اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مصطفی زیدی کو خراج عقیدت …. ناصر بیگ چغتائی

6ecf6bcb e2a5 4ed7 b32f d30b92fbf5f5 jpg

کہتے ہیں بڑا شاعر بڑا افسر اور حسن پرست تھا۔۔مجھے صرف اتنا اچھا لگا کہ محبت کا اسیر تھا، باقی کچھ پتہ نہیں کہ ہم کالج میں تھے اور سر انیس نے ان کی یہ نظم خاص طور سے یوم مرگ پر سنائی تھی ۔ اس میں تو درد زمانہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ممکن ہے محبت یا محبوب سے شکوہ ہو ۔۔۔شاعر ایسے کہ جوش نے بھی موت کا ماتم کیا اور فراق نے بھی

سفرِ آخرِ شب

بہت قریب سے آئی ہوائے دامنِ گُل
کِسی کے رُوئے بہاریں نے حالِ دل پُوچھا
کہ اَے فراق کی راتیں گُزارنے والو
خُمارِ آخرِ شب کا مزاج کیسا تھا

تمھارے ساتھ رہے کون کون سے تارے
سیاہ رات میں کِس کِس نے تم کو چُھوڑ دیا
بِچھڑ گئے کہ دغا دے گئے شریکِ سفر ؟
اُلجھ گیا کہ وفا کا طِلسم ٹُوٹ گیا؟

نصیب ہو گیا کِس کِس کو قُربِ سُلطانی
مِزاج کِس کا یہاں تک قلندرانہ رہا
فِگار ہو گئے کانٹوں سے پیرہن کِتنے
زمیں کو رشکِ چمن کر گیا لہُو کِس کا

سُنائیں یا نہ سُنائیں حکایتِ شبِ غم
کہ حرف حرف صحیفہ ہے ، اشک اشک قلَم
کِن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہے
بس اِس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہم
ستیزہ کار رہے ہیں ، جہاں بھی اُلجھے ہیں
شعارِ راہ زناں سے مُسافروں کے قدم

ہزار دشت پڑے ، لاکھ آفتاب اُبھرے
جبیں پہ گرد ، پلک پر نمی نہیں آئی
کہاں کہاں نہ لُٹا کارواں فقِیروں کا
متاعِ درد میں کوئی کمی نہیں آئی

( مصطفیٰ زیدی از قبائے سَاز )

Tribute to Mustafa Zaidi, famous Urdu poet,مصطفی زیدی کو خراج عقیدت .... ناصر بیگ چغتائی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481