اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تحریک انصاف کے رہنما اچانک حلفیہ بیانات کیوں دینے لگے؟

671baa8f 9b16 4578 8d46 71e23d424b27

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی عثمان ڈار کے انٹرویو اور نو مئی کے واقعات کے لیے عمران خان کو ذمہ دار قرار دیے جانے کے بعد کئی دیگر رہنماؤں کے بیانات سامنے آئے ہیں جو قران پر حلف لے کر یہ کہتے ہوئے سنے جا رہے ہیں کہ انہیں پارٹی چیئرمین نے کبھی بھی اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانے کی کوشش نہیں کی اور نہ بالواسطہ طور پر انہیں ایسا کوئی پیغام دیا گیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی مزید رہنماؤں اور کارکنوں کو عثمان ڈار کا راستہ اختیار کرنے سے روکنے کے لیے اپنائی جا رہی ہے اور پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ روزانہ ایک دو اس قسم کے بیانات سامنے آتے رہیں تاکہ ایک طرف کارکنوں کا گرتا ہوا مورال بہتر ہو سکے تو دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف اور دیگر رہنماؤں کیخلاف 9 مئی کے حوالے سے ذیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

2e311003 6df6 4f64 b972 077e8ed55a15 jpg
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک جن رہنماؤں کے بیانات سامنے ائے ہیں ان میں زیادہ تر نو مئی کے موقع پر عسکری تنصیبات پر حملوں کے الزام سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات میں مطلوب ہیں اور متعلقہ ادارے انہیں تلاش کر رہے ہیں۔
اس قسم کے بیانات دینے والوں میں سابق وفاقی وزیر  اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علی نواز اعوان ،سابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی ، اور سابق وزیر مملکت اور عمران خان کے معتمد زلفی بخاری کے علاوہ دو خواتین لیڈرز زرتاج گل وزیر اور کنول شوزب بھی شامل ہیں جنہوں نے قران پاک سامنے رکھ کر یا حلف لیتے ہوئے یہ بیان دیا ہے کہ انہیں عمران خان نے تشدد پر اکسانے کے حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

Why PTI leaders suddenly started giving sworn statements?تحریک انصاف کے رہنما اچانک حلفیہ بیانات کیوں دینے لگے؟


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481