اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زاہد مر گیا !! جمیل الرحمٰن عباسی

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8

(زاہد مہتاب ، ڈنہ بیروٹ کے انتقال کے موقع پر یہ تحریر صادر ہوئی تھی لیکن کہیں شائع نہ ہو سکی تھی ۔ آج لیپ ٹاپ میں کچھ ڈھونڈتے ڈھونڈتے سامنے آ گئی تو سوچا احباب کی خدمت میں پیش کر دوں۔۔ صاحب تحریر )

ہمارا کلاس فیلو ، ڈنہ بیروٹ کا رہائشی ، ناٹے قد کا بڑا آدمی کہ اس کا کردار بڑا تھا ۔ اس کا اخلاق اعلی تھا۔ یہ تینوں چچازاد تھے ۔ تین کی ٹولی میں آخری آصف تھا جو ابھی ’’ ہے ‘‘۔ پہلا تو ضیاء الحق تھا جس کا انتقال بہت عرصہ پہلے ہوا تھا لیکن وہ مرا نہیں تھا ۔ وہ ایک جہادی تحریک میں شامل ہو کر مقبوضہ کشمیر چلا گیا تھا اور وہاں پلگام میں جام شہادت نوش کر کے امر ہو گیا تھا ۔ ا

س کی غائبانہ نماز جنازہ میں ہم نے شرکت کی تھی ۔ جنازہ کیا تھا ایک جلسہ تھا جس میں بہت سارے مقررین نے جہاد و قتال کے فضائل بیان کیے تھے اور ضیاء الحق شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا ۔ دوسرے نمبر پر زاہد تھا ۔ اس کی چال ڈھال رنگ ڈھنگ سب سے مختلف ، نام کا نہیں بلکہ کام کا بھی زاہد تھا ۔ اسکول کے خالی پیریڈ ز میں ’’ جو جو باتیں ‘‘ ہوتیں اور بقول ممتاز حسین شاہ صاحب ’’ لانبو لڑکے ‘‘ لائق بچوں سے جو جو کچھ لکھواتے اس سب سے یہ لاتعلق رہتا ۔

نماز کا بھی پابند تھا اب نماز کی یاد آئی تو مجھے یاد آیا ۔ میٹرک کے سال میں ہم نمازِ ظہر پڑھنے ڈنہ مسجد میں جایا کرتے تھے ۔ ’’ تین کی اس ٹولی ‘‘ کے علاوہ اس گروہ میں امجد حسین ، محمد افتخار اور محمد وقار اور ان کے چھوٹے بھائی ( نام ابھی ذہن سے نکل رہا ہے ) ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے علاوہ بھی لڑکے وہاں نماز پڑھنے جایا کرتے تھے ۔ان دنوں بیروٹ میں صدام بیکری نئی نئی کھلی تھی ۔نماز سے فارغ ہو کر ہم وہاں کی اسپیشل سوغات ’’ بن جلیبی ‘‘ کھاتے اور پھر ٹہلتے ٹہلتے اسکول واپس آ جاتے ۔تو زاہد ہماری نماز اور جلیبی دونوں کا ساتھی تھا۔ خوش اخلاق اور ہنس مکھ ، کفن میں اس کا کتابی چہرہ گلاب کی طرح کھِل رہا تھا اور مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح اس کے ہونٹوں پہ کھیل رہی تھی۔

زاہد کے جنازے کے موقع پر ہم کئی کلاس فیلو جمع ہوگئے تھے قذافی ،یاسر، راشد ، افروز خان، اصغر، رشید، وقار ،نوشاد،اور میں۔قبر کے پاس کھڑے ہو کر ہم نے اپنے کلاس فیلوز کا ذکر کیا اور اس کے بعد ان میں بچھڑ جانے والوں ، شہا ب الدین اور عمران کا ذکر کیا۔ پھر ہم نے کچھ دیر زندگی کی بے ثباتی کے ساتھ موت کا اثبات کیا لیکن اس کے بعد ’’ تم کیا کرتے ہو ؟ کی آڑ میں زندگی سے جی بہلانے لگے تو موت جو شدنی ہے اس کا اتنا کم تذکرہ حیرت ہے ۔اس حقیقت سے نہ کسی کو مفر ہے نہ انکار۔ بلکہ کافر و مسلم سبھی اس کے قائل ہیں تو سبھی کو مرنا ہے:
جو زندہ ہے موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا

خیر ہم زِندوں نے شہاب الدین عرف شہابو اور عمران کو یاد کیا اور پھر اپنی مصروفیتوں میں مشغول ہو گئے ۔ آخری اطلاع تک تو مزید کسی کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ سارے ہی چلتے پھرتے کھاتے پیتے ہیں ۔اب دیکھیے کون کس کو یاد کرتا ہے۔ صبح و شام اپنوں کو مرتے دیکھ کر بھی انسان جو موت کا اقراری تو ہے اسے یقینی بالکل نہیں سمجھتا ۔ بلھے شاہ نے اس انسانی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے :

’’بلھے شاہ اَساں مرنا نہ ہی گور پیا کوئی اور ‘‘

ایک طرح سے دیکھیں تو شاہ کا یہ مصرعہ بہت آسان ہے کہ انسان دوسروں کو مرتا دیکھتا ہے تو انہیں ’’مَرَن جوگا ‘‘ جب کہ خود کو "زندہ جاوید ” سمجھتا رہتا ہے ۔اگرچہ کلاس فیلو کو مرتے دیکھ کر احساس کچھ زیادہ ہو جاتا ہے ،گویا موت بالکل پاس سے ہو کر گزری ہو۔ اپنے چچازاد محمد الماس اگرچہ ہم جماعت تو نہیں پر ہم سِن ضرور تھا کے اچانک انتقال پر بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہو گئی تھی کہ سمجھو بالکل مرتے مرتے بچا تھا، لیکن یہ بھی بہت ہی عارضی کیفیت ہوتی ہے ۔

لیکن اس شعر کی ایک دوسری توجیہ بھی کی جاسکتی ہے ۔ اس توجیہہ میں سامنے آنے والے تصور کو سامنے رکھا جائے تو موت کو یاد کرنا بھی آسان ہے اور مرجانا بھی آسان، بلکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔۔ پھر تو موت حجلہ عروسی میں قدم رکھنے سے زیادہ محبوب ہو جاتی ہے اور محترم ڈاکٹر صاحب کا اس موضوع پر لیکچر ’’ زندگی موت اور انسان ‘‘ سن کر برادر کبیر مرحوم مطیع الرحمن صاحب  بھی ، جو عمر بھر زندگی کی شان میں نظمیں اور غزلیں لکھتے رہے یہ کہہ اٹھے تھے کہ اب تو مر جانے کا جی چاہتا ہے !!

بلھے شاہ کے اس شعر کی دوسری توجیہہ یوں بنتی ہے کہ موت انسان کے ظاہری خاکی وجود کے لیے ہے اور انسان کی اصل یعنی روح کے لیے موت ہے ہی نہیں، تو بلھے شاہ کہتے ہیں کہ موت کے عمل میں ’’ ہم تو نہیں مرتے، قبر کے حوالے تو کوئی اور یعنی مٹی کا جسم ہوتا ہے ،میں کہ میری اصل روح ہے تو میں روح کی صورت زندہ رہتا ہوں ،ہاں مجھے منتقل کر دیا جاتا ہے یہاں سے کہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر عمل نیک کیے تو علیین میں ورنہ سجین میں ۔۔۔۔۔۔

یہی حقیقت اقبال نے بیان کی الفاظ شاید یہی ہیں :
فرشتہ موت کا گوچھوتا ہے بدن تیرا
تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

تو فکر موت کی نہیں کرنی روح کی کرنی ہے ۔ قلب کی کرنی ہے، اسے زندہ رکھنا ہے ،اسے پاک صاف کرنا ہے، اس پر سے کفر و معصیت اور عصیان و نسیان کے گردو غبار کو جھاڑ کر اسے اجلا بنانا ہے کہ اجالا زندگی ہے اور ظلمت موت ہے ۔ جن کے قلب وروح شفاف ہوئے، جو قلب سلیم لے کر آیا وہ نہیں مرتا بلکہ مر کر بھی زندہ رہتا ہے ۔
کسی کی آخرت کے بارے میں یقینی بات کرنے سے تو ہمیں روکا گیا ہے لیکن گمان کی سطح پر دل کہتا ہے کہ زاہد مر کر بھی زندہ ہے۔ دعا کیجے کہ یہ گمان سچا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کرے ہم سب مر کر زندہ ہو جائیں پر یہ مقام اسے ملتا ہے جو مرنے سے پہلے مر جائے، یعنی جسم و روح کی جدائی سے پہلے اپنی خواہشات اور شہوات اور نفسانی تقاضوں کو مار ڈالے ۔ وہ جو بزرگوں نے کہا کہ ’’ مُوتُو قبلَ ان تَمُوتوا ‘‘ ’ مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘ اس کا مطلب بھی یہی کچھ ہے۔ ہاں اگر زندہ رہنا ہے تو بھی ایسے رہو کہ مر کر بھی امر ہو جاؤ ۔ کوئی نیک کام کوئی خدمت خلق وملت کر جاؤ بس ایسے زندہ رہے تو سمجھو مرو گے نہیں بلکہ زندہ ہی رہو گے۔ مرنے کا وقت شاید تھوڑا ہے اور کرنے کو کام زیادہ:
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481