر بتا دیں گے۔مگر پھر حسب توقع کوئی کال نہ اتی۔

3 1 jpg
گیتا کے مطابق مسلسل ناکامیوں کے بعد بالاخر انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
گیتا نے طے کیا کہ وہ معذور لوگوں کو ملازمت دے گی۔
اس سوچ نے کئی معذور افراد کو گیتا کا دوست بنا دیا اور پھر انہوں نے مل کر کام شروع کر دیا۔گیتا کی ایک دوست جیوتی منی کے پاس سلائی مشین تھی۔دونوں نے مل کر ایک دکان تلاش کی اور پھر وہاں سے سلسلہ چل نکلا۔
کبھی خود ملازمت کے لیے بھٹکنے والی گیتا اپنے کپڑے کے کاروبار میں اتنی کامیاب ہو چکی ہے کہ وہ دوسروں کو ملازمت دے رہی ہے۔
اس کی دکان سے ہر وقت مشین چلنے کی آواز اتی ہے اور کپڑوں کا ڈھیر بنتا چلا جاتا ہے۔

4 jpg
گیتا کے کاروبار نے ایک تنظیم کی شکل اختیار کر لی ہے ۔اور کئی خواتین کو اپنا اپنا گھر چلانے کا سہارا مل گیا ہے۔دکان اب گارمنٹس فیکٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں کئی معذور خواتین مل جل کر کام کرتی ہیں۔
گیتا کا کہنا ہے کہ میرا خواب ہے کہ کسی بھی معذور کو اس کی جسمانی حالت کی وجہ سے کبھی کام کے لیے مسترد نہ کیا جائے جیسا کہ میرے ساتھ کیا جاتا رہا ۔وہ فخر سے بتاتی ہے کہ اب ہم ٹھکرائے جانے والے معذور افراد کو زیادہ سے زیادہ ملازمت دے رہے ہیں۔گیتا کے بقول جسمانی معذوری کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ہر کسی میں کوئی نہ کوئی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
اگر میں یہ سوچتی کہ میں معذور ہوں تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔مگر میرے پاس اعتماد کے ساتھ ساتھ مہارت بھی تھی چنانچہ میں نے گارمنٹس یونٹ شروع کیا اور اپنے جیسے لوگوں کو ملازمت دینا شروع کی۔ گیتا کے نزدیک زندگی میں کامیابی کا گر یہ ہے کہ آپ ناکامیوں یا کمیوں کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں ۔میں نے خود یہ سب کچھ کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481