اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سفینہ ۔۔۔سنت الٰہی یہ ہےکہ نبی کےکافر و نافرمان بیٹےکی بھی نجات نہیں

سفینہ ۔۔۔سنت الٰہی یہ ہےکہ نبی کےکافر و نافرمان بیٹےکی بھی نجات نہیں

"اجالے اور ہالے” نامور صحافی جناب معین کمالی کی تصنیف ہے۔جس میں انبیاء کرام کے واقعات کے علاوہ خلفائے راشدین ،چند صحابہ کرام اور بزرگان دین کے قصے اور کچھ سبق آموز داستانیں شامل ہیں۔
یہ مضامین اس قدر دلنشیں انداز اور دلچسپ پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں کہ ہر عمر اور ہر علمی سطح کا قاری ان واقعات کے سحر میں کھو جاتا ہے۔”کوہسار نیوز” کے قارئین کے لیے انشاءاللہ ہر جمعۃ المبارک کو اس کتاب میں سے ایک مضمون شامل اشاعت کیا جائے گا۔یہ کتاب فرید پبلشرز اردو بازار کراچی نے شائع کی ہے جو نہایت مناسب ہدیے پر مذکورہ پبلشر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

طوفان نوح علیہ السلام ۔۔۔ معین الدین کمالی

یہ کون لوگ تھے جو جنگل سے بڑی بڑی لکڑیاں کاٹ کر لاتے،ایک میدان میں جمع کرتے اور کئی دن تک انہیں آروں سے چیر کر تختے بناتے رہے۔جب ضرورت کے مطابق تختے تیار ہوگئے تو انہوں نے مختلف تختوں کو جوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی۔آس پاس کوئی سمندر یا دریا نہیں تھا جس میں اتنی بڑی کشتی چلائی جا سکتی۔یوں بھی یہ لوگ جسمانی طور پر کمزور معاشی لحاظ سے نہایت خستہ حال اور معاشرے میں کسی بلند منصب و مقام کے حامل نہ تھے۔

قریب سے گزرنے والے ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ تو واقعی دیوانے ہو گئے ہیں۔لوگو! دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ یہ عقل و خرد سے بالکل بیگانے ہیں، اسی لیے تو ہم انہیں منہ نہیں لگاتے تھے اور اب ان کی مت بالکل ہی ماری گئی ہے۔یہ خشکی پر کشتی چلانے جا رہے ہیں۔اس جگہ کشتی بنا رہے ہیں جہاں قرب و جوار میں پانی کا نام نشان تک نہیں۔اور ان کی کشتی اتنی چھوٹی بھی نہیں کہ بارش ہونے پر کسی گڑھے میں جمع ہونے والے پانی میں اسے چلایا جا سکے

۔ڈھائی تین سو گز لمبی اور پچیس تیس گز بلند اس کشتی کو یہ کسی دور دراز سمندر تک کھینچ کر بھی نہیں لے جا سکتے۔اور نہ یہ اتنے بڑے کاروباری ہیں کہ بیرونی آرڈر پر کشتی بنانے لگے ہوں۔یہ تو معاشرے کے ستائے اور مقتدر طبقات کے ٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں۔کشتی سازی میں ہمہ تن مصروف لوگ بڑی متانت اور سنجیدگی سے اپنا مذاق اڑانے والوں کو جواب دیتے کہ ہمارا یہ کام تمہیں آج بڑا مضحکہ خیز نظر آرہا ہے لیکن جلدہی معلوم ہو جائے گا کہ اس طنز و استہزاء کے اصل مستحق کون ہیں۔

ایک روز تو ان کمزور ضعیف لوگوں نے حد کر دی

ایک روز تو ان کمزور ضعیف اور فقر و فاقہ سے نڈھال لوگوں نے حد کر دی۔وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے کشتی میں بٹھانے لگے۔ہیں۔۔یہ کیا ؟اب تو وہ ایک ایک کر کے چرند پرند اور تمام جانوروں کے جوڑے بنا بنا کر انہیں بھی اپنی کشتی میں دھکیل رہے ہیں۔آخر انہیں ہوا کیا ہے؟عقل حیران و فہم پریشان ہے۔آنکھیں صرف دیکھ سکتی ہیں لیکن ہر ایک کا دماغ سوچنے سے عاجز ہے۔

آج کشتی والوں کے ان پر ہنسنے کا دن تھا
خواتین چولہے جلانے اور کھانے پکانے میں مصروف تھیں کہ اچانک ان سب نے خوفزدہ ہو کر چیخنا شروع کر دیا ۔وہ گھر چھوڑ چھوڑ کر دیوانہ وار میدانوں کی طرف دوڑ پڑیں۔ان کے چولہے آگ کے بجائے پانی اگلنے لگے اور اس کی سطح بلند سے بلند تر ہونے لگی۔مکان اور درخت،ٹیلے،انسان،مال مویشی سب اس پانی کی زد میں آگئے۔شہر کے لوگ بھاگ بھاگ کر پہاڑوں کی بلند چوٹیاں تلاش کرنے اور ان پر پناہ لینے لگے۔آج کشتی والوں کے ان پر ہنسنے کا دن تھا۔

بلند و بالا چوٹی پر جانے والوں میں ایک نوجوان کنعان بھی تھا۔کشتی میں بیٹھے باپ نے اسے پکارا۔کنعان یہاں آ جاؤ،پہاڑ کی بلندی تمہیں پانی کے طوفان سے بچا نہ سکے گی۔کفر اور عمر کی سرکشی نے اس کی زبان سے کہلوایا: ابا جان مجھے اپ کی پناہ نہیں چاہیے۔ اس فلک بوس چوٹی کی پناہ میرے لیے کافی ہے۔اچانک ایک ہولناک موج آئی اور اسے تنکے کی طرح بہا لے گئی۔پانی کے تیز رفتار دھارے زمین کے اندر اور زمین کی سطح ہر جگہ سے نکل رہے تھے۔ہل رہے تھے،اچھل رہے تھے اور مچل رہے تھے کہ اپنی راہ میں آنے والی بڑی سے بڑی شے کو بھی بہا کر لے جائیں۔اس کے بعد تو قدرت الٰہی اور بھی جوش میں آگئی۔

آسمان نے بھی اپنے ذخیرہ ہائے آب کے تمام دہانے کھول دیے۔دھواں دھار بارش ہوئی اور دائیں بائیں اوپر نیچے ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ساری زمین زیر آب آگئی۔کرہ ارض پر ہر جگہ موجود اس پانی کے اندر خشکی کی صورت صرف ایک ہی چیز نظر آرہی تھی۔یہ وہی کشتی تھی جس میں چند افراد اور جانوروں کے کچھ جوڑے سوار تھے۔

ہر ذی روح کے غرقاب ہونے کے بعد پانی خود بخود کم ہونے لگا
ان اہل سفینہ کے سوار ہر ذی روح کے غرقاب ہونے کے بعد پانی خود بخود کم ہونے لگا۔یہاں تک کہ یہ عظیم کشتی جودی نامی ایک پہاڑ پر جا کر ٹک گئی۔اہل سفینہ نیچے آگئے۔انہوں نے عالمگیر ہلاکت خیزی کے بعد اس سر زمین کو از سر نو آباد کیا اور ایک نئی دنیا بسائی۔

لوگو! یہ آدم ثانی حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ماننے والے تھے جنہیں اللہ نے پانی کے عذاب سے بچا لیا تھا۔حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں کم و بیش ساڑھے نو سو سال تک زندگی گزاری۔وہ اول الرسول کی حیثیت سے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت و گناہوں سے توبہ کی تلقین کرتے رہے۔ لیکن قوم کے کافر سرداروں نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کا ہر طرح مذاق اڑایا۔وہ کہتے تھے کہ نوح تو ہماری طرح ایک انسان ہے،ایک بشر ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کسی آدمی کو اپنا رسول بنائے۔ایسی بات تو ہم نے اپنے بزرگوں سے کبھی نہ سنی نہ دیکھی۔شاید یہ شخص کسی جنون میں مبتلا ہو گیا ہے۔انہیں اس بات پر بھی تعجب تھا کہ اللہ کے رسول کے ساتھ حیثیت،مال و متاع اور منصب و اقدار والے لوگوں کے بجائے معاشرے کے گرے پڑے اور کمزور ترین لوگ ہیں۔

جب بغاوت و سرکشی حد سے گزر گئی
قوم کی بغاوت و سرکشی حد سے گزر گئی تو اللہ نے پانی کا عذاب نازل کر کے اسے تباہ و برباد کر دیا۔صرف سفینہ نوح میں جمع ہونے والے اس عذاب سے محفوظ رہے۔حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان بھی نہ بچ سکا اس لیے کہ وہ کافروں اور ظالموں میں سے تھا۔
لوگو! سن رکھو اور جان لو کہ رشد و ہدایت اور کامیابی و کامرانی صرف طبقات اعلی و بالا کی میراث نہیں ہے۔یہ صرف اللہ کی اطاعت اور انبیا کی پیروی سے ملتی ہے۔اور سنت الٰہی یہ ہے کہ نبی اور رسول کا بیٹا بھی کافر و نافرمان ہو تو اس کی نجات نہیں ہے۔صرف وہی اہل ایمان ابدی نجات کے مستحق ہیں جنہوں نے نیک اعمال بھی کیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481