اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"صدر رفیق تارڑ کو میاں شریف نے استعفے سے روکا”

"صدر رفیق تارڑ کو میاں شریف نے استعفے سے روکا"

 

12 اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف کے فوجی انقلاب کے وقت ایوان صدر کا منظر کیا تھا ، اس حوالے سے عینی شاہد اور واقعات کے ایک کردار نامور تجزیہ کار عرفان صدیقی کیا کہتے ہیں ، انہی کی زبانی سنیے ۔۔

2 jpg
ایک نیوز ویب سائٹ وی نیوز کو انٹرویو میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کے پریس سیکرٹری عرفان صدیقی نے بتایا "میرے بیٹے کی شادی ہونے والی تھی دو چار دنوں بعد ۔۔اس دن وزیراعظم نواز شریف کو صدر مملکت سے ملنے آنا تھا ۔۔ میں تھوڑا مصروف تھا ،میں نے اپنے اسٹاف سے کہا کہ بھئی پرائم منسٹر آئیں گے تو ان کی کوریج کر لینی ہے اور پھر مجھے پریس ریلیز گھر بھیج دیں تاکہ میں دیکھ لوں ۔۔مگر پھر پریس ریلیز آنے میں کچھ تاخیر ہونے لگی۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس دوران وزیراعظم ایک فائل لے کے آئے اور صدر رفیق تارڑ کے گھر ان سے ملے، لیکن اس وقت کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ فائل میں کیا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ کوریج تو خیر ہو گئی ، مگر میرے ذہن میں ایسے ہی پتہ نہیں کیوں یہ بات آئی "میں نے کہا یار میں ذرا جلدی میں ہوں پریس سیکرٹری رائے ریاض سے میری بات کرا دو تو وہ خود پریس ریلیز جاری کر دیں گے ۔جب میری رائے ریاض سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ خبر چلی ہے کہ آرمی چیف کو بدل دیا گیا ہے ۔اور فلاں آرمی چیف اگئے ہیں (جنرل ضیاء الدین ) ۔۔اس تبدیلی کا ہم میں سے کسی کو علم نہیں تھا ،یہاں تک کہ خود صدر مملکت کو بھی۔

1 jpg
عرفان صدیقی نے بات اگے بڑھاتے ہوئے کہا "تو اس کے بعد میں تو نکل گیا کچھ کارڈ بانٹنے تھے ۔۔جب میں سر شام واپس آیا تو اس وقت تک انقلاب آ چکا تھا۔انقلاب کی پہلی جھلک مجھے یوں محسوس ہوئی کہ جس گیٹ سے ہم آتے جاتے تھے دروازے کھلتے تھے اور گارڈ سلام کیا کرتا تھا۔وہ گیٹ بند تھا۔۔۔وہاں کچھ فوجی کھڑے تھے ۔۔ایک ینگ لیفٹیننٹ نے کہا کہ اپ کون ہیں ؟ میں نے تعارف کرایا تو اس نے کہا کہ اپ اندر نہیں جا سکتے ۔۔میں نے کہا بیٹا میں اندر رہتا ہوں، میری فیملی اندر ہے ۔۔میرا گھر اندر ہے تو میں رات کو کہاں جاؤں گا ۔۔خیر اس نے کہا کہ پوچھنا پڑے گا۔۔پھر جہاں سے بھی پوچھا ہوگا، مجھے اندر جانے کی اجازت مل گئی ۔۔اندر جا کر دیکھا تو ٹیلی فون کٹے ہوئے تھے کسی کا کسی سے رابطہ نہیں تھا ۔۔میں نے صدر کے ملٹری سیکرٹری سے کہا یار صدر صاحب کا حال احوال پوچھتے ہیں۔تو ہم صدر تارڑ صاحب کے پاس چلے گئے۔اس دن گورنر ممنون حسین صاحب ( بعد میں صدر مملكت ) کھانے پر آئے ہوئے تھے۔وہ اسی وقت عشائیےسے فارغ ہوئے تھے ۔تو ہم بیٹھ گئے اسی دوران مشرف صاحب کا فون آیا ، انہوں نے تارڑ صاحب سے کہا کہ آپ میرے ملنے سے پہلے کوئی فیصلہ نہ کریں۔خیر یہ لمبی کہانی ہے ۔
پہلے اپ کو یہاں کچھ نہ کیجئے گا میں اؤں گا تو بات کروں گا ۔

خیر یہ لمبی کہانی ہے ،لیکن ہم دو تین دن تو محاصرے کی کیفیت میں رہے، صدر مملکت سمیت، نہ باہر جانا ہے نہ باہر کسی سے رابطہ ہے، عجیب سی الجھن ہوتی تھی۔
عرفان صدیقی کے مطابق "اس دوران تارڑ صاحب نے یہ فیصلہ کر لیا کہ مجھے مستعفی ہو جانا چاہیے۔انہوں نے مجھے بلا کر ایک لیٹر ڈکٹیٹ کرایا۔چیف جسٹس کے نام ۔کہ یہ غیر آئینی اقدام ہوا ہے اور آپ اس کا نوٹس لیں ۔یہ بھی طے ہوا کہ صدر جمعہ کے بعد پریس ٹاک کریں گے اور خود صورت حال سے اگاہ کریں گے۔لیکن اسی دوران ان کا رابطہ بڑے میاں صاحب یعنی میاں محمد شریف سے ہوا۔تو انہوں نے کہا کہ” نو”۔۔۔ جب تک ہم نہیں کہتے نہ تو اپ مستعفی ہوں گے اور نہ ایوان صدر چھوڑنا ہے۔ابھی ہم بیٹھ کے اس معاملے پر غور کرتے ہیں پھر آپ کو بتاتے ہیں تو وہ خط بھی ٹل گیا اور استعفعی بھی ۔۔۔پھر انہوں نے دو تین سال اس عہدے پر کام جاری رکھا۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481