وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ ہڑتالوں اور افراتفری سے مسائل حل نہیں ہوتے مزید الچھ جاتے ہیں ۔ کام کریں اور عزت پائیں ،ایماندار لوگوں کو آگے لا رہے ہیں اس سے مجموعی طور پر بہتری آئے گی ۔سردار ظفر خان کو چیئرمین سی بی آر لگایا جو بس کے ذریعے راولاکوٹ جاتے ہیں ایسے لوگ رول ماڈل ہیں جو حقیقی معنوں میں نظام کو ٹھیک کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
بدھ کے روز عوامی وفد سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ کتاب کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں آئین اور قانون میں جو درج ہے وہی ہماری گائیڈ لائینز ہیں، اس کے علاؤہ کچھ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، اس ملک میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی اضافی واپس لیا گیا ہو، مگر میں نے یہ مشکل فیصلہ کیا اور بجلی کے بلوں کی قیمت میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دیا ۔
اسی طرح جب اقتدار میں آیا تو آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا تھا میں نے فوری کابینہ کا اجلاس بلایا اور فوری طور پر آٹے میں اضافے کو بھی عوام کے وسیع تر مفاد میں واپس لیا ۔انہوں نے کہا کہ جب تک اقتدار میں ہوں عوام کے ٹیکس کے پیسے کی ایک ایک پائی کی حفاظت کروں گا ،وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات ڈیڑھ کروڑ سے کم کر کے پندرہ لاکھ کر دئیے ہیں۔اپنی ڈی جی کی پوسٹ ختم کر کے خوراک کے محکمے کو دی تاکہ محکمہ زیادہ فعالیت سے لوگوں کی خدمت کر سکے ۔
تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی ایسے اخراجات نہ کریں جو تعیش میں آتے ہوں ،خود بھی پرائیویٹ گاڑی استعمال کرتا ہوں ،بھمبر دو مرتبہ گیا دونوں مرتبہ اپنی پرائیویٹ گاڑی میں گیا ،یہ جو فنڈز کی بچت کر رہا ہوں یہ عوام کی فلاح وبہبود ہر خرچ کرون گا ،ریاست کے لوگوں کی فلاح میں میری فلاح ہے اور اس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لاؤں گا ۔
"Work and get respect" Azad Kashmir Prime Minister's advice to the strikers, "کام کریں اور عزت پائیں" وزیراعظم آزاد کشمیر کا ہڑتالیوں کو مشورہ
