اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سلمٰی وحید مرادکئی غریب خاندانوں کی مالی امداد کرتی تھیں

73a72df0 f49d 4901 9d56 074e1dd5d318 jpg

 امریکہ میں مقیم نامور پاکستانی صحافی عارف الحق عارف کا خراج عقیدت

a1450bdf 8448 4a42 a0c7 741571641f9b

پاکستان کی فلمی دنیا سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ خبر انتہائی رنج و افسوس کے ساتھ پڑھی اور سنی گئی کہ پاکستان کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی بیوہ محترمہ سلمیٰ وحید مراد کا کراچی میں انتقال ہو گیا ہے۔انہوں نے سوگواروں میں ایک بیٹا عادل مراد اور بیٹی عالیہ مراد اور فلمی دنیا کے سوگواروں کو چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کی بیٹی عالیہ مراد اور بیٹے عادل مراد اور ان کے خاندان کے تمام افراد اور دوسرے سوگواروں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور حو صلہ دے۔

سلمیٰ وحید مراد اور ہم سات سال تک پریس کلب کے نزدیک سدکو سنٹر ( اپارٹمنٹس ) میں پڑوسی رہے ہیں۔سدکو سنٹر کے ٹاور بی میں ہمارے اور ان کے فلیٹ ایک ہی فلور پر تھے۔ ہمارے فلیٹ کا نمبر بی۔3اور ان کا بی۔4 تھا۔اس پورے عرصے میں ہم دونوں گھرانوں کے آپس کے تعلقات نہایت خوشگوار اور مثالی رہے اور باہمی تعاون میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔

اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتاہے کہ 2004 میں ہماری بیٹی ڈاکٹر حنا عارف کے ڈاکٹر ارشد علی سے نکاح کی تقریب کےلئے جگہ کا مسئلہ پیش آیا اور ہم کسی مناسب جگہ کی تلاش میں تھے۔محترمہ سلمی وحید مراد کو علم ہوا تو انہو ں نے پیش کش کی کہ اگر آپ کو کم جگہ درکار ہے تو میرا فلیٹ حاضر ہے، چنانچہ ہماری بیٹی کی نکاح کی تقریب انہی کے فلیٹ میں ہوئی۔

وہ ہماری اہلیہ اور ہمارے بچوں سے بھی بڑی محبت سے ملتی تھیں۔ہم نئے نئے فلیٹ میں آئے تو انہوں نے ہمارا بڑا خیال رکھا۔ہماری اہلیہ بیمار تھیں اور ان کا ہفتے میں دوبار ڈایالیسز ہوتاتھا۔ ہم دفتر میں اسائنمنٹس پر باہر ہوتے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں ہمارے بچوں کے ساتھ ساتھ وہ ان کی خبر گیری کرتیں یہاں تک جس دن ان کا گھر میں انتقال ہوا۔اس دن بھی وہ موجود تھیں اور ان کو اسپتال پہچانے کےلئے اپنے ڈرائیور کو ہمارے ساتھ بھیجا تھا۔

اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں کو معاف کرے اور ان سے راضی ہو جائے۔سلمیٰ وحید بہت سے سماجی کام بھی کرتی رہتی تھیں اور کئی غریب خاندانوں کی مالی امداد بھی کیا کرتی تھیں۔

Salma Waheed Moradkai used to provide financial assistance to poor families,سلمٰی وحید مرادکئی غریب خاندانوں کی مالی امداد کرتی تھیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481