حماس کے ایکشن کے بعد پیدا ہونے والی جنگی صورت حال کے باعث اسرائیل سعودی عرب تعلقات کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا،جس کیلئے امریکہ نے بڑی محنت سے ڈول ڈالا تھا۔
غزہ پر بمباری اور فلسطین پرمسلسل اسرائیلی جارحیت کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل سے ہر قسم کی بات چیت معطل کر دی ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پرتیزی سے نظرثانی کا عندیہ دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فلسطین پراسرائیلی جارحیت اور غزہ پر وحشیانہ بمباری کے بعد سعودی عرب اوراسرائیل کے مابین تعلقات کومعمول پرلانے والا امریکی منصوبہ کھٹاسئی میں پڑ گیا ہے اور سعودی عرب نے اسرائیل سے بات چیت غیر معینہ مدت کیلیے معطل کردی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاض میں دو اہم سعودی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جنگ بڑھنے کے بعد سعودی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر تیزی سے نظر ثانی کی جارہی ہے۔
خطے میں رونما ہونے والے تازہ تنازعے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کی نئی فضا بھی ہموار ہوئی ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلا فون ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو کیا کیونکہ ریاض پورے خطے میں تشدد میں اضافے کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔۔
اس حوالے سے سعودی تجزیہ کارعزیز الغاشیان نے کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا عمل پہلے تنقید کی زد میں تھا لیکن اس صرف نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔
The plan for Israel-Saudi Arabia relations fell into disrepair,اسرائیل سعودی عرب تعلقات کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا
