اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

باغ عدن سے دور ۔۔ حضرت آدم اور اماں حوا کا قصہ

1e150f91 60f3 4bd0 90a8 1d8fac073e52 jpg

"اجالے اور ہالے” نامور صحافی جناب معین کمالی کی تصنیف ہے۔جس میں انبیاء کرام کے واقعات کے علاوہ خلفائے راشدین ،چند صحابہ کرام اور بزرگان دین کے قصے اور کچھ سبق آموز داستانیں شامل ہیں۔
یہ مضامین اس قدر دلنشیں انداز اور دلچسپ پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں کہ ہر عمر اور ہر علمی سطح کا قاری ان واقعات کے سحر میں کھو جاتا ہے۔”کوہسار نیوز” کے قارئین کے لیے انشاءاللہ ہر جمعۃ المبارک کو اس کتاب میں سے ایک مضمون شامل اشاعت کیا جائے گا۔یہ کتاب فرید پبلشرز اردو بازار کراچی نے شائع کی ہے جو نہایت مناسب ہدیے پر مذکورہ پبلشر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

fc88bc41 8467 4eb7 9cd6 a94a19a3a2c2 jpg

باغ عدن سے دور
باغ عدن کا نہایت حسین و جمیل منظر ہے۔شفاف نیلےآسمان پر تیرتی ہوئی بدلیاں ،سرسبز و شاداب زمین پر جا بجا پھلوں سے لدے ہوئے درخت ان کی ٹہنیاں جھولتی اور گنگناتی ہوئی عطربیز ہوائیں ،دور دور تک ان کی مہک پھیلاتی ہوئی اور جن کے ثمر اپنی خوشبو ،اپنی بناوٹ، اپنے رنگوں اور اپنے ذائقوں میں بے مثال۔

یہاں بل کھاتے بہتے ہوئے جھرنے بھی ہیں اور چہچہاتے ہوئے رنگ برنگے ننھے ننھے پرندے بھی۔ہر شے اپنی تخلیق میں مجسم کمال اور ہر ایک کا حسن لازوال ہے۔اس باغ میں آسائش و آرام اور عیش و سکون کی تمام دولتیں وافر مقدار و تعداد میں میسر ہیں۔ان ہواؤں اور فضاؤں میں اٹھلاتا، بل کھاتا ہوا میاں بیوی کا یہ جوڑا تمام خداوندی نعمتوں سے فیضیاب ہو رہا تھا۔

یہاں وہ دونوں کتنے دن، کتنے مہینے یا کتنے سال سے تھے خود انہیں بھی معلوم نہ تھا۔مصیبت اور تکلیف کا زمانہ ہوتا تو ایک ایک پل کاٹنا دشوار ہو جاتا۔یہاں تو عیش ہی عیش اور سرور ہی سرور تھا۔ہر وہ شے حاضر و موجود تھی جو خیال و گمان میں آ سکتی تھی یا جس کا تصور و تخیل بھی حواس خمسہ کے بس سے باہر تھا۔خوش قسمت جوڑا وقت کو گرفت میں لانے کی کوشش کرتا۔ان گنت لمحے اور ساعتیں دنوں اور برسوں میں تبدیل ہوئے بغیر گزرتے چلے گئے۔

خراماں خراماں وقت کی کسی اکائی میں وہ ایک درخت کے قریب پہنچ گئے جس کا جاہ و جلال اور حسن و جمال نگاہوں کو خیرہ کر دینے والا تھا۔وہ بھول گئے کہ باغ کے مالک نے انہیں اس پرفریب سحر انگیز درخت کے قریب آنے اور اسے چھونے سے منع کیا تھا۔بے اختیار ان کے دل میں گمان گزرا کہ شاید اس کا لذیذ و شیریں پھل کھا کر انہیں حیات ابدی اور تمام جہانوں کی پیش بہا نعمتیں مل جائیں۔

کیف و کم کے اسی عالم میں ان کی بشری فطرت عود کر آئی جس نے ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا کر دی۔انہوں نے عبدیت کی چاہ میں اس درخت کا پھل چکھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لباس جنت سے محروم ہو کر لباس فطرت میں رہ گئے ۔اور دونوں کے پوشیدہ محاسن و خصائص ایک دوسرے پر عیاں ہو گئے۔

معا” انہیں اپنی لغزش کا احساس ہوا اور وہ اپنی خطا و نسیان کو کوسنے لگے۔پھر ان پر یہ بھید بھی کھل گیا کہ انہیں باغ عدن کی حسین وپرکشش راہ داریوں سے ورغلا کر یہاں تک لانے والا ان کا وہی رقیب روسیاہ ہے جو ان کے علم و فضل اور شرافت و نجابت سے بیر اور حسد رکھتا تھا۔ اور جو اس ٹوہ میں تھا کہ ان دونوں کو غفلت کا ذرا جھونکا آئے اور وہ مردود ازل اور لعین ابد اپنا کام دکھا جائے۔

1e13b3a8 cdc9 423b 9e9c 229f80a629c7 jpg
جی ہاں،یہ انسان کا اولین دشمن شیطان ملعون و مردود تھا جسے دنیا اور ابلیس کے نام سے جانتی ہے اور خبیث کہہ کر پکارتی ہے۔ اس کا اصل نام تو عزازیل تھا لیکن بے جا فخر و تکبر نے اسے فرشتوں کی صف سے نکال کر ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ کر دیا۔وہ جن تھا اور اس کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور اس کے برعکس آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا کر کے اپنی صفت علم سے نوازا تھا۔

قرآن کی زبان میں یہ "علم الاسماء”یا اشیائے کائنات کے ناموں اور کاموں کا علم تھا۔جس شے یا وجود میں اللہ اپنی روح پھونک دے اور جس پر اپنا علم و فضل نچھاور کر دے وہ مجسمہ بے جان و بے حقیقت نہیں رہتا۔ بلکہ صفات الہی کا پرتو بن جاتا ہے۔قادر مطلق نے آدم کے پتلے کو اپنے بعد سب سے مکرم و محترم اور اپنی مخلوق کا اولین شاہکار قرار دے کر تمام جن و ملائک کو اس کا مطیع تابع فرمان ہونے کا حکم دیا۔

عزازیل نے احکم الحاکمین کے اس حکم سے سرتابی کی۔اس کا خیال تھا کہ آگ کو مٹی پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔لہذا وہ اپنے سے کمتر وجود کے آگے سر تسلیم خم کیوں کرے۔اسی عداوت و سرکشی کی پاداش میں وہ عزازیل کے مرتبے سے گر کر ابلیس لعین قرار پایا جس کے لغوی معنی ہی انتہائی مایوس و نامراد اور لعنت زدہ وجود کے ہیں ۔اپنی اسی ابدی ذلت و خواری کا بدلہ لینے کے لیے اس نے موقع پا کر جنت کے باغ عدن میں آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کو ممنوعہ شجر کا پھل کھانے کے لیے ورغلایا تھا۔

شیطان نے جان بوجھ کر بغاوت اور غلطی کا ارتکاب کیا تھا۔جبکہ آدم و حوا سے جو خطا و لغزش سرزد ہوئی وہ نسیان کی بنا پر اتفاقیہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ اپنے غرور اور گھمنڈ کے باعث شیطان نے توبہ کر کے بارگاہ الہی کی جانب رجوع کرنا پسند نہ کیا۔ جبکہ آدم و حوا کو اپنے سہو کا خیال آتے ہی ندامت نے آن گھیرا اور انہوں نے رب کائنات کے حضور اپنی بندگی اور شرمندگی کا اظہار یوں کیا۔ربنا ظلمنا انفسنا۔۔۔۔۔۔اے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے،اگر آپ نے ہمیں معاف اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقینا خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔

حکم الٰہی کو ماننے والا ملک و بشر اور نہ ماننے والا شیطان و شرر ہے
حضرت آدم علیہ السلام روئے زمین پر تشریف لانے والے پہلے بشر تھے۔ اسی لیے آپ کو ابوالبشر کہا جاتا ہے۔آپ ہی سے بنی نوع انسان کا آغاز ہوا۔اور آپ کی تخلیق کیسے ہوئی اس کرہ ارض پر کب آئے اور کس طرح زندگی گزاری۔۔ اس تفصیل میں جانا اگر ہماری عقل و فہم اور عمل و کردار کے لیے ضروری ہوتا تو اللہ کی ذات علیم و خبیر ہمیں اس سے ضرور آگاہ کرتی۔جتنا اس نے ہمیں بتایا اور سکھایا،وہی ہمارے لیے کافی ہے اور یہی ہمارا جز و ایمان ہے کہ اصل اہمیت حکم الٰہی کی ہے۔اسے ماننے والا ملک و بشر اور نہ ماننے والا شیطان و شرر ہے۔آگ، ہوا ،پانی یا مٹی میں سے کسی کی اپنی کوئی حقیقت یا مرتبت نہیں۔خالق ارض و سما ان میں سے جس کو جو عزت اور مقام ودیعت فرما دے وہی اس کی حیثیت ہے۔

مٹی سے پیدا ہونے والے آدم اطاعت خداوندی کی بناء پر اشرف المخلوقات کے نقیب قرار پائے۔اور آگ سے جنم لینے والا برسہا برس عبادت الہی میں گزارنے والا عزازیل تکبر اور نافرمانی کے باعث قیامت تک ذلت و نفرت کی علامت بنا دیا گیا۔

داستان باغ عدن کا حاصل
قصہ آدم و ابلیس قرآن و حدیث میں جا بجا درج ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ فضیلت و بلندی کا اصل معیار حکم الٰہی کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔شیطان ہمہ وقت انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے۔خلافت الٰہیہ کا مدار کثرت ذکر و شغل سے زیادہ علم و فہم کے کمال میں ہے اور خلافت ارضی کے لیے حضرت آدم علیہ السلام کو دیا جانے والا علم ضروری ہے۔عدل و قانون اور انتظام و انصرام اس خلافت کے بنیادی ستون ہیں۔ جن کے لیے عقل و شعور اور تمیز و اختیار کی خصوصیات کا حامل ہونا لازمی ہے۔ اسی لیے مٹی کا پتلا ہونے کے باوجود یہ تخلیق آدم کی اساسی اجزاء قرار پائے۔

داستان باغ عدن کا حاصل یہ ہے کہ خطا و نسیان کا صدور ہر فرد و بشر سے ممکن ہے لیکن وہ اس پر اڑے رہنے اور جم جانے کے بجائے صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے تو پہلے سے زیادہ اعلیٰ مراتب پر فائض ہو سکتا ہے۔اس دنیائے فانی میں بھی اور جہاں لافانی میں بھی جہاں باغ عدن جیسے کئی گلستان رنگ وبو بنی نوع آدم کے منتظر ہیں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481