کوہسار نیوزرپورٹ
ایک طرف یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو بعض قریبی ساتھیوں نے فی الوقت پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب ان کے برادر خورد اور سابق وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ لاہور میں ان کے آبائی حلقے میں بد سلوکی کے واقعے نے لیگی قیادت کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے کہ نواز لیگ کے لیے طاقت کے سب سے بڑے مرکز پنجاب کے مرکز لاہور میں عوام کے اندر اتنا اشتعال پایا جاتا ہے تو دیگر صوبوں اور علاقوں میں انتخابی مہم کا عوامی رد عمل کیا ہوگا ؟یہ جاننے کے لیے سیاسی تجزیہ کار ہونا ضروری نہیں ہے۔
واضح رہے کہ شہباز شریف کے ساتھ بد سلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔اگرچہ مین سٹریم میڈیا اسے دکھانے سے احتراز برت رہا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ہر طرف پھیلائے گئے 45 سیکنڈ کے اس ویڈیوکلپ نے مسلم لیگ نون کو ایک ایسے مرحلے پر چیلنج سے دوچار کر دیا ہے جب لیگی رہنما اپنے قائد کے استقبال کے لیے عوام کو متحرک کر رہے ہیں اور اس سلسلے کا پہلا جلسہ گزشتہ روز لاہور میں مریم نواز نے کیا۔
نواز شریف کی استقبالی مہم کا دوسرا جلسہ خود شہباز شریف کی سربراہی میں ہوا اور اسی روز ان کی گاڑی کو روک کر ان کے ساتھ نازیبا اور افسوسناک سلوک کیا گیا۔
شہباز شریف گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہیں جبکہ ونڈ سکرین ٹوٹی ہوئی ہے
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف بے بسی کے عالم میں گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہیں۔بڑی تعداد میں نامعلوم افراد اشتعال کے عالم میں مغلظات بک رہے ہیں اور انہیں گاڑی سے باہر نکالنے کو کہہ رہے ہیں جبکہ سابق وزیراعظم کے سیکیورٹی گارڈ بے بسی سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں ۔اس دوران بعض لوگ مشتعل افراد کو اس حرکت سے باز رہنے کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا تھا کہ نواز لیگ کو بدنام کرنے کے لیے یہ "جعلی” ویڈیو پھیلائی جا رہی ہوگی تا ہم اب بعض سینئر تن تجزیہ کاروں سمیت خود کئی لیگی رہنما بھی دبے لفظوں اس واقعے کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ چند مشتعل اور شرپسند عناصر کی کارروائی ہے۔
کیا اس کارروائی میں نواز لیگ کا اندرونی گروپ ملوث ہے ؟
سوشل میڈیا پر ایک سازشی تھیوری بھی زیر گردش ہے جس کے مطابق شہباز شریف کے ساتھ یہ سلوک دراصل نواز لیگ کی اندر کی کاروائی ہے۔سازشی تھیوری کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ طاقتور حلقے نواز شریف کو اب بھی آئندہ حکومت میں بطور وزیراعظم قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور 18 ماہ کے اقتدار سمیت سابق تجربے کی بنیاد پر شہباز شریف ہی فیورٹ قرار دیے جا رہے ہیں لہذا عوامی سطح پر ان کی مقبولیت کا پردہ چاک کرنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی تاکہ بطور آپشن ان کا امکان ختم کیا جا سکے۔ تاہم اس سازشی تھیوری کو زیادہ پزیرائی نہیں مل سکی کیونکہ اس واقعے سے کسی شخصیت کو نہیں بلکہ نواز لیگ کو بطور جماعت نقصان پہنچا ہے۔
ؐMishap with Shahbaz Sharif, a big blow for Nawaz League, Nawaz Sharif,شہباز شریف سے بدسلوکی کا واقعہ نوازلیگ کیلئے بڑا دھچکا

